اِسلا میات

حصول علم کی اہمیت قرآن وحدیث کی روشنی میں

حصول علم کی اہمیت قرآن وحدیث کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد وقاص
علم حاصل کرنا ہرمسلمان پرفرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضورنبی کریمﷺ پرجو سب سے پہلی وحی بھیجی اس میں آپﷺکو’’ اقراَ‘‘ یعنی ’’ پڑھنے‘‘ کاحکم دیاگیا۔ ارشاد خداوندی ہے۔ پڑح! اپنے رب کے نام سے جس نے سب کوپیداکیا جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھ اور تمہارارب ہی سب سے بڑاکریم ہے، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، انسان کووہ علم سکھایا جووہ نہیں جانتاتھا‘‘ س لئے معلم انسانیت حضورنبی کریم اللہ تعالیٰ سے مال ودولت میں زیادتی، جاہ ومنصب اور دنیاوی زندگی کی نہیں بلکہ صرف اور صرف’’ علم ‘‘ میں اضافے کی دعا مانگتے ہیں ’’ اے اللہ! میرے علم میں اور اضافہ عطا فرما۔
قرآن وحدیث میں ’’تعلیم کتاب وحکمت‘‘ کو آپﷺ کے مقاصد بعثت میں سے بیان کیاگیا ہے۔ چنانچہ جب حضور سید عالم ؐ اس بزم عالم میں رونق افروز ہوئے توآپ ﷺنے اپنی بعثت مبارکہ کا مقصد یہ بیان فرمایاکہ یعنی’’ میں خاص معلم (پڑھانے والا) بناکرمبعوث ہوا ہوں۔
علم ایک عظیم منصب ہے اور اس کوحاصل کرنا مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری قراردیاگیاہے لہٰذا اسلامی حکومت کایہ اولین فرض ہے کہ وہ عوام کوعلم حاصل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرے اور علم کوہرایک کیلئے عام کرے۔ چنانچہ حضور سیدعالمﷺ نے پہلی اسلامی ریاست’’ مدینہ منورہ‘‘ کے قیام کے موقع پرسخت دشواریوں کے باوجود ایک دارلعلوم (تعلیمی ادارہ) یعنی اسلامی تاریخ کی پہلی یونیورسٹی الصفہ یونیورسٹی‘‘ قائم فرمائی، جہاں لاتعداد تشنگان علم ومعرفت نے براہ راست فیض نبوت حاصل کیااور دنیابھرمیں علم کی شمع روشن کی۔ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں ہرمسجد مرکزعلم ومعرفت بن چکی تھی اور علم حاصل کرنے کاذوق عام ہوچکا تھا۔
علم کی اہمیت، عظمت اور فضلیت کے پیش نظر حضورسیدعالمﷺ نے اس کی تبلیغ اور ترویج واشاعت کی ابتداء فرمائی۔ چنانچہ آپﷺ نے مسجد نبویﷺ میں ایک عظیم الشان علمی درسگاہ بہ نام ’’ الصفہ‘‘ قائم فرمائی۔ جس میں صحابہ کرام دن رات علم ومعرفت اور قرآن وحدیث سیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ اس درسگاہ صفہ کی نگرانی بھی رسول کریمﷺ خود فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح جنگ بدرکے دن خواندہ کافر قیدیوں کایہ فدیہ مقررکیاگیاتھا کہ وہ انصار کے بچوں کولکھنا پڑھنا سکھائیں۔
حضور نبی کریمﷺ نے فرمایاکہ علم دین کاحاصل کرنا ہرمسلمان پرفرض ہے۔ علم چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت جلیلہ‘‘ ہے تو جوشخص اس صفت جلیلہ سے متصف ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کو پوری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوگااور جو شخص جتنا زیادہ علم ومعرفت رکھتاہوگا، وہ اتناہی زیادہ اللہ جل شانہ کومحبوب ہوگا۔ اس لیے کائنات کے عظیم ترین معلم کامل حضورسیدعالمﷺ نے حصول علم کواوراس کی ترویج واشاعت کودینی قریضہ قراردیاہے۔
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے متعدد آیات مبارکہ میں علم والوں کی عظمت وشان اور فضلیت واہمیت کوبیان فرمایاہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: تم میں سے جو کامل ایمان والے اور علم والے ہیں، اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) ان کے درجات بلند فرمائے گا‘(سورۃ المجادلہ: آیت 11)
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلام پرجب بھی کوئی کٹھن آیا، اللہ تعالیٰ کی مخلوق نے جب بھی اپنے مالک وخالق کی نافرمانی کی، تو علمائے کرام اور فقہائے عظام نے اسی وقت مخلوق خداکی راہنمائی اور پیشوائی کر کے انھیں صراط مستقیم پرگامزن کردیا۔ خود بھی اپنے خالق ومالک سے ڈرے اور لوگوں کوبھی تقویٰ وپرہیز گاری کاسبق دیاچنانچہ اللہ جل شانہ کاارشاد ہے۔ اس کے بندوں میں سے خاص وہی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، جوعلم والے ہیں۔ (سورۃ الفاطر: آیت 28)
سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللہ نے گواہی دی کہ اْس کہ سواکوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور فرشتوں اور علم والوں نے بھی (یہی گواہی دی)، دراں حالیکہ وہ قائم بالعدل تھے(آل عمران: آیت 18)اسی طرح علم دین حاصل کرنے والوں کی عظمت اور فضلیت بیان کرتے ہوئے حضورنبی کریمؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ جوشخص علم کی طلب میں نکلے وہ لوٹ کرآنے تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔
حضرت امیر معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس شخص کیلئے خیرو بھلائی کاارادہ فرماتاہے تو، اس کودین کی سمجھ بوجھ عطافرمادیتاہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا: صرف دوچیزوں اور وہ شخصوں میں رشک کرنا اچھا ہے۔ ایک وہ شخص جس کواللہ تعالیٰ نے مال دیاہو اور وہ ا س کونیکی کے راستے میں خرچ کرتاہو اور وہ شخص جس کواللہ نے علم وحکمت سے نوازا ہواور وہ اْس کے مطابق فیصلہ کرے اور اْس کی تعلیم دے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ: ہر چیز کاستون ہوتاہے اور اسلام کا ستون دین کی سمجھ بوجھ ہے اور ایک مفتی وعالم شعریعت شیطان پرہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتاہے۔ (شعب الایمان: جلد 2:صفحہ 267)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: جوآدمی علم کوتلاش کرنے کیلئے کسی راستے پرچلے، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کاراستہ آسان کردیتاہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس شخص نے قرآنن مجید پڑھا اور اس کویاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کوجنت میں داخل فرمائے گااور اسے اس کے گھر کے ان دس افراد کیلئے شفاعت کرنے والا بنادے گا، جوجہنم کے مستحق ہوچکے ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ)
حضرت علی المرتضیٰ سے حضورنبی کریمﷺ نے فرمایاکہ: اللہ کی قسم اگرتمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک شخص کوبھی ہدایت دے دے اونٹوں پرمشتمل گرانقدردولت سے بہترہے۔ (صحیح بخاری)
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایاکہ: قیامت کے دن علماء کے لکھنے کی روشنائی کوشہداء خون کے ساتھ وزن کیاجائے گا توعلماء کی روشنائی کاوزن، شہداء کے خون کے وزن سے زیادہ وزنی ہوگا۔ (کنزالعمال: جلد 10صفحہ 173)
حضرت ابودرداء ص بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرام نورمجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جوشخص بھی علم کی تلاش میں کسی راستہ پرچلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اجرمیں اس کوجنت کے راستے پرچلاتاہے، اور بلاشبہ طالبعلم کی رضا جوئی کیلئے فرشتے اپنے پر جھکاتے ہیں اور آسمانوں وزمینوں کی تمام چیزیں حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی عالم کی مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے، جیسے چاند کی تمام ستاروں پرہے اور بے شک علماء انبیائے کرام رحمتہ اللہ علیہ کے وارث ہیں، اور انبیاء کرام کسی کو دنیااور درہم کاوارث نہیں بناتے ، وہ توصرف علم کاوارث بناتے ہیں۔
حضرت ابوذرعفاری سے روایت ہے رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اے ابوذر!اگرتم صبح اٹھ کر قرآن مجید کی ایک آیت کاعلم حاصل کرلو، تووہ ایک ہزار رکعات پڑھنے سے بہتر ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایاکہ: تم اس حال میں صبح کواٹھو کہ تما عالم ہویا متعلم، اس کے سوا صبح نہ کرو، اگرتم یہ نہ کرسکو توعلماء سے محبت رکھواور ان سے بعض نہ رکھو۔
ایک حدیث پاک میں حضور نبی کریمﷺ معلم خیر‘‘ کواپنے بعد سب سے بڑاسخی قراردیتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا۔ میرے بعد سب سے بڑاسخی وہ شخص ہے، جس نے علم حاصل کیا، پھراس کو پھیلایا۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ افضل ترین سخاوت علم دین کے تعلیم اور تشہیرہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کوعلم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور علم کے فیوض وبرکات سے ہم سب کو مالامال فرمائے۔