سرورق مضمون

خاندانی راج قبول نہیں

خاندانی راج قبول نہیں

محبوبہ مفتی نے دہلی سے واپس آکر سرگرمیاں شروع کی ہیں ۔ اس حوالے سے بتایا جارہاہے کہ انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر پی ڈی پی کے کور گروپ کی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں کئی اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ جانکار حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ جنرل سیکریٹری نظام الدین بٹ اور ترجمان رفیع میر کے علاوہ عبدالررحمان ویری اور محبوب بیگ اس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ کو بہت ہی اہم قرار دیا جارہاہے ۔ میٹنگ میں پارٹی کے اندر پیدا شدہ صورتحال پر مبینہ طور غورو خوض کیا گیا اور چند اہم فیصلے لئے گئے۔ میٹنگ کے بعد ان خبروں کو ردکیا گیا کہ پارٹی کے اندر کوئی بڑی بغاوت پائی جاتی ہے ۔ بیان میں نام لئے بغیر کچھ ممبران کی ناراضگی کی تصدیق کی گئی تاہم اس ناراضگی کو جلد دور کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ ناراض ممبران اپنے بیان پر ڈٹے ہیں اور واپس آنے سے انکار کرچکے ہیں۔
ریاست میں مخلوط سرکار گرائے جانے کے بعد پی ڈی پی کا یہ پہلے اہم اجلاس ہے ۔ یہ اجلاس ان اطلاعات کے بعد بلایا گیا کہ بی جے پی بہت جلد ایک نئی سرکار بنانے جارہی ہے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ پی ڈی پی سے ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ اسمبلی ارکان بی جے پی کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگرچہ ان ممبران کے نام سامنے نہیں لائے گئے ۔ تاہم تین چار اسمبلی ممبران نے کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ ان ارکان میں سے جڈی بل اور پٹن کے اسمبلی ممبران خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ پٹن حلقے کے ایم ایل اے عمران رضا انصاری نے پارٹی میں خاندانی راج قائم ہونے پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انصاری نے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی نے اپنے رشتے داروں کو پارٹی پر سوار کرکے اسے تباہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی نے اپنے بھائی تصدق حسین کو لاکر حکومت میں کابینہ درجے کا وزیر بنایا ۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر کسی کے ساتھ اس بارے میں مشورہ نہیں کیا گیا ۔ انصاری نے سرتاج مدنی کے علاوہ نعیم اختر کے ہاتھوں پارٹی تباہ ہونے کا الزام لگایا ۔ اسی طرح جاوید بیگ کے بارے میں بھی کہا گیا کہ اس نے پارٹی قیادت سے بغاوت کا اعلان کیا۔ جاوید بیگ جوکہ بارہمولہ نشست سے پی ڈی پی کا ایم ایل اے ہے پارٹی کے سینئر لیڈر اور پارلیمنٹ ممبر مظفر بیگ کا قریبی رشتہ دار ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت سے ناراض ہے اور محبوبہ مفتی کی طرف سے پچھلے تین سالوں کے دوران نظر انداز کئے جانے کا الزام لگایا ۔ اسی طرح نورآبادکولگام کے ایم ایل اے کے بارے میںنا راض گروپ کے ساتھ میٹنگیں کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس سے پہلے لولاب کے ایم ایل اے اور سابق وزیرعبدالحق خان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ پی ڈی پی کو چھوڑ کر کانگریس میں جانے کی تیاریاں کررہا ہے ۔ خان کو اس وقت کابینہ سے الگ کیا گیا جب بی جے پی نے اپنے کئی وزیروں کو ڈراپ کرکے نئے وزیر کابینہ میں لائے ۔ اسی دن سے حق خان کے پی ڈی پی چھوڑنے اور کانگریس میں شامل ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں ۔ خان نے ان خبروں کی تردید کی اور پارٹی سے الگ ہونے سے انکار کیا ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ حق خان نے محبوبہ مفتی سے مل کر گلے شکوے دور کئے ۔ کہا جاتا ہے کہ حق خان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ پارٹی چھوڑکر نہیں جارہے ہیں ۔
ادھر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی سابقہ اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوششوں کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بغاوت پر کہا کہ ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور ان اختلافات کو مل بیٹھ کر دور کیا جاتا ہے۔ ان باتوں کا اظہا ر محبوبہ نے’یوم شہدائے کشمیر‘ کے موقع پر اپنے پارٹی رفقاء کے ہمراہ مزار شہداء میں حاضری دینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی پی ڈی پی کو توڑنے اور عوام کے ووٹوں پر شب خون مارنے کی مرتکب ہوئی تو کشمیر میں نئے صلاح الدین اور یاسین ملک جنم لے سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی کے بیان کے فوراً بعد پی ڈی پی کے باغی اراکین نے سونہ وار سرینگر کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس میں اس بات کا اظہار کیا کہ خاندانی راج کے خاتمے کیلئے انہوں نے آواز بلند کی ہے۔ باغی اراکین نے محبوبہ مفتی کے بیان کو مسترد کرتے کہا کہ وہ سیاسی کٹ پتلیاں نہیں ہیں کہ دہلی کے اشاروں پر ناچے،اور پی ڈی پی صدر نے یہ بیان دیکر انہیں اور انکے اہل و عیال کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر عمران رضا انصاری،سابق وزیر عبدالمجید پڈر، ممبر اسمبلی جاوید حسین بیگ، ممبر قانون ساز کونسل یاسر ریشی و سیف الدین بٹ نے ایک آواز میں کہا کہ محبوبہ مفتی پارٹی کے صدارتی عہدے کو چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بدستور پی ڈی پی کا حصہ ہیں،اور پارٹی کے کام میں تبدیلی کے متمنی ہیں۔انہوں نے کہا ہم خاندانی راج کے خلاف ہیں،محبوبہ مفتی ناکام ہوئی اور ہمیں ان پر اعتماد نہیں رہا۔انہوں نے محبوبہ مفتی کے اس بیان نئی دہلی پی ڈی پی کو توڑ کر ریاست میں نئے صلاح الدین اور یاسین ملک کو جنم دے رہی ہے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب صلاح الدین کیلئے کیوں ہمدردی جتا رہی ہے،وہ تب کہاں تھی جب صلاح الدین کے بیٹے کو7ماہ قبل تہاڑ جیل پہنچایا گیا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کے دور اقتدار میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا،لوگوں کو جیلوں میں بند کیا گیا،اور انہیں خوف و ہراساں کا نشانہ بنایا گیا،اور وہ اب اچانک لوگوں کیلئے مسیحا کیسے بن گئی۔ انہوں نے ان رپورٹوں کو مسترد کیا کہ انہوں نے پارٹی چھوڈ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی کا حصہ ہیں،ہم انتظار کر رہے ہیں کیا ہوتا ہے،ہمارا مقصد محبوبہ مفتی کو صدارتی کرسی سے ہٹانا ہے۔ناراض ممبران کا کہنا تھا محبوبہ مفتی نے خاندانی راج قائم کیا ہے،اور مظفر حسین بیگ،طارق حمید قرہ اور قاضی محمد افضل سمیت محمد دلاور میر جیسے سنیئر لیڈران کو نظر انداز کیا۔باغی ممبران نے جوڑ توڑ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی یا بی جے پی کے رابطے میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم نے متواتر طور پر محبوبہ مفتی کو اپنے کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی لانے پر زور دیا،تاہم مرحوم مفتی محمد سعید کی موت کے بعد پی ڈی پی میں ہر کوئی چیز تبدیل ہوئی،اور انہوں نے اپنے حواریوں کو بہت زیادہ اہمیت دی‘‘۔
اس دوران عمران انصاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اب بیدار ہوچکے ہیں،اور انکی طرف سے آواز اٹھانے کو باغیانہ انداز میں کیوں دیکھا جا رہا ہے،جبکہ وہ حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں۔ سابق وزیر نے جذباتی انداز میں کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ نوشتہ دیوار پڑ لیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی خود کو اتنا غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے کہ وہ کہتی ہے کہ اگر پی ڈی پی کے ممبر کہیں جائیں گے،تو لوگ بندوق اٹھائے گے۔انہوں نے کہا ‘‘محبوبہ مفتی جس دہلی کو جانتی تھی،وہ اب نہیں رہی،بلکہ ملک کی سیاست میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خاندازنی راج کا الزام جب ہم نیشنل کانفرنس پر لگاتے ہیں تو اپنے گریباں میں ہم کیوں جھانک کر نہ دیکھیں۔
اس دوران ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید حسین بیگ نے بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی دہلی کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انکی یہ سوچ غلط ہے کہ ہم دہلی کے کہنے پر سب کچھ کر رہے ہیں،جو حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ بیگ نے کہا کہ تصدق مفتی کی طرف سے اس بیان’’ پی ڈی پی جرائم میں یکساں شریک ہے‘‘ پر بھی انہوں نے میٹنگ میں سوال اٹھایا تھا کہ ایک طرف ہم لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پی ڈی پی لوگوں کیلئے کام کر رہی ہے،اور دوسری طرف یہ کہنے میں بھی دیر نہیں لگاتے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے،اس کیلئے پی ڈی پی ذمہ دار ہے اور محبوبہ مفتی کو اگر ایسا محسوس ہو رہا ہے،تو ہمیں مخلوط سرکار سے الگ ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی کے بیان نے ہمارے اہل و عیال کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی حریت کانفرنس نہیں ہے،جن کی پشت پر عسکر یت پسند جماعتوں کا ہاتھ ہے۔
پریس کانفرنس میں یاسر ریشی نے بولتے ہوئے محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار ہاتھ سے جانے کے بعد ہی انہیں کیوں جماعت اسلامی اور صلاح الدین یاد آیا۔انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کے فرزند کو7 ماہ قبل تہاڑ جیل پہنچایا گیا،اور انہیں حکومت جانے کے بعد صلاح الدین کے بیٹے کی یاد آئی۔یاسر ریشی نے مزید کہا کہ دختران سربراہ آسیہ اندرابی کو بھی سابق مخلوط سرکار میں ہی گرفتار کیا گیا تھا،اور اب اقتدار جانے کے بعد وہ انہیں دہلی منتقل کرنے پر وا ویلا کر رہی ہیں۔ریشی نے کہا کہ شہری ہلاکتوں کا دور بھی محبوبہ مفتی کے دور میں جاری تھا،اور اب آج اس پر کیوں رویا جا رہا ہے۔انہوںنے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت سازی کیلئے کوئی جوڑ توڑ نہیں ہو رہی ہے۔
یاد رہے پی ڈی پی اس وقت بحرانی صورتحال سے دوچار ہوئی تھی جب بی جے پی نے پچھلے مہینے اچانک مخلوط سرکار کی حمایت واپس لی اور ریاستی سرکار رخصت ہونے کے بعد یہاں گورنر راج نافذ کیا گیا ۔ اس دوران کئی خبر رسان ایجنسیوں کی طرف سے یہ خبر سامنے آئی کہ بی جے پی ایک بار پھر ریاست میں حکومت بنانے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ بی جے پی جس کے پاس پیپلز کانفرنس کے دو ممبران کو ملا کر کل تیس ارکان ہیں یہ سوال سامنے آیا کہ باقی درکار چودہ ممبرکہاں سے آئیں گے ۔ اس بارے میں کہا گیا کہ اپوزیشن پارٹیوں سے یہ ممبران الگ ہوکر بی جے پی کی حمایت کرنے کو تیار ہیں ۔ نیشنل کانفرنس نے اپنے ممبران کے بارے میں اعلان کیا کہ وہ پارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوئی بھی ممبر الگ ہونے کو تیار نہیں ۔ کانگریس نے اپنے ایک اہم اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ اس کا کوئی ممبر الگ نہیں ہورہاہے ۔ سب کی نظریں پی ڈی پی پر لگی تھیں۔ اچانک ایم ایل اے جڈی بل عابد حسین انصاری نے سامنے آکر نئی حکومت کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ انصاری نے پی ڈی پی قیادت پر سنگین قسم کے الزامات لگائے اور کہا کہ پارٹی مکمل طور کورپشن میں ملوث ہوئی ہے ۔ اس نے سرکار گرنے کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی رشوت ستانی کو قرار دیا ۔ نعیم اختر ، سرتاج مدنی ، پیرزادہ منصور اور وحید پرہ پر پی ڈی پی تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انصاری نے انہیں پارٹی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ۔ انصاری نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی پی کے کل ملاکر پندرہ اسمبلی ارکان بغاوت کرکے بی جے پی سے مل کر نئی حکومت بنانے کے لئے تیار ہیں ۔ اسی طرح عابد انصاری کے رشتے دار اور سابق وزیرعمران انصاری نے پی ڈی پی سے ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایک نیا محاذ وجود میں لاکر نئی حکومت بنائی جائے گی ۔ بااثر شیعہ لیڈر نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی عوامی حمایت کھوچکی ہے اور ایک فیملی پارٹی بن کر رہ گئی ۔ اس لئے وہ پارٹی سے الگ ہوکر نیا محاذ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کی کوششیں اگرچہ ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہیں ۔ تاہم اس حوالے سے ان کی سرگرمیاں بڑی اہم قرار دی جارہی ہیں ۔ ادھر بی جے پی نے اعلان کیا کہ امرناتھ یاترا کے اختتام تک حکومت بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی ۔اس وجہ سے سیاسی سرگرمیاں سست پڑگئی ہیں ۔ تاہم پی ڈی پی کی کوشش ہے کہ اپنے اسمبلی ممبران کو اپنے ساتھ رکھا جائے ۔ اس حوالے سے تازہ اطلاع یہ ہے کہ دہلی سے واپس آکر محبوبہ مفتی نے تمام اسمبلی ارکان سے مل کر ان کے گلے شکوے دورکرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یادرہے کہ محبوبہ نے دہلی میں کانگریس قیادت کو مبینہ طور اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی کہ دونوں پارٹیاں مل کر حکومت بنائیں ۔ پہلے مرحلے پر کہا گیا تھا کہ سونیا گاندھی اور من موہن سنگھ اس پر راضی ہیں۔ لیکن سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کیا ۔ اس کے بعد محبوبہ مفتی مایوس ہوکر واپس کشمیر آئی ہیں اور پارٹی لیڈروں کے ساتھ صلاح مشورے کررہی ہے ۔ تازہ کور گروپ میٹنگ اسی سلسلے کی اہم کڑی قرار دی جارہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جو اسمبلی ممبر واپس آنے کو تیار نہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی اور اسمبلی اسپیکر سے انہیں خارج کرنے کی سفارش کی جائے گی ۔ ایسا ممکن ہوسکا تو باغی ممبران کے لئے کسی حکومت سازی کا حصہ بننا ممکن نہ ہوگا ۔ اس سے پہلے کہ ان باغی لیڈران کے خلاف محبوبہ مفتی تادیبی کارروائی کرتی ، انہوں نے بھی ایک ایسی سیاست کھیلی کہ محبوبہ مفتی کو پارٹی سے باہر نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ منصوبہ کو ایک پریس کانفرنس میں منظر عام پر لایا ،پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے ناراض لیڈران نے کہا کہ ہمیں پی ڈی پی کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں بلکہ ہمیں محبوبہ مفتی کی صدارت سے اختلاف ہیں اور ہمیں محبوبہ مفتی بطور صدر کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہیں ۔ اس طرح سے صاف ہو رہا ہے کہ محبوبہ مفتی کی سرگرمیاں تاحال رنگ لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں تاہم پارٹی جس مایوسی سے دوچار تھی اس میں بہت حد تک کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے ۔ آگے چل کر اونٹ کونسی کروٹ لے گا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ اس حوالے سے امرناتھ یاترا کے اختتام تک انتظار کرنا ہوگا ۔ اس کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئے گی ۔