سرورق مضمون

دفعہ 35 اے پر جنگ جاری رکھنے کا اعلان

ڈیسک رپورٹ
دفعہ 35 اے پر سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کی گئی۔ جمعہ کو ہورہی کارروائی کے بعد عدالت نے کیس کو اگلے سال کی 19 جنوری کی تاریخ تک ملتوی کئے جانے کا اعلان کیا ۔ اس دفعہ کے حق میں اور مخالفین سب لنگوٹے کس کے آگئے تھے۔ سرینگر سے وکلا کی ایک بڑی کھیپ دہلی پہنچ گئی تھی۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سولہ وکیلوں پر مشتمل وفد تشکیل دینے کے بعد اعلان کیا گیا کہ کوئی اور آنا چاہتا ہو تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا ہے ۔ میاں قیوم کی قیادت میں تیار کئے گئے اس وفد میں بار ایسوسی ایشن کے تمام سینئر وکیل موجود تھے جنہوں نے سنیچر کو ہی رخت سفر باندھ لیا۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ بار کا کوئی اور ممبر یا اس دائرے سے باہر کوئی وکیل سپریم کورٹ جانا چاہتا ہو تو آسکتا ہے ۔ اسی دوران آئینی ماہر اور سینئر قانون دان ظفر شاہ نے سپریم کورٹ آنے کا اعلان کیا ۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ ان کی بیٹی کی شادی اسی دن ہونے والی ہے ۔ برات بھی اسی روز آئے گی ۔ اس کے باوجود ظفر شاہ نے سپریم کورٹ پہنچنے کا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری قوم کا معاملہ ہے ۔ وہ ضرور عدالت میں حاضر ہونگے ۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس نے ایک وکیل کا وکالت نامہ حاصل کیا ۔ پی ڈی پی کے لیڈر مظفر حسین بیگ نے دفاعی وکیل کی حیثیت سے حاضر ہونے کا اعلان کیا۔ سیول سوسائٹی نے مشہور سپریم کورٹ ایڈوکیٹ میناکشی کی خدمات حاصل کیں ۔ اس کے بعد اندازہ لگایا جارہاتھا کہ تیز طرار بحث ہوگی ۔ لیکن جمعرات کو ہی یہ خبر سامنے آئی کہ ریاستی انتظامیہ نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی ہے ۔ درخواست میں سماعت ملتوی کرنے کے لئے یہ وجہ بتائی گئی کہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں جو دسمبر میں مکمل ہونگے ۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے بھی سماعت ملتوی کرانے کا اعلان کیا ۔ مرکزی سرکار کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی ۔ مرکز اور ریاست دونوں نے بلدیاتی انتخابات کا بہانہ بناکر سماعت ملتوی کرنے کی گزارش کی۔ اس کے بعد کسی کو کئی شک نہیں تھا کہ سماعت ملتوی ہوگی ۔ اب اگلے سال پھر کیس کی سماعت ہوگی ۔
جمعہ کو سپریم کورٹ کے تین ججوں نے کیس کی سماعت شروع کی ۔ دونوں طرف سے وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ دفعہ کی منسوخی کے حق میں وکیلوں نے بولا اور اس دفعہ کو بحال رکھنے کے لئے بھی وکیل سامنے آئے۔ اس دوران ریاستی انتظامیہ کے علاوہ مرکزی سرکار کے اٹارنی جنرل نے کیس کو موخر کرنے کی گزارش کی ۔ جس کے بعد کیس 19 جنوری 2019 تک ملتوی کیا گیا ۔ ملتوی کئے جانے کی یہ دلیل دی گئی کہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ یہ انتخابات جیسا کہ عدالت کو کہا گیا ستمبر سے لے کر دسمبر 2018 تک ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات بڑے نازک ہیں۔ ان پر عدالتی کاروائی سے اثر پڑنے کا امکان ہے ۔ اس بنیاد پر کیس ملتوی کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے سرکار کی یہ دلیل مان لی اور سماعت ملتوی کرنے کا اعلان کیا ۔ اس دوران ریاست میں مشترکہ حریت قیادت کی اپیل پر سخت ہڑتال کی گئی۔ یہ ہڑتال وادی کے علاوہ پیر پنچال اور چناب وادی کے علاقوں میں دیکھی گئی ۔ کئی جگہوں پر لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالے ۔ لوگ مطالبہ کررہے ہیں کہ دفعہ 35 A پر دائر کیا گیا مقدمہ خارج کیا جائے ۔ سرینگر میں انتظامیہ نے سات تھانوں خاص کر پائین شہر میں بندشیں نافذ کی تھیں ۔ اس وجہ سے لوگوں کے نقل وحمل پر اثر پڑا ۔ ہڑتال کی وجہ سے پہلے ہی سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بینک کی بیشتر شاخیں بند پڑی تھیں ۔ اسی دوران جمعہ کی دوپہر کو یہ بریکنگ نیوز سامنے آئی کہ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح سے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ اس اعلان سے لوگوں کو خوش ہونا چاہئے یا خوف ابھی جاری ہے فیصلہ کرنا مشکل ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ عدالت کی طرف سے دفعہ کی منسوخی کے احکامات آنے کی صورت میں حالات ابتر ہوسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی گزارش کی ۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت لینا چاہتی ہے ۔ تاکہ لوگ تھک جائیں اور اس دفعہ کو آئین سے ہٹایا جائے اور لوگ احتجاج کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ ادھر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اگلے انتخابات تک اس کیس کو سپریم کورٹ میں موجود رکھنا چاہتی ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اس دفعہ کو ہٹا نہیں سکتی ہے۔ اس سے بی جے پی کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے کیس ملتوی کرنے کی درخواست دی ہے ۔ اس سے پہلے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل جمعرات کو ہی دہلی پہنچ گئے تھے ۔ دہلی پہنچتے ہی اس نے اٹارنی جنرل سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ کیس ملتوی ہونا چاہئے ۔ اٹارنی جنرل نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور دونوں نے سپریم کورٹ میں یہی موقف اختیار کیا ۔ ججوں نے یہ بات مان لی اور کیس کی سماعت ملتوی کی ۔ کشمیر میں بہت سے حلقے اس پر ناراض ہیں کہ علاحدگی پسند لیڈروں نے اس کیس کو حد سے زیادہ اہمیت دی ۔ ان کا مشورہ ہے کہ اس کسی کے بجائے آزادی کی تحریک پر توجہ دی جائے ۔ اسمبلی کے رکن انجینئر رشید نے حریت لیڈروں سے کہا ہے کہ د فعہ 35A کے بجائے یواین قرار دادوں کو اپنانے پر زور دیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جاری کیس پر زور دینے کی وجہ سے یواین میں ہمارا کیس کمزور ہوگا ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حق ارادیت حاصل کرنے کے لئے منظم ہوجائیں ۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ انہی دو جماعتوں نے کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کیا ۔ انجینئر کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں ریاست میں مرکزی قوانین نافذ کرنے کے علاوہ آر ایس ایس کو یہاں لانے کی ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جماعتیں لوگوں میں انتشار پھیلا کر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔ لوگوں کو ان کی سازشوں سے باخبر رہنا چاہئے ۔ اس طرح سے دفعہ 35اے پر جاری خطرہ ایک بار پھر دور ہوگیا لیکن ختم نہیں ہوا۔ خطرے کی تلوار ابھی تک لٹکی ہوئی ہے۔