مضامین

حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی

یوسف ندیم
ٹھیک دوبرس پہلے اسی دن یعنی 2016 کے جولائی مہینے کا8 تاریخ تھا کہ ترال سے تعلق رکھنے والے کم عمر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کو کوکرناگ کے بمڈرو علاقے میں دو ساتھیوں سمیت جان بحق کیا گیا۔ جونہی یہ خبر آنی شروع ہوئی تو لوگوں کی بڑی تعداد جوق در جوق برہان وانی کے آبائی علاقے ترال کی طرف کوچ کرنے لگے تھے، جن میں زیادہ تر کمر عمر بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ مختلف علاقوں سے آئے یہ لوگ سکوٹروں، بائیکوں، چھوٹی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں میں آنے لگے۔ برہان وانی کی نعش اگر چہ انتظامیہ نے اُسی شام یعنی8 جولائی کو وارثین کے حوالے نہیں کیا تھا تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ترال کے قصبے میں جمع ہو کر رات بھر مقامی مساجد کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر گذری، ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے جان بحق ہوئے حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کے گھر کے سہن میں ہی رہنا پسند کیا، اتنا ہی نہیں دیگر علاقوں سے آئے نوجوانوں نے مساجدوں کے ساتھ ساتھ برہان وانی کے گھر کے سہن میں زبردست نعرہ بازی کر کے پورے علاقے کو ماتم کدہ بنایا تھا۔
قریباً رات کے ڈھائی پونے تین بجے جب حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی میت ان کے گھر لائی گئی تو وہاں ایک الگ سی کیفیت طاری ہوئی تھی اور ایک زبردست احتجاج کے ساتھ ساتھ نعرے بازی ہونی شروع ہوئی تھی، مسجدوں اور سڑکوں پر رات گذرنے والے لوگوں کو جب اس بات کی جانکاری ہوئی کہ برہان وانی کی میت ان کے گھر لائی گئی تو ہر طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے ہونے لگنے لگے تھے اور لوگ جوق در جوق برہان کے گھر آنے لگے تھے، اس دوران برہان کے گھر میں زبردست بھیڑ جمع ہو گئی اور لوگ مکان کے سہن کے ساتھ ساتھ سڑک پر بھی جمع ہو گئے اور صبح کے وقت تک وہاں ہی قیام کر کے زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تھا ،تاہم صبح جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی میت کو ترال کے عید گاہ میں لایا جا رہا تھا تو اس وقت بھی زبردست نعرہ بازی ہوئی اور لوگوں کی زبردست بھیڑ تھی، ہر طرف لوگ چھوٹے ، بڑے، بزرگ، عورتیں اور بچے عید گاہ کی طرف بڑنے لگے تھے، جب برہان کی میت کو عیدگاہ پہنچایا گیا تو نماز جنازہ کے لئے گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا گیا، اس دوران مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ دور دور سے ہزاروں میں لوگ عید گاہ کی طرف آنے لگے۔ اس طرح سے لوگوں کا سمندر عیدگاہ ترال کی طرف اُمنڈنے لگا تھا۔
لوگوں کی بھیڑ اتنی ہونی لگی کہ جنازہ کا وقت جو پہلے11 بجے مقرر کیا گیا کو تبدیل کر کے دو گھنٹے پہلے ہی یعنی 9 بجے ہی رکھنا پڑا تھا، ٹھیک 9 بجے پہلا جنازہ پڑھا گیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، اس کے بعد تقریباً دن بھر متعدد بار نماز جنازہ پڑھے گئے جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ برہان وانی کے نماز جنازہ میں شرکت کے لئے تقریباً وادی کے سبھی اضلاع کے لوگ شریک ہوئے۔
اس دوران انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے ساتھ ساتھ دوسرے اضلاع میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا تھا، جس دوران پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی شہریوں کے جان بحق ہونے کی خبر آتے ہی پورے کشمیر میں زبردست احتجاج ہونا شروع ہوا، اس طرح سے کشمیر کے سبھی اضلاع میں شہری ہلاکتوں پر احتجاج ہونا شروع ہوا تھا۔ اس دران وادی میں انتظامیہ نے موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل رکھا تھا ۔
حکومت نے شمال و جنوب میں احتجاجی لہرپیدا ہونے کے چلتے وادی کے سبھی 10 اضلاع میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا۔ اتنا ہی نہیں انتظامیہ نے سرینگر میں کئی اخباروں کی اشاعت پر بھی روک لگا دی۔ انتظامیہ نے کئی پرنٹنگ پریسوں کو باضابطہ بند کرنے کے لئے کہا تھا تاہم بعد میں اخبار مالکان نے احتجاج کے طور پر کئی روز تک اخبار نہ چھاپنے کا فیصلہ لیا تھا۔ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اُٹھایا گیا تو مجبوراً ریاستی حکومت کو ایک بڑا جھوٹ کہنا پڑا کہ وادی میں اخبارات کی اشاعت پر کوئی پابندی نہیں کی گئی۔حالانکہ اُس وقت حکومت کے ترجمان اور ایک سینئر وزیر نے پہلے ایک بیان میں کہا تھاکہ وادی میں موجودہ سنگین حالات کے پیش نظر سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لانا پڑا جس کے چلتے حکومت نے اخبارات کی اشاعت پر بھی فی الحال روک لگا دی۔ اس کے بعد جب اخبار والوں نے اخباروں کی اشاعت بند کی تو سرکار کو لینے کے دینے پڑے اور وزیراعلیٰ کے آفس سے اخبار والوں کو مسیج آگئی کہ وہ اخباروں کی پھر سے اشاعت شروع کریں تاہم اخباروالوں نے پہلے اخبارات کی اشاعت پر روک لگانے کا معاملہ ایک میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے سامنے لایا جس پر وزیراعلیٰ نے معذرت کا اظہار کیا اس کے بعد تین روز کے بعد پھر سے باضابطہ اخباروں کی اشاعت شروع ہوئی تھی۔