سرورق مضمون

راجناتھ سنگھ کے بعد منموہن سنگھ کشمیر مشن پر

راجناتھ سنگھ کے بعد  منموہن سنگھ کشمیر مشن پر

ڈیسک رپورٹ
مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کا اپنا چار روزہ دورہ مکمل کیا ہے ۔ ان کے دورے سے کیا تبدیلی آئے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ بی جے پی کو شکایت ہے کہ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے ان کے دورے کو زیادہ کوریج نہیں دیا ۔ محکمے کو اس حوالے سے حکومت کی طرف ہدایات ملی تھیں یا ان سے کوتاہی ہوئی تا حال معلوم نہیں ہوسکا۔خود وزیرداخلہ نے شکایت کی کہ جموں میں ان کے آرام و آسائش کا خیال نہیں رکھا گیا تھا ۔ آپ رات گئے جب اپنے لئے مخصوص کئے گئے کمرے میں سونے کے لئے چلے گئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں مبینہ طور چوہوں نے ڈیرہ ڈالا تھا ۔ اس کے بعد جب انہوں نے وہاں سونے سے انکار کیا تو جلدی میں نیا کمرہ تلاش کرنا پڑا ۔ اس دوران سنگھ سخت برہم ہوگئے اور شکایت کی کہ منسلک آفیسروں نے ان کے آرام کا خیال نہیں رکھا ۔ یہ بڑی نااہلی اور بے ادبی ہے کہ ایک اتنا بڑا عہدے دار دورے پر آئے اور ان کی رہائش کھانے پینے اور آرام کا صحیح طور خیال نہ رکھا جائے ۔ سنگھ نے کشمیر کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد جموں تشریف لیا جہاں انہوں نے کئی عوامی اور سیاسی وفود سے ملاقات کی ۔ کشمیر میں انہوں نے کئی سیاسی ، سماجی اور عوامی وفود سے تبادلہ خیال کیا ۔ اس کے علاوہ اپوزیشن رہنمائوں اور دوسری مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں سے مل کر گفتگو کی۔
راجناتھ سنگھ کشمیر کس مقصد سے آئے تھے تاحال معلوم نہ ہوسکا۔ اگرچہ انہوں نے اننت ناگ جاکر پولیس آفیسروں اور اہلکاروں سے مل جل کر ان کے ساتھ وقت گزارا ۔ تاہم وہاں بھی انہوں نے اپنے دورے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ۔ مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ سنگھ وادی اصل میں کس غرض سے آئے تھے ۔ یہاں کے حکومتی حلقوں کے ساتھ بھی انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ان کے دورے کا مقصد واضح ہوجائے ۔ بی جے پی حلقے بھی حیران ہیں کہ ان کے ساتھ پارٹی یا حکومت کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود ان کے دورے کو اہم قرار دیا جارہاہے ۔ راجناتھ سنگھ پچھلے تیرہ مہینوں کے دوران پانچ بار کشمیر آئے ۔ انہوں نے خود کہا کہ کسی بھی وزیرداخلہ نے اب تک کشمیر اتنی بار آکر یہاں کے لوگوں سے بات چیت نہیں کی ۔ اس کے باوجو د لوگ اس بارے میں اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ وہ یہاں اصل میں کون سا مقصد حاصل کرنے آئے تھے۔ مین اسٹریم لیڈروں کے ساتھ کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے یہاں کے حالات میں تبدیلی آنے کا اشارہ دیا جاتا۔ حالات جوں کے توں ہیں ۔ ہر روز ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے ہیں۔ حکومت سخت سردمہری کی شکار ہے ۔ وزیروں کی سرگرمیاں سیول سیکریٹریٹ تک محدود ہیں ۔ وزیر اپنے ماتحت آفیسروں کے ساتھ میٹنگوں سے زیادہ کوئی سرگرمی نہیں کرسکتے ہیں ۔ عوام میں گھومنے پھرنے کی انہیں ہمت نہیں ہے ۔ تین سال کا عرصہ گزر گیا ۔ حکومت کوئی جلسہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔ جموں میں بھی بی جے پی کی سرگرمیاں پارٹی دفتروں تک محدود ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ ختم ہوگیا ہے ۔ ریاست میں سیاسی خلا شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے ۔ یہ خلا حریت حلقوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے پورا کیا جاسکتا تھا ۔ حریت لیڈر گرفتار یا خانہ نظر بند ہیں ۔ ان کو عوام تک پہنچنے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ریاست میں پوری طرح سے خاموشی پائی جاتی ہے ۔ مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار مل جل کر لوگوں کو سیاسی سرگرمیوں سے دوررکھنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں ۔
ادھر وزیرداخلہ کے دہلی پہنچنے کے بعد اب سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ٹیم لے کر سرینگر آئے ہیں ۔ ڈاکٹر سنگھ کی سربراہی والی تین رکنی ٹیم سرینگر پہنچ گئی۔ اس سے پہلے کانگریس وفد نے اس وقت جموں کا دورہ کیا جب راجناتھ سنگھ سرینگر میں تھے ۔ کانگریس وفد میں منموہن سنگھ کے علاوہ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد ،سابق مرکزی وزیرپی چدامبرم اور کانگریس جنرل سیکریٹری امبیکا سونی شامل ہیں۔ اس وفد نے 10 اور11ستمبر کو جموں کاایک روزہ دورہ کیا۔ جموں میں انہیں مبینہ طورکئی حلقوں کی طرف سے سخت قسم کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ جموں کشمیر میں حالات بگاڑنے کی اصل ذمہ دار کانگریس ہی ہے ۔
اس دوران کانگریس سربراہ راہول گاندھی نے لندن میں کشمیر سے متعلق بیان میں بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس نے وادی میں نوے کی سی صورتحال پیدا کی ۔ گاندھی کے اس بیان پر بی جے پی لیڈر سخت سیخ پا ہوگئے ۔ وزیرداخلہ نے ان کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور ملک سے باہر بیان دینے کی سخت مزمت کی ۔ کانگریس وفد سے پہلے بی جی پی کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں ایک وفد نے ریاست کے دوتین دورے کئے ۔ انہوں نے یہاں کے حالات سے متعلق تفصیلی رپورٹ وزیراعظم کو بھیجدی ۔ لیکن مرکزی سرکار نے اس رپورٹ کو سرے سے ہی ماننے سے انکار کیا ۔ اب کانگریس ٹیم سے کوئی کارنامہ انجام پائے گا ممکن نہیں ہے۔
ادھر ریاست میں حالات سخت پیچیدہ ہیں ۔ پچھلے دنوں لشکر طیبہ کے کشمیر چیف ابواسماعیل کو اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ سرینگر کے مضافات میں مارا گیا ۔ ہلاکت کا یہ واقعہ نوگام میں پیش آیا جہاں دن دھاڑے دونوں کو ہلاک کیا گیا ۔ لشکر کے یہ جنگجو وہاں کیسے پہنچ گئے اور کہاں موجود تھے ، کسی کو معلوم نہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں جنگجو ایک مختصر جھڑپ میں مارے گئے ۔ لیکن اس حوالے سے کوئی خاص تفصیل سامنے نہیں لائی گئی۔ مقامی لوگ اس بات سے انکار کررہے ہیں کہ وہ یہاں موجود یعنی چھپے ہوئے تھے ۔ پولیس نے بھی جنگجووں کے ہائیڈ آوٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔ پولیس کا الزام ہے کہ ابو اسمائیل کھنہ بل میں یاتریوں پر حملے میں ملوث تھا اور پولیس اس کے پیچھے لگی ہوئی تھی ۔ آخر کار سرینگر میں مارا گیا ۔ اس دوران پولیس نے پانچ خطرناک ترین جنگجووں کی فہرست شایع کی جنہیں تلاش کیا جارہاہے ۔ اس فہرست میں ذاکر موسیٰ نامی جنگجو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ ذاکر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سب سے خطرناک جنگجو ہے اور سوشل میڈیا کا ستعمال کرکے لوگوں کو حکومت کے خلاف ابھارتا ہے ۔ ذاکر پہلے حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا ۔ لیکن وہاں سے باغی ہوکر القاعدہ کا گروپ تشکیل دیا ۔ حال میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کیا گیا جس میں ذاکر کو مجاہدین کا غدار قرار دے کر وادی میں جاری جنگجو ہلاکتوں کا اسے ہی ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ حزب المجاہدین نے اسے فرضی اور مجاہد دشمن ویڈیو قرار دیا ۔ اس سے عوامی حلقوں میں عسکریت کے حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ آئے دن کی ہلاکتوں سے عوامی حلقوں میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے ۔ لوگ اس وجہ سے بھی سخت تشویش کا شکار ہیں کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔
راجناتھ سنگھ کے کشمیر مشن کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم قراردی جارہی ہے کہ انہوں نے ریاست کی خصوصی پوزیشن بحال رکھنے کی حمایت کی ۔ یاد رہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی گئی ۔ سائل نے عدالت سے اس حوالے سے آئین میں موجود دفعہ 35Aختم کرنے کی مانگ کی ہے ۔ ریاست کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ بی جے پی کے ایجنڈا پر عمل کیا جارہاہے ۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے عدالت کا سہارا لے رہی ہے ۔ اس الزام کو رد کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے عوام کے جذبات کا خیال رکھا جائے گا ۔ وزیرداخلہ کے اس بیان کو عملی صورت دی گئی تو بی جے پی کے حوالے سے عوامی حلقوں میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ یہ وزیرداخلہ کے کشمیر دورے کی اہم پیش رفت مانی جاتی ہے ۔