اِسلا میات

رسول اللہﷺ کی صفاتِ عالیہ اور اخلاق حسنہ کا بیان

رسول اللہﷺ کی صفاتِ عالیہ اور اخلاق حسنہ کا بیان

حضرت مولانا مفتی محمد عاشق
لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌعَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌm فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِm (سورۃ التوبۃ: ۱۲۸، ۱۲۹)
ترجمہ: بلاشبہ تمہارے پاس رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے تمہیں جو تکلیف پہنچے وہ اس کے لیے نہایت گراں ہے وہ تمہارے نفع کے لیے حریص ہے، مومنین کے ساتھ بڑی شفقت اور مہربانی کا برتائو کرنے والا ہے۔ سواگر لوگ رُوگردانی کریں تو آپ فرمادیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
تفسیر: یہ دو آیتیں ہیں جن پر سورئہ توبہ ختم ہورہی ہے۔ پہلی آیت میں سیدنا خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ کی بعض صفات بیان فرمائیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا جو بڑے مرتبہ والا رسول ہے(اس پر رسولٌ کی تنکیر دلالت کرتی ہے) اور یہ رسول تمہیں میں سے ہے اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ بشر ہے تمہاری جنس میں سے ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب سے ہے، جو مخاطبین اولین ہیں ان کا ہم زبان ہے وہ اس کی باتوں کو سمجھتے ہیں اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نسب کے اعتبار سے اور مل جل کر رہنے کے اعتبار سے تمہیں میں سے ہے تم اس کے نسب کو، اس کی ذات کو اس کی صفات کو اچھی طرح سے جانتے ہو۔ مفسر ابن کثیر (جلد۲، صفحہ ۴۰۳) لکھتے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے سامنے اور حضرت مغیرہ بن شعبہؒ نے کسریٰ کے سامنے اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا: اِنَّ اللہَ بَعَثَ فِینَا رَسُولاً مِّنَّا نَعرِفُہٗ نَسَبَہٗ وَ صِفَتَہٗ وَ مَدخَلَہٗ وَ مَخرَجَہٗ وَ صِدقَہ وَ اَمَانَتَہٗ۔ آپ جن لوگوں میں پیدا ہوئے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی انہیںمیں رہے، آپ انہیں کی زبان میں بات کرتے تھے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے آپ سے استفادہ کرنے اور آپ کی باتیں سننے اور سمجھنے کا خوب موقعہ تھا۔ اگر ان کا نبی ان کی جنس سے نہ ہوتا مثلاً فرشتہ ہوتا یا ان کا ہم زبان نہ ہوتا یا اپنے رہنے سہنے میں کسی ایسی جگہ رہتا جہاں آنا جانا اور ملنا جلنا دشوار ہوتا تو استفادہ کرنے اور بات سمجھنے میں دشواری ہوتی یہ اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا کہ انہی میں سے رسول بھیج دیا۔ کَمَا قَالَ تَعَالیٰ (فی سورۃ ال عمران) لَقَد مَنَّ اللہُ عَلَی المُؤمِنِینَ اِذ بَعَثَ فِیہِم رَسُولاً مِّنۡ اَنفُسِہِم۔ (اللہ نے مومنین پر احسان فرمایا جب کہ ان میں سے ایک رسول بھیج دیا) آپ کی دیگر صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
عَزِیزٌ عَلَیہِ مَا عَنِتُّم حَرِیصٌ عَلَیکُم بِالمُؤمِنِینَ رَءُوفٌ رَّحِیمٌ۔ کہ اُمت کو جس چیز سے تکلیف ہو وہ آپ کو شاق گزرتی ہے اور آپ کو اس سے تکلیف ہوتی ہے اور آپ امت کے نفع کے لیے حریص ہیں آپ کو یہ بھی حرص ہے کہ جملہ مخاطبین ایمان لے آئیں اور یہ بھی حرص ہے کہ اہل ایمان کے تمام حالات درست ہوجائیں اور آپ کو مومنین کے ساتھ بڑی شفقت ہے، آپ ان کے ساتھ مہربانی کا برتائو کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق صرف ایسا نہیں ہے کہ بات کہہ کر بے تعلق ہوگئے بلکہ آپ کا اپنی امت سے قلبی تعلق ہے۔ ظاہراً بھی آپ ان کے ہمدرد ہیں اور باطناً بھی، اُمت کو جو تکلیف ہوتی اس میں آپ بھی شریک ہوتے تھے، اور اُن میں سے کسی کوتکلیف پہنچ جاتی تو آپ کو کڑھن ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا: واَخفِض جَنَاحَکَ لِلمؤمِنِینَ یعنی مومنین کے ساتھ آپ نرمی کا برتائو کیجئے۔ ایک مرتبہ رات کو مدینہ منورہ کے باہر سے کوئی آواز آئی، اہل مدینہ کو اس سے خوف محسوس ہوا چند آدمی جب اس کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا کہ رسول اللہﷺ پہلے ہی سے اِدھر روانہ ہوچکے تھے۔ یہ لوگ جارہے تھے تو آپ آرہے تھے۔ آپ نے فرمایا: لَم تَرَاعَو۔ ڈرو نہیں، کوئی فکر کی بات نہیں (صحیح بخاری جلد۱، صفحہ ۴۱۷)۔
حضرات صحابہ میں کسی کو تکلیف ہوجاتی تھی تو اس کے لیے فکر مند ہوتے تھے، عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ دعا بتاتے تھے۔ مریض کو تسلی دینے کی تعلیم دیتے تھے۔ تکلیفوں سے بچانے کے لیے اُن امور کی تعلیم دیتے تھے۔
جن سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ تھا اور جن سے انسانوں کو خود ہی بچنا چاہیے لیکن آپ کی شفقت کا تقاضا یہ تھا کہ ایسے امور کو بھی واضح فرماتے تھے۔ اسی لیے آپ نے کسی ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا جس کی منڈیر بنی ہوئی نہ ہو۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۴۰۲) اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص (ہاتھ دھوئے بغیر) اس حالت میں سوگیا کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی لگی ہوئی تھی پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچ گئی (مثلاً کسی جانور نے ڈس لیا) تو وہ اپنی جان کو ملامت کرے۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۳۶۶) آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص رات کو سونے کے بعد بیدار ہو تو ہاتھ دھوئے بغیر پانی میں ہاتھ نہ گھسادے کیونکہ اُسے نہیں معلوم کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے (ممکن ہے کہ اسے کوئی ناپاک چیز لگ گئی ہو یا اس پر زہریلا جانور گزر گیا ہو) (رواہ البخاری و مسلم)۔
جوتے پہننے کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیادہ تر جوتے پہنے رہا کرو کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہنے رہتا ہے وہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص سوار ہو (جیسے جانور پر سوار ہونے والا زمین کے کیڑوں مکوڑوں اور گندی چیزوں اور کانٹوں اور اینٹ پتھر کے ٹکڑوں سے محفوظ رہتا ہے ایسے ہی ان چیزوں سے جوتے پہننے والے کی بھی حفاظت رہتی ہے)۔ (رواہ مسلم)۔
نیزآپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب چلتے چلتے تمہارے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک چپل میں نہ چلے جب تک کہ دوسرے چپل کو درست نہ کرے پھر دونوں کو پہن کر چلے اور یہ بھی فرمایا کہ ایک موزہ پہن کر نہ چلے کیونکہ ان صورتوں میں ایک قدم اونچا اور ایک قدم نیچا ہوکر توازن صحیح نہیں رہتا (رواہ مسلم)۔
آپ امت کو اسی طرح تعلیم دیتے تھے جیسے ماں باپ اپنے بچوں کو سکھاتے اور بتاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تمہارے لیے باپ ہی کی طرح ہوں میں تمہیں سکھاتا ہوں پھر فرمایا کہ جب تم قضاء حاجت کی جگہ جائو تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو نہ پشت کرو، اور آپ نے تین پتھروں سے استنجا کرنے کا حکم فرمایا، اور فرمایا کہ لید سے اور ہڈی سے استنجا نہ کرو اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا (مشکوٰۃ صفحہ ۴۲)
اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو جگہ کو دیکھ بھال لے مثلاً پکّی جگہ نہ ہو جہاں سے چھینٹیں اڑیں اور ہوا کا رخ نہ ہو وغیرہ (مشکوٰۃ صفحہ ۴۲) نیز آپ نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں جنات اور کیڑے مکوڑے رہتے ہیں اگر کتب حدیث میں زیادہ وسیع نظر ڈالی جائے تو اس طرح کی بہت سی تعلیمات سامنےا ٓجائیں گی جو سراپا شفقت پر مبنی ہیں۔ اسی شفقت کا تقاضا تھا کہ آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی بھی مومن عذاب میں مبتلا ہوجائے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب اس کے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو پروانے اس آگ میں آکر گرنے لگے وہ شخص ان کو روکتا ہے کہ آگ میں نہ گریں لیکن وہ اس پر غالب آجاتے ہیں اور زبردستی گرتے ہیں، یہی میرا حال ہے کہ میں تمہیں دوزخ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں کو پکڑتا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے ہو یعنی جو لوگ گناہ نہیں چھوڑتے وہ اپنے اعمال کو دوزخ میں ڈالنے کا سبب بناتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے جو گناہوں پر وعیدیں بتائی ہیں اور عذاب کی خبریں دی ہیں ان پر دھیان نہیں دیتے (رواہ البخاری و مسلم)۔
پھر فرمایا کہ اگر لوگ رُوگردانی کریں حق کو قبول نہ کریں۔ محب، شفقت اور رأفت و رحمت والے رسول کی تصدیق نہ کریں تو آپ ان کی طرف سے ایذاء پہنچنے کے بارے میں متفکر نہ ہو آپ یوں اعلان کردیں: حَسبِیَ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ (کہ اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) عَلَیہِ تَوَکَّلتُ وَہُوَ رَبُّ العَرشِ العَظِیمِ۔ (میں نے اُسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے) تَوَکَّل عَلَی اللہِ نبیوں کااور ان کے امتیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اس سے مشکل ترین کام آسان ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابودرداءؓ نے فرمایا کہ جو شخص صبح شام سات مرتبہ حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔ کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام فکر مندیوں کی کفایت فرمائے گا۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد۵، صفحہ ۴۰۵)