سرورق مضمون

رام مادھو سجاد لون ملاقات/ کیا کوئی نیا کھیل کھیلا جارہاہے ؟

ڈیسک رپورٹ
بدھوار کو بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھواچانک سرینگر پہنچ گئے۔ سرینگر میں انہوں نے پہلے ریاست کے گورنر این این ووہرا سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد انہوں نے پیوپلز کانفرنس کے چیرمین اور سابق وزیر سجاد غنی لون سے مبینہ طور ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ کے حوالے سے کئی طرح کی افواہیں گشت کررہی ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں بی جے پی کی قیادت میں نئی سرکار بنانے کے معاملے پر صلاح مشورہ کیا گیا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی اسمبلی کے کئی ممبر بی جے پی کی حمایت کرنے کو تیار ہیں ۔ ان ممبران کو لے کر نئی حکومت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان حلقوں کے برعکس سیاسی مبصریں کا خیال ہے کہ بی جے پی کے لئے مطلوبہ ممبران کی تعداد کا انتظام کرنا ممکن نہ ہوگا۔ پی ڈی پی نے اس اندیشے کو مسترد کیا ہے کہ پارٹی کے کئی ناراض اسمبلی ارکان بی جے پی یا کسی دوسری پارٹی سے مل کر حکومت بنانے کو تیار ہیں ۔یادرہے کہ پچھلی منگلوار کو بی جے پی نے ریاست میں قائم مخلوط سرکار کی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست کے گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کیا ۔ گورنر نے ان کا ستعفیٰ قبول کیا لیکن اسمبلی کو معطل رکھا گیا ۔ اسمبلی کو برخاست کرنے کے بجائے معطل رکھنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔
رام مادھو کااچانک سرینگر آنا سیاسی حلقوں میں بہت ہی اہم سمجھا جاتا ہے ۔ ریاست میں 2014 میںپی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بنانے میں کہا جاتا ہے کہ مادھو کا اہم رول تھا ۔ پھر پچھلے ہفتے اس سرکار کو برخاست کرنے کا باضابطہ اعلان مادھو ہی نے کیا ۔ یہ اعلان اس قدر اچانک تھا کہ وزیراعلیٰ کو آخری وقت تک اس سے بے خبر رکھا گیا ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اپنے آفس میں کام میں مشغول تھیں کہ انہیں ریاست کے چیف سیکریٹری نے خبر سنائی کہ بی جے پی نے حکومت کی حمایت واپس لی ہے ۔ اس سے وزیراعلیٰ کے علاوہ پوری پارٹی کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ریاستی سرکار کے ختم ہونے کے دن سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بی جے پی کئی اسمبلی ممبروں کو اپنے ساتھ ملاکر حکومت بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس حوالے سے پہلے حسیب درابو کا نام لیا گیا ۔ اب سجاد لون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی کوششوں سے نئی حکومت تشکیل دی جائے گی ۔ کہا جاتا ہے کہ رام مادھو کی لون کے ساتھ ملاقات اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ اس ملاقات کے بعد انکشاف کیا گیا کہ مادھو نے انجینئر رشید سے بھی ملاقات کی۔ یادرہے رشید کو گورنر کے ساتھ ہوئی کل جماعتی اجلاس میں نہیں بلایا گیاتھا ۔ جس پر اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ اب مادھو اور انجینئر کے درمیان معنی خیز ملاقات ہوئی ہے ۔ انجینئر کا کہنا ہے کہ اس نے بی جے پی رہنما کو سیاسی قیدی رہاکرنے کے لئے کہا ۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ذریعے سے دہلی تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ریاست میں حکومت سازی کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مادھو سے کہا گیا کہ پی ڈی پی اور این سی کو مخلوط سرکار بنانے کے لئے تیار کیا جائے ۔ ادھرپی ڈی پی کے کئی اسمبلی ممبران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت سے سخت ناراض ہیں ۔ ناراض ممبران کی اس فہرست میں درابو کے علاوہ عبدالحق خان ، مجید پڈر اور بشارت بخاری کا نام لیا جاتا ہے ۔ اگرچہ پی ڈی پی کے تمام ممبران نے ان افواہوں کی تردید کی ہے تاہم اس طرح کی خبریں برابر آرہی ہیں کہ پی ڈی پی کے اندر کچھ ہلچل پائی جاتی ہے ۔ ایک اطلاع میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ڈی پی کے کئی ممبر پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کرکے این سی یا کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کو تیار ہیں ۔ این سی کئی بار مطالبہ کرچکی ہے کہ موجودہ ریاستی اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے ۔ پارٹی نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمرعبدااللہ اس سے پہلے بھی کئی بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ اسمبلی کو توڑ کر گورنر راج قائم کیا جائے ۔ اس وقت ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے ریاستی سرکار پر کورپشن اوردوسرے الزامات لگاکر اپنی شکست تسلیم کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی کو معطل رکھنے سے ہورس ٹریڈنگ کا خطرہ ہے اور ممبران کی خرید وفروخت بڑھ جائے گی ۔
ادھر بھیم سنگھ کی پنتھرس پارٹی کا بھی مطالبہ ہے کہ اسمبلی کو توڑ کر ریاست میں نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ ان کا الزام ہے کہ مخلوط سرکار ہرمحاذ پر ناکام ہوچکی ہے ۔ اس لئے ریاست میں انتخابات کراکے نئی سرکار بنائی جائے ۔ انہوں نے گورنر کے سامنے بھی یہ مسئلہ اٹھایا ۔ بعد میں اس حوالے سے ایک جلوس بھی نکالا گیا ۔ گاندربل اور بڈگام میں کئے گئے پارٹی جلسوں میں اس مطالبے کو دہرایا گیا ۔ عوامی حلقوں کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ سرکار کے برخاست کئے جانے اور گورراج نافذ کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کیاجارہا ہے ۔ لیکن بی جے پی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انتخابات جلد کرانے کے حق میں نہیں ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کے ریاستی یونٹ نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد انتخابات پارٹی کے مفاد میں نہیں ہیں ۔ پارٹی لیڈروں کوخدشہ ہے کہ جموں میں اس کے لئے زمین ہموار نہیں ہے ۔ پارٹی میں کام کرنے والے کئی لیڈروں نے مشورہ دیا ہے کہ جموں میں حالات بہتر ہونے تک انتخابات ملتوی کئے جائیں ۔ ادھر ریاست میں امن وامان کی جو صورتحال ہے اس میں انتخابات منعقد کرانا آسان کام نہیں ہے ۔ ضمنی پارلیمانی انتخابات میں یہاں سخت خون خرابے کی وجہ سے بہت کم ووٹ پڑے۔ اس وجہ سے دہلی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔سرینگر میں الیکشن کرانے کے بعد جنوبی کشمیر میں اس عمل کو ختم کیا گیا ۔ یہ نشست ابھی بھی خالی ہے اور اس پر الیکشن نہیں کرائے گئے۔ آج پوری وادی میں جنگجووں کا دبائو ہے۔ ان حالات میں اسمبلی کے انتخابات منعقد کرانا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔کہا جاتا ہے کہ مرکزی سرکار کو اس وقت امرناتھ یاترا کی فکر ہے ۔ یاترا بغیر کسی خلل کے اختتام کو پہنچانے کی غرض سے ایک لاکھ اہلکار تعینات کئے گئے۔یاترا کے حوالے سے حزب المجاہدین کا ایک پیغام سامنے آیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یاترا پر کسی بھی صورت میں حملہ نہیں کیا جائے گا ۔ حزب کے آپریشنل چیف ریاض نائیکو کا کہنا ہے کہ یاتری ایک مذہبی ذمہ داری کے لئے کشمیر آتے ہیں ۔ جنگجووں کا ان پر حملہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ یہ جواب سیکورٹی حلقوں کی طرف سے دئے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ جنگجو یاترا پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ حزب کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کئے گئے آڈیو ٹیپ کے بعد لشکر طیبہ کا بھی ایک بیان سامنے لایا گیاہے جس میں نہتے لوگوں پر حملہ کرنے کی سختی سے تردید کی گئی ہے ۔ جنگجو تنظیموں کا کہنا ہے کہ یاتری ان کے مہمان ہیں اور مہمانوں پر کسی بھی صورت میں حملہ نہیں کا جائے گا ۔ اس وقت دہلی سے سرینگر تک تمام سیکورٹی حلقے یاترا کے انتظامات اور حفاظت میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس وجہ سے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ جلد ہی نئی حکومت بنائی جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے اس امکان کورد کرتے ہیں کہ جلد ہی نئی ریاستی سرکار بنائی جائے گی ۔