اِسلا میات

رحمۃً للعالمینﷺ کی شان رحمت

رحمۃً للعالمینﷺ کی شان رحمت

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
وما ارسلنک الا رحمۃً للعٰلمین
مگر نہ آیا کوئی رحمت عالم بن کر
اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ’’ اے محمد رسول اللہ ﷺ! ہم نے آپ کو سارے جہاں اور سارے جہانوں کے لئے محض رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک حیرت انگیز اور اگر رحمت کی روح اور مفہوم کے منافی نہ ہوتا تو میں کہتا کہ ایک تہلکہ خیز اعلان ہے، یہ اعلان اس صحیفے میں کیا گیا ہے جس کے لئے تقدیر الٰہی کا فیصلہ تھا کہ وہ دنیا کے ہر حصے میں( اور اپنے نزول کے بعد) تاریخ انسانی کے ہر دور میں پڑھا جائے گا۔ اس کے پڑھنے والے بھی لاکھوں کروڑوں انسان ہوں گے۔ اس پر غور کرنے والے، اس کی تشریح کرنے والے، اس کے اسرار و رموز بیان کرنے والے، اس کے ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف کی تحقیق کرنے والے، اس کو تنقید اور شک و شبہہ کی نگاہ سے دیکھنے والے، اور اس کو علم و تحقیق کی ترازو میں تولنے اور اس کو واقعات کی کسوٹی پر پرکھنے والے انسانوں کا سلسلہ بھی قیامت تک ختم نہیں ہوگا۔ ایک شخص ایک بیان جاری کرتا ہے، کوئی مضمون نگار کسی اخبار یا رسالے میں( جس کی زندگی عام طور پر مخصر اور پڑھنے والوں کا حلقہ اکثر مھدود ہوتا ہے) کوئی مضمون لکھتا ہے، تو اس کو اس اندیشے سے کئی کئی بار غور کرنا پڑتا ہے اور وہ ترازو میں تول تول کر دعویٰ کرتا ہے کہ کوئی اس کی تردید نہ کر دے اور اس کی صداقت کو چیلنج نہ کر دے۔ کتابوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے کہ ان کی عمریں عام طور پر اخبارات و رسائل سے زیادہ طویل ہوتی ہیں اور بعض اوقات سالہا سال تک وہ لوگوں کے مطالعے میں رہیت ہیں اور کوئی کوئی کتاب صدیوں تک بھی ندہ رہتی ہے۔ اس میں کسی بات کو درج یا کسی چیز کا دعویٰ کرتے ہوئے مصنف کو اپنی ذمہ داری کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔ وہ لکھنے کے لئے قلم اٹھاتا ہے تو اس کو پہلے کسوٹی پر کستا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس دعوے یا اعلان کا پڑھنے اور سننے والوں پر کیا ردعمل ہوگا۔ اس کے بعد غور کیجئے کہ خدائے عالم الغیوب ایک ایسی کتاب میں یہ اعلان کرتا ہے کہ جس کے متعلق وہ خود ہی کہتا ہے کہ: لا باتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ط تنزیل من حکیم حمید ( حٰم سجدہ:۴۲)
اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے( اور) دانا( اور)خوبیوں والے اللہ کی اُتاری ہوئی ہے۔ اور جس کے متعلق اس کا اعلان ہے کہـ: انا نحن نزلنا الذکر وانا الہ لحفظوں۔( الحجر:۹)
بے شک یہ( کتاب) نصیحت ہم نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
اس اعلان کی وسعت و عظمت اس کے زمانہ و مکانی رقبے کا طول و عرض دونوں ایسی غیر معمولی باتیں ہیں جن سے سرسری طور پر گزرا نہیں جا سکتا۔ زمانی رقبے سے مراد یہ ہے کہ بعثتِ محمدیؐ سے لے کر قیامت تک جتنی نسلیں دنیا میں آئیں گی اور تاریخ کے جتنے دور گزریں گے یہ اعلان ان سب پر حاوی ہے اور یہ آیت اس پورے زمانی رقبے کو جو ہزاروں سال پر پھیلا ہوا ہے، احاطہ(Cover) کرتی ہے اور مکانی رقبے کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ دنیا کا کوئی گوشہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ہم نے آپ ﷺ کو جزیرۃ العرب کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے یا مشرق کے لئے یا کسی براعظم مثلاً ایشیا کے لئے پیام رحمت بناییا ہے اس کے برخلاف یہ کہا گیا ہے کہ یہ رحمت ساری دنیا پر محیط ہے۔ گویا اُردو کے شاعر حالی کی زبان میں
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہو گئی ساری کھیتی خدا کی
واقعہ یہ ہے کہ اس اعلان کی وسعت، عمومیت، عظمت اور لا محدودیت کے سامنے دنیا کے سارے مورخین، فلاسفر، مفکرین، مصنفین بلکہ پوری نوع انسانی کو انگشت بدنداں، حیرت زدہ اور ششدر ہو کر کھڑا ہو جاناچاہیے اور ایک بار سب کام چھوڑ کر اس واقعے کی تصدیق اور اس اعلان کی صداقت کی تحقیق میں مصروف ہو جانا چاہیے، مذاہب ہی کی تاریخ میں نہیں، تمدنوں اور فلسفوں ہی کی تاریخ میں نہیں، اصلاحی اور انقلابی تحریکوں اور کوششوں ہی کی تاریخ میں نہیں بلکہ پوری تاریخ انسانی اور پورے انسانی لٹریچر میں ایسا پُر اعتماد ، ایسا واضح اور بے لاگ، ایسا عمومی اور عالمگیر اعلان کسی شخصیت یا کسی مذہب و دعوت کے متعلق نہیں ملتا، مذاہب عالم کی تاریخیں، انبیاء علیہم السلام کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات کا جو ریکارڈ دنیا میں محفوظ ہے، وہ بھی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
’’ رحمت‘‘ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک کثیر الاستعمال لفظ ہے
کسی چیز کی اہمیت و عظمت اور قدرو قیمت کا تعین کرنے کے لئے عام طور پر دو پیمانے ہوتے ہیں۔ ایک اس کی تعداد اور مقدار جس کو ہم جدید علمی اصلاح میں’’ کمیت‘‘(Quantity) کے لفظ سے ادا کرتے ہیں، اور ایک کسی شے کا جوہریا صفت ہے جس کو اصلاحاً’’ کیفیت‘‘(Quality) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ قرآنی اعلان جو محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق کیا گیا ہے، ان دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہے یعنی آپ ﷺ کی بعث و نبوت، آپ ﷺ کے وجود گرامی اور آپ ﷺ کی تعلیمات سے انسانیت کو جو فیض پہنچا، اس کو حیات نو کا جو پیغام ملا اور اس کی بیماریوں کا جو مداوا، اس کے مصائب کا جو خاتمہ ہوا، اس پر رحمتوں اور برکتوں کا جو دروازہ کھلا، وہ اپنی وسعت و کثرت اپنی مقدار و کمیت کے اعتبار سے بھی اور اپنی نوعیت و افادیت، اپنے جوہر و کیفیت کے اعتبار سے بھی بے نظیر و بے مثال ہے، رحمت ہماری روزمرہ زندگی کا ایک کثیر الاستعمال لفظ ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس سے کسی انسان کو فائدہ یا راحت حاصل ہو، اس کے انواع و اقسام اور اس کے مراتب و درجات کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اگر کوئی کسی کو پانی پلا دیتا ہے تو وہ بھی ایک طرح کی رحمت ہے، اگر کوئی کسی کو راستہ بتا دیتا ہے تو وہ بھی ایک طرح کی رحمت ہے۔ اگر گرمی میں کوئی کسی کو پنکھا جھل دیتا ہے تو وہ بھی ایک طرح کی رحمت ہے۔ ماں اپنے بچے کو پیار کرتی ہے، باپ اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور اس کے لئے زندگی کا ضروری سامان مہیا کرتا ہے، وہ اس سے بھی بڑی ایک رحمت ہے، استاد طالب علم کو پڑھاتا ہے، اس کو علم کی نعمت بخشا ہے، یہ بھی ایک بڑی قابل قدر رحمت ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑا پہنانا یہ سب رحمت کے مظاہر ہیں اور سب کا اعتراف ضروری اور کریہ واجب ہے۔
لیکن رحمت کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ کسی جان بلب مریض کی جان بچالی جائے۔ ایک بچہ دم توڑ رہا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب آخری ہچکی لے گا، ماں رو رہی ہے کہ میرا لعل دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔ اس سے کچھ نہیں ہو سکتا، باپ مارا مارا پھر رہا ہے، سب بے بس معلوم ہوتے ہیں کہ اچانک طبیب حاذوق فرشتہ رحمت بن کر پہنچتا ہے اور کہتا ہے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، وہ دوا کا ایک قطرہ بچہ کے حلق میں ٹپکاتا ہے اور بچہ آنکھیں کھول دیتا ہے تو سب اس خو خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ کہیں گے اور وہ ساری رحمتیں جن کا میں نے نام لیا، اس رحمت کے سامنے مات ہو جائیں گی، اس لئے کہ یہ اس مریض ہی پر نہیں بلکہ اس کے چھوٹے سے کنبے اور اس سے محبت کرنے والوں پر بھی احسان عظیم ہے کہ اس کی جان بچائی گئی۔ کوئی نا بینا چلا آڑہا ہے، راستہ میں کوئی خندق یا کوئی کنواں پڑ گیا، قریب ہے کہ اس کا اگلا قدم اسی خندق یا کنوئیں میں چلا جائے، اللہ کا ایک بندہ عین وقت پر پہنچتا ہے اور وہ اس کی کمر پکڑ لیتا ہے اور اس کو خندق میں گرنے سے بچا لیتا ہے تو وہ اس کے حق میں فرشتہ کہلائے گا۔ ایک نوجوان جو اپنے باپ کی آنکھ کا تارا اور اپنے کنبے کا سہارا ہے دریا میں ڈوبنے لگا ہے، غوطے کھا رہا ہے، کوئی گھڑی جاتی ہے کہ وہ نہ نشین ہو جائے، ایسے میں کوئی اللہ کا بندہ اپنی جان پر کھیل کر دریا میں کود پڑتا ہے اور اس کی جان بچا لیتا ہے، اس کے ماں باپ اور بھائی فرط مسرت اور احسان مندی کے جذبے سے اس لپٹ جاتے ہیں اور ساری عمر اس کا احسان نہیں بھولتے۔
لیکن رحمت کا آخری مظہریہ ہے کہ پوری انسانیت کو ہلاکت سے بچا یا جائے۔ پھر ہلاکت ، ہلاکت اور خطر خطر میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک عارضی ہلاکت اور تھوڑی دیر کا خطرہ ہے، ایک ابدی ہلاکت اور دائمی خطرہ ہے، خدا کے پیغمبر انسانوں کے ساتھ’’ رحمت‘‘ کا جو معاملہ کرتے ہیں، وہ ان رحمتوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ زندگی کا موج در موج سمندر، یہ زندگی کا طوفانی دریا، جو انسانوں اور افراد ہی کو نہیں، قوموں اور ملکوں کو غرق کر چکا ہے، تہذیبوں اور تمدنوں کو لقمہ اجل بنا چکا ہے، جس کی موجیں ٹہنگوں کی طرح منہ پھیلا کر بڑھی اور بپھرے ہوئے شیر کی طرح انسانوں پر حملہ کرتی ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ اس بے رحم دریا سے کس طرح پار اُتر اجائے اور انسانی قافلے کو ساحل مراد بلکہ ساحل نجات پر کیسے پہنچایا جائے۔ نوع انسانی کا سب سے بڑا محسن اور اس کا نجات دہندہ وہ قرار پائے گا جو انسانی کشتی کو جوڈانوا ڈول ہو رہی ہے، جس کے سوار موجود ہیں لیکن ملاح مفقود ہے، ساحل تک پہنچا دے۔ نوع انسانی ان کی بھی شکر گزار ہے جو اس کو علم و فن کا تحفہ دیتے ہیں ، وہ ان کی بھی شکر بزار ہے جو اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں،۔ وہ ان کی بھی شکر گزار ہے جنہوں نے اس کی زندگی کو پُر راحت بنایا اور اس کی زندگی کی مشکلات کو ختم یا کم کیا۔ وہ کسی کے احسان کی نا قدری نہیں کرتی، لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کو اُن دشمنوں سے بچایا جائے جو اس کی جان کے دشمن ہیں اور اس کی کشتی پار لگائی جائے۔
پس جاہلیت کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ پوری زندگی کی چول اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھی بلکہ ٹوٹ گئی تھی۔ انسان، انسان نہین رہا تھا، انسانیت کا مقدمہ اپنے آخری مرحلے میں اللہ کی عدالت میں پیش تھا، انسان اپنے خلاف گواہی دے چکا تھا، اس حالت میں اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ارشاد ہوا:
وما ارسلنک الا رحمۃً اللعٰلمین(سورہ انبیاہ)
اور( اے محمد ﷺ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔
آئے دنیا میں بہت پاک مکرم بن کر
مگر نہ آیا کوئی رحمت عالم بن کر