اداریہ

ذرا نہیں پورا سوچئے!

گذشتہ دنوں وزیر تعمیرات نعیم اختر نے ترال چندرگام نامی گائوں میں عوام کے نام ایک پُل وقف کیا، حالانکہ اس پُل پر پہلے سے ہی ٹریفک کی آواجاہی جاری تھی، تاہم وزیر تعمیرات نے پُل کا باضابطہ افتتاح کیا ہے، ستمبر2014 کے تباہ کن سیلاب نے اس جگہ کے پہلے پُل کو تباہ کر کے چھوڑا ہے، اب جبکہ اس جگہ پر دوسرا پُل تعمیر کیا گیا جس کا افتتاح نعیم اختر نے کیا تھا، تاہم چندریگام پُل کے افتتاح کرنے کے بعد وزیر تعمیرات نے علاقے میں زیر تعمیر دیگر کاموں کا معاینہ کرنے کا بھی پروگرام بنایا تھا اور اس دوران وہ اپنے قافلے سمیت بس سٹینڈ ترال سے گذر رہا تھا کہ اُن کے قافلے کو گرنیڈ حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں وزیر تعمیرات بال بال بچ گئے تاہم حملے میں کئی ایک شہری جان بحق ہو گئے اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے، حالانکہ جان بحق ہونے والوںکی تعداد اگر چہ ابتدائی طور پر تین بتائے جاتے تھے مگر خدشا ظاہر کیا گیا کہ کئی ایک زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بہر حال گرنیڈ کہاں سے آگیا اور کس نے پھینکا یہ الگ بات، سوچنے اور سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ کہ مرے کون؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو کہ تقریباً ہر ذی حس کے ذہن سے اُبھر رہا ہے، مرنے والوں میں سبھی انسان ہی تو تھے، اب اگر چہ یہ بھی خدشا ظاہر کیا جائے گا کہ مارنے کا ٹارگٹ وزیر تعمیرات تھے ،تاہم نشانہ صحیح نہ لگنے کی صورت میں دیگر شہری زد میں آگئے،ذرا نہیں پورا سوچئے کیا وزیر تعمیرات انسان نہیں ہے، کیا اس طرح انسانی جان ضیاں نہیں ہوتا، ذرا نہیں پورا سوچئے انسان کا جان لینے والے واحد وہ اللہ پاک ہے اس کے سواکسی کو کسی کا جان لینے کا حق نہیں ہے۔ذرا نہیں پورا سوچئے دونوں طرف سے کون مرتے ہیں اور اس طرح کے حملوں میں بھی کون نشانہ بنتے ہیں۔غور طلب بات ہے کہ کئی ایک حلقے اس بات کا نظریہ رکھتے ہیں کہ کئی حلقے اس طرح کے وارداتوں کو انجام دینے میں ہی اپنا مقصد نکالتے ہیں۔ بہر حال ایک ذی حس انسان ہمیشہ انسانی جانوں کے ضیاں ہونے پر فکر مند رہتا ہے اور ذی حسن انسان کا جگر ایسے وارداتوں کے ہونے سے چھلنے ہو جاتے ہیں،حالانکہ ایسے وارداتوں میں چاہیں جانیں کس کی بھی تلف ہو جائیں۔ یہاں پر ایک اور سکول کی ایسے یا اس طرح کے واردات انجام دینے یا انجام دلانے میں انسانی جانوں کے ضیاں کرانے سے اُنہیں کیا سکون ملتا ہے؟ذرا نہیں پورا سوچئے۔