اِسلا میات

رسول اکرم ﷺ کا اہل بیت کے ساتھ بے مثال شفقت و محبت کا معاملہ

قمر سنبھلیؔ
حضور اکرم رحمت عالم ﷺ کی ذات ستودہ صفات سراپا رحمت و شفقت ہے۔ آپ کو رحمۃ اللعلمین بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ اس لئے آپ کائنات کی ہر شے کے لئے باعث رحمت ہیں۔ جب آپ ؐ کی رحمت و شفقت کا معاملہ اس قدر وسیع اور عام ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپؐ اپنے عیال اور اہل بیت کے لئے کیسے روئف و رحیم رہے ہوں گے۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے والوں کی نظر سے آپ کی شفقت و محبت کے سلسلے میں کیسے کیسے واقعات گزرے ہوں گے۔ رسال مآب ﷺ کا سلوک اپنے اہل بیت کے ساتھ کیسا تھا، اپنے خاندان، چچا اور ان کی اولادوں کے ساتھ کس طرح کا تھا۔ اور غلاموں تک کے معاملے میں وہ کس درجہ شفیق حسن سلوک کرنے والے تھے تاریخ کے صفحات پر پوری طرح تفصیلات روشن ہیں، اس کے مفصل بیان کے لئے دفتر کے دفتر درکار ہوں گے ہم اس مختصر مضمون میں صرف’’ اہل بیت‘‘ بالخصوص آپ ؐ کی سب سے چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور’’ نواسوںؓ‘‘ کے ساتھ جو بے مثال شفقت و محبت کا معاملہ تھا اس کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔ جگر گوشہ رسولؐ حضرت فاطمہ ؓ آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور آپ ؐ کی سب سے زیادہ محبوب صاحبزادی تھیں۔ جو بعثت سے چند سال قبل پیدا ہوئی تھیں روایت کے مطابق اس وقت حضرت نبی آخر ﷺ کی عمر اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جلیل القدر صحابہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کے لئے’’ سیدۃ انساء اہل الجنتہ‘‘ فرمایا گیا ہے یعنی جنتی خواتین کی سب سے محترم اور مخدوم خاتون ۔ صحین کی ایک روایات میں ملتا ہے کہ رسول اللہﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا گیا’’ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو اذیت پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی اذیت پہنچتی ہے، جس نے اس کو رنج دیا اس نے مجھے رنج دیا‘‘ اس سے حضور ﷺ کی حضرت فاطمہ ؓ سے غایت درجہ محبت اور دلی تعلق کا اظہار ہوتا ہے، حضرت فاطمہ ؓ اپنے والد جانب محمد رسول اللہ ﷺ سے بہت مشاہبت رکھتی تھیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں’’ میں نے فاطمہ ؓ کو ایک مرتبہ آتے دیکھا تو ان کی چال بالکل رسول اللہ ؐ کی چال کے مشابہ تھی۔ حضرت عائشہ ؓ کی ہی ایک اور روایت میں ملتا ہے’’ میں نے بات چیت کے انداز اور گفتگو میں فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو رسول اللہؐ کے مشابہ نہیں دیکھا‘‘ حضور اکرم ؐ کی آپ سے محبت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جا سکتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے مطابق’’ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آخری کام جو کرتے وہ یہ ہوتا کہ فاطمہ ؓ کو جاکر دیکھتے‘‘ اسی طرح کی روایت حضور اکرم ؐ کے غلام حضرت ثوبان ؓ سے بھی ملتی ہے۔ آپ ؐ کا فاطمہ ؓ سے قلبی تعلق کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ حضور ؐ کے وصال سے چھ ماہ بعد ہی وصال فرما کر بہت جلد اپنے شفیق باپ ؐ کے پاس پہنچ گئیں۔ روایت کے مطابق حضور ؐ نے خود ان کو اطمینان دلایا تھا کہ آپﷺ سے سب سے پہلے وہی (آخرت میں) آکر ملیں گی‘‘ نیز یہ بھی ان سے فرمایا تھا کہ’’ کیا تم کو یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تم خواتین کی جنت کی سردار ہو‘‘۔
حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ حضور ؐ کی خصوصی محبت کی یہ بھی اک مثال ہے کہ آپؐ نے ان کے نکاح کے لئے حضرت علی ؓ جیسی ہستی کا انتخاب فرمایا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا’’ میں نے تمہارا نکاح اپنے اہل بیت کے بہترین فرد سے کر دیا ہے‘‘ سرورکائنات ﷺ کو اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بے حد انسیت و محبت تھی، کیوں نہ ہوتی کہ آپ ؐ کی سب سے پیاری بیٹی کی اولاد تھے اور جن سے دنیا میں حضور کا نسلی سلسلہ بھی چلنا تھا۔ حضورؐ نے اپنے ان پیارے نواسوں کے لئے نماز کے دوران اپنے سجدوں کو طویل کر دیا یہ معصوم پیارے بچے کھیلتے ہوئے نانا جان جب نماز میں مشغول ہوتے اور سجدے میں جاتے تو ان کی پشت پر سوار ہو جاتے۔ آپ اس خیال سے کہ کہیں ان معصوم بچوں کو کوئی چوٹ نہ آجائے دیر تک سجدے سے سر نہ اٹھاتے، حضرت فاطمہ ؓ کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت حسن ؓ رسول خدا ؐ سے تمام خلق خدا میں زیادہ قریب اور مشابہ تھے۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے’’ جب یہ بچے تھے تو آنحضرت ؐ کبھی ان کے رخسار و لب چومتے اور کبھی ان کی زبان اپنے دہان مبارک میں لے کر چوستے، کبھی گود میں کھلاتے، کبھی سینے اور پیٹھ پر بیٹھاتے، کبھی اپنے ساتھ منبر پر چڑھاتے‘‘ ایک صحیح روایت میں ہے کہ’’ حضرت حسن ؓ سینے سے سر تک اپنے نانا کے مشابہ تھے اور حضرت حسین ؓ کا جسم جسد اطہر کے مشابہ تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت کم سخن تھے وہ لوگوں کے لڑائی جھگڑوں کے معاملات سے بھی الگ رہتے لیکن اگر کسی مسئلے میں ان سے رجوع کیا جاتا تو دلیل کے ساتھ اپنی بات سمجھا دیتے۔
حضرت حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ بھی رویات ملتی ہے کہ آپ دونوں جنتیوں کے سردار ہوں گے۔ حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے گئے’’ الحسن والحسین سید اشباب اہل الجنتہ‘‘ حضرت ابن عباس ؓ سے رویات ہے کہ’’ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے دوش مبارک پر اپنے نواسے کر لئے ہوئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا’ صاحبزادے بڑی اچھی سواری پر بیٹھے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سوار بھی بہترین ہے۔‘‘ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دوسرے صاحزادے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ 4ھ میں پیدا ہوئے۔ رسول اکرم ﷺ نے شہد چٹایا اور نومولود کے دہن کو اپنی مبارک زبان سے تر کیا، دعائوں سے نوازا اور بچے کا نام حسین رکھا۔ حضرت ابو ایوب انصاری کی ایک روایت میں ملتا ہے انہوں نے فرمایا کہ’’ ایک روز میں رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا حسن اور حسین رضی اللہ عنہا دونوں آپ کے سینہ مبارک پر چڑھے کھیل رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ان دونوں سے آپ اس درجہ محبت کرتے ہیں؟ فرمایا کیوں نہیں، یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں، ایک روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ حسن ؓ و حسین ؓ جو انان جنت کے سردار ہیں‘‘ دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ’’ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے حسین ؓ کے رونے کی آواز سنی تو ان کی والدہ سے کہا: کیا تم کو معلوم نہیں کہ ان کے رونامجھے اندوہ گیں کرتا ہے‘‘ جس طرح محبت و شفقت کا معاملہ سردار انبیاء ﷺ کا اپنے اہل بیت کے ساتھ تھا اسی طرح اہل بیت کا بھی آپ ﷺ کے ساتھ تعلق اور آپ ؐ کی راحت رسانی کے لئے فکر مندی کا ملتا ہے۔ روایت میں آتا ہے ایک دن رسول ﷺ کے گھر فاقہ تھا، حضرت علی ؓ کو یہ معلوم ہوا تو وہ کسی مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے تاکہ اس سے اتنا مل جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی ضرورت پوری ہو جائے، اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کے باغ کی سینچائی کا کام اپنے ذمے لیا، مزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اجرت ایک کھجور، حضرت علی ؓ نے 17 ڈول کھینچے، یہودی نے انہیں اختیار دیا کہ جس نوع کی کھجور چاہیں لے لیں، حضرت علی ؓ نے اپنی طے شدہ مزدوری کے مطابق17وجوہ (کھجور ) لے لئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔( حضور ؐ نے کھجوریں دیکھ کر) فرمایا: جناب یہ کہاں سے لائے؟ حضرت علی ؓ نے عرض کیا یا نبی ؐ اللہ! مجھے پتہ لگا کر آج (آپ کے یہاں) فاقہ درپیش ہے، اس لئے کسی مزدوری کی تلاش میں نکل گیا تھا کہ کچھ کھانے کا سامنا کر سکوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت نے اس پر آمادہ کیا تھا؟ (حضرت علی ؓ نے) عرض کیا: ہاں، یا رسول اللہﷺ ‘‘ اللہ اللہ یہ تھا ایک دوسرے سے تعلق۱ حضور اکرم بھی دلار ور شفقت سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو’’ابو تراب‘‘ کہا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا بیان ہے…’’ رسول اللہ ﷺ حجرہ فاطمہ کی طرف گئے( حضرت علی ؓ کو وہاں نہ پا کر) حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا( علی ؓ) کہاں ہیں؟ (حضرت فاطمہ ؓ نے ) کہا مسجد میں، آپ مسجد تشریف لائے تو دیکھا کہ( علی ؓ لیٹے ہوئے ہیں) چادر ان کی پشت سے اتر گئی اور پیٹھ میں مٹی لگ گئی ہے، آپؐ اپنے دست مبارک سے ان کی پشت پر لگی ہوئی مٹی صاف کرنے لگے اور دو مرتبہ فرمایا’’ اجلس یا ابا ثواب‘‘ بیٹھ جائو اے ابو تراب‘‘( ابو تراب کا ترجمہ خاک آلود کیا جاسکتا ہے)
غرض سردار انبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اپنے اہل بیت کے ساتھ جو شفقت و محبت اور مکرمت کا معاملہ رہا اس کی مچالوں سے سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں، ہمارے اسلاف نے اپنی زندگیاں تلاش و جستجو میں قربان کرنے کے بعد تمام واقعات چھان پھٹک کر ملت کے سامنے پیش کر دے ہیں کاش ہم اس سے پوری طرح استفادہ کر سکیں اور ان واقعات سے کچھ سبق حاصل کر سکیں اور آج جو ہمارے معاشرے کے حالات دگر گوں ہیں ان پر حضور اکرم ﷺ کی سیرۃ پاک کی روشنی میں غور و فکر کر سکیں!
( حوالے: صحیح بخاری شریف، کنزالعماں، الاستعیاب، البدایہ والنہاریہ وغیرہ کی رویاات، حوالوں اور عبارات کے لئے مولانا ابوالحسن علی ندی کی تصنیف’’ المرتضیٰ‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہے)