اداریہ

خوف و ہراس کا ماحول جاری

وادی میں حالات ایک بار پھر سخت کشیدہ ہیں اور انتظامیہ گھبراہٹ کی شکار ہے، گذشتہ ایک ڈیڑھ مہینے سے وادی میں کئی جگہوں پر عورتوں کی چوٹیاں کاٹی جارہی ہیں، حالانکہ آج تک بال کاٹنے کے سلسلے میں ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا، پولیس کے مطابق اس کے پاس اب تک مجرموں کی نشاندہی کرنا ممکن نہ ہوسکا ۔ حکومت اسے لوگوں کا ہسٹیریا بتارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا کہ چوٹیاں کاٹنا عورتوں کی توہین ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا مگر دوسری اوور اس حوالے سے پولیس نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے ۔ کئی مقامات پر لوگوں نے الزام لگایا کہ گیسوتراشی کرنے والوں کو عوام نے پکڑکر پولیس کے حوالے کیا تاہم پولیس نے مبینہ طور ان ملزموں کو جلد ہی رہا کیا حالانکہ پولیس ان الزامات کی تردید کررہا ہے اور ملزموں کے بے گناہ ہونے کی بات کررہا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شک کی بنیاد پر کچھ لوگوں کو پکڑا گیا جو بعد میں بے گناہ ثابت ہوگئے ۔ اس وجہ سے انہیں رہا کیا گیا۔ ا دھر سوشل میڈیا پرحقیقت سے بعید خبریں بھی شا ئع ہو رہی ہیں اور کئی جگہوں پر ایسے افراد نشانے پر آرہے ہیں جن کا بال کاٹنے کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ کئی جگہوں پر دشمنی کی بنیاد پر کسی کو پھنسایا جاتا ہے ا ورکئی جگہوں پر اور کچھ ۔غرض طرح طرح کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں اور اکثر جگہوں پر اگر چہ حقیقی معنوں میں بال کاٹنے کا پلان ہوتا ہے تو اس میں بھی ایک سوچنے والی بات ہے کہ آخر بال کاٹنے والے افراد پھر جاتے کہاں، اس کو زمین کھاتا ہے یا آسمان نگلتا ہے۔ سمجھ ہی نہیں آتا ایسے افراد پھر جاتے کہاں ہیں۔ کئی حلقے ایسے بھی شوشہ پھیلاتے ہیں کہ بال کاٹنے کی کارروائیاں اکثر ان علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں فورسز کے کیمپ یا پولیس کی چوکیاں نزدیک میں پڑتے ہیں۔ بہر حال جو بھی ہو اس طرح کے ماحول بننا نہ صرف عام لوگوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بلکہ ریاستی حکومت کے لئے بھی یہ ایک چتاونی ہے۔ اسطرح کے حالات پیدا کر نے سخت سنگین ثابت ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ کئی ایک مقامات پر خالص افواہیں پھیلائی گئی ہیں اور اس سلسلے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان افواہوں کے پھیلائے جانے سے لوگ مشتعل ہوتے ہیں اور امن و امان میں خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے افواہ بازوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ۔ لوگوں کا ایک حلقہ الزام لگاتے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں کشمیر میں لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے بال کاٹنے کا کام کررہی ہے اس طرح سے وادی میں خاص کر لوگوں میں خوف کے علاوہ غم و غصہ بھی نظر آرہاہے ۔ کئی جگہوں پر عورتیں جلوس نکالتی ہیں اور احتجاج کرتی ہیں ۔ عورتیں الزام لگارہی ہیں کہ وزیراعلیٰ ایک عورت ہوکر ان واقعات کا نوٹس نہیں لے رہی ہے ۔ صورتحال نے حکومت مخالف رنگ اختیار کیا ہے اور محبوبہ مفتی کو براہ راست ملزم قرار دیا جارہاہے ۔ اپوزیشن اپنے طور صورتحال کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ اب تک ملزموں کی نشاندہی کیوں نہیں کی جاسکی ۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس صورتحال کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے ۔ فی الحال پوری وادی میں ان واقعات سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ شریف خاندانوں کے اندر زیادہ ہی مایوسی پائی جاتی ہے ۔