سرورق مضمون

دہلی کا کشمیر کے خلاف اعلان جنگ / فوجی سربراہ کے بعدامیت شاہ کی کشمیر آمد

ڈیسک رپورٹ
بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ فوج کی طرف سے کشمیر میں کئے جانے والے تشدد پر کئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں سخت تشویش دیکھی گئی ۔ فوج کے ایک سابق آفیسر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو سے فوج کو جو شرمندگی ہوئی وہ سالہا سال تک فوج کا پیچھا کرتی رہے گی ۔ فوجی آفیسر کے اس تبصرے پر بی جے پی سیخ پا ہوگئی اور کئی لیڈروں نے ان کے اس بیان کی مزمت کی ۔ کسی نے کہا کہ ایسے آفیسر کو پاکستان جاکر وہاں آئی ایس آئی کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ کسی نے ایسے فوجی کو داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کا مشورہ دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملک میں کشمیر کے حوالے سے سخت نفرت پائی جاتی ہے ۔ ایک وزیرچندر پرکاش گنگا نے کہا کہ پتھر کا جواب گولی سے دینا چاہئے ۔ تازہ بیان بی جے پی جنرل سیکریٹری کی طرف سے سامنے آیا ۔ اس نے اپنے بیان میں فوج کی طرف سے کی جانے والی کاروائی کی تعریف کی اور کہا کہ اس طرح سے لوگوں کی جان بچانے میں مدد ملی ۔
سرینگر کی پارلیمنٹ نشست کے لئے ہوئے حالیہ انتخاب کے دوران سیکورٹی فورسز پر سخت پتھرائو کیا گیا ۔ یہاں تک کہ کئی پولنگ بوتھوں پر عملے کو داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ بڈگام میںکئی سیکورٹی اہلکاروں کو پورے دن کے لئے یرغمال بنایا گیا جو بعد میں بڑی مشکل سے جان بچاکر نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ مقامی نوجوانوں نے ان کی رہائی اور محفوظ ٹھکانے تک پہنچنے میں مدد کی ۔ کئی نوجوانوں نے اس دوران سی آرپی ایف اہلکاروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جس کا ویڈیو اسی شام سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا ۔ اس ویڈیو سے سارے ملک میںغم و غصہ پھیل گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث کشمیری نوجوانوں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے ۔ اس پر پولیس نے ویڈیو میں دکھائے گئے اور کچھ دوسرے شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ۔ اگلے دن ایک درجن کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور تاحال حراست میں ہیں ۔ اس ویڈیو اور اس پر ردعمل ظاہر کرنے کے نتیجے میں فوج کی طرف سے کی جانی والی زیادتی والے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر لوڈ کئے گئے ۔ ایسی کئی ویڈیو میں بڈگام کا وہ ویڈیو شامل ہے جس میں فوجی گاڑی کے اگلے شو پر ایک نوجوان کو رسیوں سے بندھا ہوا دکھا یا گیا ہے ۔ مذکورہ نوجوان نے الزام لگایا کہ ووٹنگ کے روز وہ اپنا ووٹ ڈال کر کسی رشتہ دار کے گھر تعزیت کے لئے جارہاتھا ۔ ا س دوران فوج کی ایک ٹکڑی نے اسے پکڑا۔ پہلے زدوکوب کیا ۔ پھر گاڑی کے سامنے والے حصہ پر بٹھاکر باندھ دیا اور سارا دن اسے مختلف بستیوں میں گھماتے پھرتی رہی ۔ اس نے کہا کہ اسے دس سے بارہ گائوں میں گھمایا گیا ۔ اس کی تفصیل سامنے آتے ہی ہر طرف سے فوج کی مذمت کی جانے لگی ۔ حوالہ دیا گیا کہ پہلے اسی طرح اسرائیلی فوجوں نے ایک فلسطینی نوجوان کو باندھ کر سنگ باری سے بچنے کے لئے گاڑی سے باندھ دیا تھا ۔ اب یہ کام ہندوستانی فوجوں نے کیا ۔ اس ویڈیو کی دنیا بھر میں دھوم مچی اور حقوق انسانی کے کئی اداروں نے اس کی مذمت کی ۔ ادھر اطلاع ہے کہ اس ویڈیو سے ہندوستان کی یواین سیکورٹی کونسل میں بڑی درگت بن گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان یہاں جس نشست کے لئے کئی سالوں سے کوشش کررہا تھا اس کی ان کوششوں پر پانی پھر گیا ۔ ہندوستان ایک بار پھر عالمی تنقید کا نشانہ بناہوا ہے ۔ ریاستی وزیر چندر پرکاش گنگا کے بیان نے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ۔ گنگا کے بیان کے خلاف ریاست میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ۔ پی ڈی پی نے گنگا کے بیان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور واقف بورڈ کےوائس چیرمین پیرازادہ منصور حسین نے اس بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا اور ان لوگوں کی سازش سے جوڑدیا جو کشمیر میں شورش بپا رکھنا چاہتے ہیں ۔ منصور نے الزام لگایا کہ شدت پسند عناصر یہاں تعلیمی اور اقتصادی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے بیانات انہی سازشی عناصر کی کوشش ہے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ا یسے بیانات دینے کے بجائے مرکز اور ریاستی سرکار کو مل جل کر حالات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ پی ڈی پی کے ایک اور سینئر لیڈر سرتاج مدنی نے گنگا کے بیان کو غیر شائستہ اور غیر قانونی بتا یا ہے ۔ گنگا کے بیان پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے ترجمان نے بیان کو حالات بگاڑنے کی ایک کوشش قراردیا ۔ انہوں نے اس بیان کو بی جے پی لیڈروں کے ذہنی انتشار کا مظہر قراردیا ۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران کالے کپڑے پہن کر اس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا گیا ۔ مارچ کرنے والوں نے ٹی آر سی گرائونڈ میں جمع ہوکر مذکورہ منسٹر کا پتلا جلایا ۔ یوتھ نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے مطالبہ کیا کہ گنگا کو اس بیان پر فوری طور کابینہ سے خارج کیا جانا چاہئے ۔ ادھر کئی تجارتی حلقوں نے بھی اس بیان کی مذمت کی اور بیان دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ وزیر کے خلاف عدالتی کاروائی کی جانی چاہئے ۔ فیڈریشن آف چیمبر آف انڈسٹریز کے صدرنے اس بیان کو قابل افسوس قرار دیا اور ایسی تجویز پر قانونی کاروائی کرنے کی مانگ کی ۔ایسا ہی ایک بیان ٹریڈرس فیڈریشن نےبھی دیا ۔ علاحدگی پسند رہنمائوں نے گنگا کے بیان کی بڑے پیمانے پر مذمت کی اور اس کے خلاف سخت بیانات دئے ۔
کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ یاد رہے سرینگر میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران وہاں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ۔ اس دوران آٹھ نوجوان مارے گئے ۔ حالات میں تھوڑا بہت سدھار آتے ہی پلوامہ میں اس وقت سخت شورش بپا ہوگئی جب پولیس نے مقامی کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ وہاں زیرتعلیم طلبا نے پولیس کی کوشش ناکام بنائی ۔ تصادم کے دوران کئی طلبا زخمی ہوگئے ۔ اس کے خلاف وادی بھر کے کالجوں کے علاوہ چناب وادی میں بھی احتجاج کیا گیا ۔ اس کے بعد ہائرسیکنڈری سطح کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کی گئیں ۔ حالات انتہائی تشویشناک قراردئے جارہے ہیں ۔ این سی لیڈر مطالبہ کررہے ہیں کہ ریاست میں گورنرراج نافذ کرنے سے ہی حالات میں سدھار لایا جاسکتا ہے۔ اننت ناگ نشست کے لئے انتخابات ملتوی کئے گئے ۔ الیکشن کمیشن اور ریاستی سرکار انتخابات منعقد کرانے کے حوالے سے شش وپنج کی شکار ہی ۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے پہلے فوجی سربراہ نے وادی کا دورہ کیا ۔ اس نے وزیراعظم کے مشیراجیت ڈوئل کو رپورٹ پیش کی۔ اب رواں ماہ کے آخر میں بی جے پی کے صدر وادی کے دوروزہ دورے پر آرہے ہیں ۔ اس طرح سے بی جے پی کی مرکزی سرکار پہلی بار کشمیر حالات کی وجہ سے سخت پریشان دکھائی دیتی ہے ۔