مضامین

دفعہ370 اورآرٹیکل35A چرچے میں

ریاست میں آج کل ہر طرف سے دفعہ370 اورآرٹیکل35A پر سوالات اُبھارہے جارہی ہیں ۔ کئی حلقے اس بات کے حق میں کہ دفعہ370 مکمل سے ہی ختم کیا جائے اور کئی حلقے اس کے دفاع میں کھڑا ہو رہے ہیں۔ بی جے پی والے اس بات کے لئے ابتدا سے ہی زور دے رہے ہیں کہ دفعہ370 کو مکمل طور ہی ختم کیا جائے اور حقیقی معنوں میں اگر دیکھاجائے تو بی جے پی کو اسی مدعو کو لے کر منڈیٹ ملا تھا، بہر حال یہ الگ بات ہے کہ سیاست، سیاست ہے اور اس میں ہر کچھ یعنی سب کچھ ممکن ہے۔ فی الحال ریاست کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں دفعہ370 اور35A پر سخت چرچہ ہے۔ دانشور حلقوں کی رائے ہے کہ اس دفعہ جو کہ ریاست کےلئے خاص ہے کو چھیڑا نہ جائے، اس کے ساتھ چھیڑنے کے خطرناک نتائج سے دانشور وقتاً فوقتاً حکومت کو آگہی دیتے رہتے ہیں۔ بہر حال یہ الگ بات ہے کہ حکومت کو اس دفعہ کو ختم کرنے کی کوئی پرواہ نہیں ،کیونکہ حکومت میں رہ رہے لوگوں کو خاص اور خاص اقتدار ہے، اقتدار کےلئے وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت میں شامل لیڈروں کو طرح طرح کے مراعات اسی لئے دئے جاتے ہیں تاکہ وہ مرکز کے کٹھ پتلی بنے رہیں۔ اور مرکز کے اشاروں پر ناچتے رہیں۔ پچھلے ایک دو ہفتے سے حالانکہ اس دفعہ کے ختم کرنے کے زیادہ ہی چرچہ منظر عام پر آنے لگے اور اس طرح سے مین اسٹریم کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسندوں کی طرف سے بھی اس دفع کو ختم کرنے کے بعد سنگین نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اور رسماً ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں نے اعلان کیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر سمجھوتے کا سوال ہی نہیں اور وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کی خصوصی پوزیشن ،آرٹیکل 35Aکیساتھ ساتھ دفعہ 370کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہونے کی سوفیصد یقین دہانی کی اور اس بات کو صاف کر دیا کہ مخلوط سرکار کے مشترکہ پروگرام کی کسی بھی سطح پر خلا ف ورزی نہیں ہوگی ۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ جموں وکشمیر کے عوام نے مسلم اکثریت ہونے کے باوجود بھارت کیساتھ تعلق جوڑا لہٰذا ان کی شناخت پر کسی بھی طرح کی کاری ضرب ناقابل برداشت ہوگی کیونکہ وادی میں حالات پہلے ہی نازک بنے ہوئے ہیں اور اب لوگوں کو اپنی شناخت کے خطرے میں ہونے کا خدشہ ہے ۔
سرینگر سے تا دلی تک مچی سیاسی ہلچل کے بیچ ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ایک روز قبل ہی مرکزی لیڈران کیساتھ مشاورت کیلئے دلی پہنچ گئی ہیں ا وراب جبکہ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ اہم ترین میٹنگ منعقد کی۔وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ قریب ایک گھنٹے کی طویل میٹنگ کے دوران ریاست کی تازہ ترین صورتحال پر بحث کی گئی جبکہ بات چیت کے ایجنڈے میں 35Aاور دفعہ 370پر سپریم کورٹ میں دی گئی عرضیاں سرفہرست تھیں ، دونوں لیڈران کے درمیان ہوئی اس ملاقات میں اگرچہ ریاستی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کیساتھ ساتھ امن وترقی کے معاملات پر بات کی گئی تاہم اس میٹنگ کے بعد نئی دلی میں نامہ نگاروں کیساتھ بات چیت کے دوران وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وزیراعظم کیساتھ ان کی ملاقات اپنی نوعیت کی اہم ترین ملاقات تھی اور اسے قبل انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ بھی ملاقات کی تھی ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم کیساتھ ملاقات میں دفعہ35Aکا معاملہ زیر بحث لایا جس پر کافی سارا تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم پر واضح کر دیا کہ جموں وکشمیر پہلے ہی نازک صورتحال سے گذر رہی ہے اور وہاں امن کو لاحق خطرات رہتے ہیں لیکن اب لوگوں کو اپنی شناخت کے حوالے سے خطرات لاحق ہورہے ہیں لہٰذ ا وہ ذاتی طور پر مداخلت کرکے دفعہ 370اور آرٹیکل 35Aکوبرقرار رہنے دینے کیلئے اپنا رول ادا کریں ۔ محبوبہ مفتی کے بقول انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام نے بھارت کیساتھ خود کو جوڑ دیا ہے حالانکہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے ناطے ان کا یہ فیصلہ انتہائی اہم تھا لہٰذا اب مرکزی حکومت ،یعنی بھارت کو کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کا احترام کرنا ہوگا جس کے تحت دونوں دفعات کیساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ خوانی نہیں کی جانی چاہئے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ کوئی چھیڑ خوانی نہیں ہوگی اور ایسے میں مخلوط سرکار کے موجودہ ایجنڈے پر من وعن عمل کیا جائیگا ۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کویقین دلایا کہ سو فیصد یقین کیساتھ کہتا ہوں کہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا احترام کیا جائیگا اور اس کیساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی نہیں کی جاسکتی ہے ۔
محبوبہ مفتی کے بقول ،وزیراعظم نے انہیں یہ بھی یقین دلایا کہ مرکزی حکومت کا ان دفعات کیساتھ چھیڑ خوانی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کی کوئی صورتحال بن رہی ہے ۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیراعظم پر واضح کر دیا کہ مخلوط سرکار کے ایجنڈے میں یہ بات شامل کرلی گئی ہے کہ کشمیر کے خصوصی اختیارات کے معاملات پر سٹیٹس کو برقرار رکھاجائیگا اور ان کیساتھ کسی بھی قسم کی کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی اور بھاجپااور پی ڈی پی دونوں نے مشترکہ پروگرام میں اس پر واضح موقف اختیار کیا ہے ۔
محبوبہ مفتی کاکہنا تھا کہ بھاجپا کیساتھ جو گٹھ جوڑ اور مشترکہ پروگرام ترتیب دیتے وقت ایجنڈے میں یہ بات شامل ہے کہ دفعہ 370کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو برقرار رکھاجائیگا ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ مرکز سے ایسا پیغام جانا چاہئے جس میں کشمیری عوام کو اپنی شناخت پر کسی بھی طرح کی آنچ نہ آنے کی یقین دہانی ہو کیونکہ لوگوں کو اب وہاں اپنی شناخت کے حوالے سے بھی خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ان معاملات کیساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی گئی تو کشمیر میں صورتحال مختلف ہو جائیگی اور اس کے منفی نتائج برآمد ہونگے ۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل35Aہماری شناخت کی بنیاد ہے اور اس کیساتھ چھیڑ خوانی سے حالات خراب ہوجائیں گے ۔ وزیراعظم کو بتایاگیا کہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور تاج کا احترام لازمی ہے لہٰذا ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھایا جائے جس میں لوگوں کو خود کو ٹھگا ہوا محسوس ہو ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے سپریم کورٹ میں مرکز کے اسٹیڈ کے حوالے سے بھی بات کی ہے تاہم انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ عدالتی معاملہ ہے اور اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں اس پر بات کریں گے ۔تاہم محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ مخلوط سرکار کے ایجنڈے کا احترام ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم نے مخلوط سرکار کے ایجنڈے کے احترام کی سو فیصد یقینی دہانی دی ہے ۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نامہ نگاروں کو مزید بتایا کہ مرکز اب کیا اسٹنڈ لیتا ہے لیکن ہم یہ واضح کرناچاہتے ہیں کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ سمجھوتے کا سوال ہی نہیں ہے اور اگر کوئی بھی اقدامات اٹھایا گیا تو اس کے منفی نتائج برآمد ضرور ہونگے ۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی عوام کافی سارے مشکل حالات سے جھوج رہے ہیں اور بمشکل ہی ریاست میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہورہے ہین،ایسے میں اس طرح کے اقداما ت سے وادی میں امن کو بھی خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور اس میں حکومت اور مرکزی حکومت کیلئے حالات مشکل بن جاتے ہیں ۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیرعظم نے جہاں انہیں سو فیصد یقینی دہانی کرائی وہیں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی انہیں یقین دلایا کہ بھاجپا حکومت ریاست میں مخلوط سرکار کے ایجنڈے کا احترام کریگی اور اس پر عمل پیرا رہیگی ۔اس دورن دفعہ 35Aپر سپریم کورٹ میں دائر عرضی کو سماعت کیلئے منظور کر لیا گیا ہے اور ایسے میں ریاست بھر میں مین اسٹریم لیڈران کے اندر بھی بے چینی کی لہر دورڑ گئی ہے اور اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نہ صرف ریاستی گورنر کیساتھ بات چیت کی بلکہ اپنے حریف نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ کیساتھ غیر متوقع ملاقات کرکے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے بعد میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران کیساتھ بھی بات چیت کی اور ایسے میں ان کےسامنے کئی ایک تجاویز آئی لیکن انہوں نے سیدھے دلی کا راستہ اپنایا اور وہاں پچھلے دو روز کے دوران اپنے اثر رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دفعہ 35Aکا دفاع کرنے کی ٹھان لی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کے بعد آج وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ بھی ملاقات کی جبکہ دیگر لیڈران کیساتھ بھی آئندہ دنوں میں ملاقاتیں متوقع ہیں۔جن میں اپوزیشن لیڈران اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اور دیگر لیڈران کیساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں۔ادھر بھاجپا کے ترجمان کے اس بیان پر بھی پی ڈی پی برہم ہے جس میں انہوں نے صاف کر دیا ہے کہ دفعہ 370کے جانے کا وقت آگیا ہے اورا یسے میں بھاجپا کی مرکزی قیادت یا ریاستی قیادت نے اس پر کوئی لب کشائی نہیں ہے ۔