اداریہ

دفعہ۳۵اے کا دفاع

بھارت کے سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا ایک بار پھر کشمیر دورے پر ہیں، یہاں آکرانہوں نے کئی سرکردہ لیڈروں جن میں گورنر، وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر عمر عبداہ بھی شامل ہیں، ملاقاتیں کیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران ان لیڈروں کے ساتھ کئی امور پر بات چیت ہوئی ۔ ریاست کی آئین ہند میں موجود دفعہ35A پر بھی گفتگو ہوا۔ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے اپنے بیان میں زوردیا ہے کہ مرکزی سرکار اس دفعہ کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے ۔ مذکور آئینی دفعہ کے حوالے سے کشمیر کو یہ ضمانت حاصل ہے کہ ریاست کے پشتنی باشندوں کے بغیر یہاں کوئی بھی شخص پراپرٹی بناسکتا ہے نہ ملازمت حاصل کرسکتا ہے، اور نہ زمین خرید سکتا ہے ۔ اس دفعہ کو لے کر سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ چل رہاہے جس میں درخواست دہندہ نے اس قدغن کو ختم کرنے کی مانگ کی ہے ۔ مقدمہ ایک اہم موڈ پر آگیا ہے ۔ ملک کی حکمران جماعت بہت پہلے سے مانگ کررہی ہے کہ اس دفعہ کو آئین سے نکالا جائے اور ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح یہاں کسی بھی شہری کو بسنے اور پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی جائے ۔ ریاستی حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اس دفعہ کا دفاع کرے گی تاہم اس حوالے سے ریاست میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ یہاں پر یشونت سنہا نے اپنے کشمیر دورے کے موقعے پر ایک بیان میں اس دفعہ کے حوالے سے عدالت میں قائم مقدمے پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے ۔ سنہا نے مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ دفعہ35A پر چل رہی عدالتی کارروائی کے حوالے سے اپنا موقف ظاہر کرے۔ اس سے پہلے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی دہلی گئی اور وہاںوزیرداخلہ کے علاوہ وزیراعظم کو اپنی تشویش کا اظہار کیا تاہم تاحال مرکز کی طرف سے ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے ۔ سنہا کی کشمیر آمد کے موقعے پر اس حوالے سے تشویش میں اضافہ پایاجارہاہے ۔ کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا جارہاہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ا س پر کشمیر میں بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن شروع ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔ بہر حال ابھی آرٹیکل35A پر طرح طرح سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں اورپی ڈی پی سمیت اپوزیشن لیڈران جن میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ، غلام احمد میر،غلام حسن میر اورحکیم یٰسین خاص طور پر شامل ہیں نے دفعہ35Aکا دفاع کی سیاست شروع کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ لیڈران اس دفعہ کا دفاع کرنے میں مخلص ہیں، اس کا پتہ بھی عنقریب چلنے والا ہے ۔