خبریں

دنیا میں توسیع پسندی کا نہیں بلکہ ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے

دنیا میں توسیع پسندی کا نہیں بلکہ ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے رو حقیقی کنٹرول لائن کا اچانک دورہ کیا جہاں اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے انہیں تازہ صورتحال کی تفصیلات فراہم کیں۔ ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل منوج مکند ناروانے بھی تھے۔ وزیر اعظم یہ دورہ اس وقت کررہے ہیں جب چین اور ہندوستان کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن پر ماہ مئی سے کشیدگی جاری ہے جس نے حالیہ دنوں کے دوران شدت اختیار کی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں موصوف کا یہ اچانک دورہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ایک دفاعی ترجمان کے مطابق وزیر اعظم جمعہ کی صبح حقیقی کنٹرول لائن پر ‘نمو نامی فارورڈ ایریا پر پہنچے اور وہاں فوج، فضائی فورس اور آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی ترجمان کے مطابق وزیراعظم کو فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے حقیقی کنٹرول لائن کی تازہ صورتحال کے حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کیں۔موصوف نے بتایا کہ اس موقع پر وزیر اعظم فوجی جوانوں سے بھی ملے اور انہیں کٹھن حالات میں جانفشانی سے فرائض انجام دینے پر حوصلہ افزائی کی۔ وزیر اعظم مودی نے فوجی جوانوں سے خطاب بھی کیا اور 27 منٹ طویل خطاب کے دوران انہوں نے حقیقی کنٹرول لائن پر تعینات فوجیوں کی خدمات کو سراہا۔بعد ازاں وزیر اعظم نے فوجی ہسپتال جاکر وادی گلوان میں جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘آج پوری دنیا آپ کے عزم کا تجزیہ کررہی ہے۔ میں آج صرف اور صرف آپ کو سلام پیش کرنے آیا ہوں۔ آپ کو چھو کر کے اور آپ کو دیکھ کر کے ایک تحریک لے کر کے جا رہا ہوں کہ ہمارا بھارت خود مختار بنے۔ انہوں نے کہا: ‘دنیا کی کسی بھی طاقت کے سامنے نہ کبھی جھکے ہیں اور نہ کبھی جھکیں گے۔ یہ بات میں آپ جیسے بہادر فوجیوں کو دیکھتے ہوئے بولتا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ ساتھ آپ کو جنم دینے والی بہادر مائووں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔ ان مائوں کو جنہوں نے آپ جیسے بہادر فوجیوں کو جنم دیا ہے اور ملک کے حوالے کیا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل ناروانے نے 24 جون کو مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کا دورہ کر کے موجودہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔واضح رہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر 15 اور 16 جون کی درمیانی شب کو چین اور بھارت کی افواج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ چین کا بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا تھا لیکن وہ اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ اس ہلاکت خیز جھڑپ کے بعد سے جہاں لداخ یونین ٹریٹری میں خوف ودہشت کا ماحول سایہ فگن ہے وہیں دوسری طرف سری نگر – لیہہ قومی شاہراہ پر فوجی اور جنگی ساز و سامان والی گاڑیوں کی نقل وحمل بڑھ جانے سے بھی لوگوں میں تشویش و فکر مندی مزید بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج نے موجودہ صورتحال اور کسی بھی دفاعی کارروائی کے لئے جنگی ساز و سامان بشمول توپیں، میزائل، ٹینک اور لڑاکا طیارے سری نگر لیہہ شاہراہ اور بھارتی فضائیہ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک پہنچا دیے ہیں۔ تاہم دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ میں جنگی ساز و سامان کو دفاع کے لئے لایا جارہا ہے جنگ کے لئے نہیں۔ بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حق میں ہے۔جہاں ایک طرف چین نے پوری وادی گلوان پر اپنا حق جتایا ہے وہیں لداخ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر چینی سرگرمیوں درد سر بن گئی ہے کیونکہ یہ لوگ رفتہ رفتہ بھارتی حدود میں داخل ہوتے جارہے ہیں۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دنیا میں توسیع پسندی کی جنگ کا زمانہ ختم ہوچکا ہے بلکہ ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ توسیع پسندی کی جنگ لڑنے والوں کو یا تو ہمیشہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے یا واپس لوٹنا پڑا ہے۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار یہاں جمعہ کے روز ‘نمو نامی فارورڈ علاقے میں فوجی جوانوں سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے چین کا نام لئے بغیر کہا: ‘توسیع پسندی کی جنگ کا دور ختم ہوچکا ہے اور آج ترقی کی جنگ کا دور چل رہا ہے اور تیزی سے بدلتے ہوئے وقت میں ترقی کی جنگ ہی اہمیت کی حامل ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں توسیع پسندی نے انسانیت کو سب سے نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘توسیع پسندی کا جنون جس پر بھی سوار ہوا ہے اس نے عالمی امن کے لئے خطرہ پیدا کیا ہے۔ ایسی طاقتیں مٹ گئی ہیں یا اپنا راستہ بدلنے کے لئے مجبور ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے فوجی جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے دنیا میں بھارت کی طاقت کا پیغام پھیل گیا ہے، آپ کا حوصلہ ان پہاڑیوں سے بھی بلند ہے جن پر آپ دیش کے تحفظ کے لئے مامور ہیں۔انہوں نے کہا ‘آپ کا یہ حوصلہ اور بھارت ماتا کی حفاظت کے تئیں آپ کا تعاون انمول ہے۔ جن کٹھن حالات میں، جس اونچائی پر آپ ماں بھارتی کی ڈھال بن کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں۔ اس بھارت ماتا کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔انہوں نے کہا: ‘آپ کا حوصلہ اس اونچائی سے بھی اونچا ہے جہاں آپ تعینات ہیں۔ آپ کا حوصلہ اس وادی سے بھی سخت ہے جس کو آپ روز اپنے قدموں سے ناپتے ہیں۔ آپ کی طاقت ان چٹانوں جیسی مضبوط ہے جو آپ کے ارد گرد کھڑی ہیں۔ آج آپ کے بیچ آکر میں اس کو محسوس کررہا ہوں۔ وزیر اعظم نے فوجیوں سے کہا: ‘جب ملک کی حفاظت آپ کی ہاتھوں میں ہے۔ آپ کے مضبوط ارادوں میں ہے۔ تو ایک اٹوٹ بھروسہ ہے۔ صرف مجھے نہیں پورے ملک کو ہے اور پورا ملک مطمئن بھی ہے۔آپ جب سرحد پر ڈٹے ہیں تو یہی بھروسہ ہر ایک بھارتی شہری کو دن رات کام کرنے کے کی ہمت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘ابھی جو آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے بہادری دکھائی ہے اس نے پوری دنیا میں یہ پیغام بھیجا ہے کہ بھارت کی طاقت کیا ہے۔ میں میرے سامنے خواتین فوجیوں کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ جنگ کے میدان میں بھی اور سرحد پر بھی۔ یہ اپنے آپ کو جوش و جذبہ دیتا ہے۔ وادی گلوان میں جاں بحق ہونے والے فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘میں گلوان وادی میں شہید ہوئے اپنے بہادر جوانوں کو بھی ایک بار پھر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان میں جنوب، شمال، مشرق اور مغرب غرض ملک کے ہر کونے کے بہادروں نے اپنی بہادری دکھائی۔ انہوں نے کہا: ‘ان کے حوصلے اور بہادری پر دھرتی ان کا جے جے کار کرتی ہے۔ آج ان بیس بہادر فوجیوں کو ملک کا ہر شہری خراج عقیدت پیش کرتا تھا۔ انہیں سلام پیش کرتا ہے۔ آپ ہر ایک شہری کی چھاتی آپ کی بہادری کی وجہ سے چوڑی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لداخ میں قائم فوج کی 14 ویں کور سے وابستہ جوانوں کی بہادری کی باتیں ہر جگہ ہورہی ہیں اور آپ کی بہادری اور حوصلے کی کہانیوں کی باز گشت بھارت کے ہر گھر میں سنائی دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘آپ کی بہادری کے قصے تو ہر طرف ہیں۔ دنیا نے آپ کی بہادری دیکھی ہے۔ آپ کے بہادری کے قصے گھر گھر میں گونج رہے ہیں۔ بھارت ماتا کے دشمنوں نے آپ کا فائر بھی دیکھا ہے اور فیوری بھی دیکھی ہے۔ موصوف وزیر اعظم نے کہا کہ جو کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی بھی قیام امن کی پہل نہیں کرتے ہیں کیونکہ امن قائم کرنے کے لئے کی جانے والی پہل کی بنیادی شرط بہادری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگ ہوئی ہے یا امن رہا ہے ہمیشہ بہادروں کو فتح سے ہمکنار ہوتا ہوا دیکھا گیا ہے اور ہم نے ہمیشہ انسانیت کی بقا کے لئے کام کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا: ‘دنیا میں انسانیت کی بقا کے لئے امن اور دوستی کو ہر ایک نے مقدم سمجھتا ہے۔ ہر کوئی مانتا ہے کہ وہ ضروری ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کمزور امن کی پہل نہیں کرسکتا۔ عالمی جنگ ہو یا امن کی بات۔ جب بھی ضرورت پڑی ہے۔ دنیا نے ہمارے فوجیوں کی جدوجہد بھی دیکھی ہے اور عالمی امن کے لئے ان کی کوششوں کو محسوس بھی کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور دوسرے خرچہ جات میں تین گنا اضافہ کیا ہے۔