اِسلا میات

روزہ …احکام و مسائل

عبدالغفار صدیقی
حکم: روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو تمام امتوں اور مذاہب میں موجود ہے، خواہ اس کی شکلیں کچھ بھی ہوں۔مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں، جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت 183 میں کہا گیا ہے:
’’ اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، امید ہے کہ تمھارے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘
فضیلت: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے رمضان کی آمد کے موقع پر فرمایا:
’’ تم پر ایک ایسا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہوا ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکردیے جاتے ہیں اور شیطان قید کردیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کے خیر سے محروم رہا وہ بس محروم ہی ر ہ گیا۔‘‘ (احمد ،نسائی، بیہقی) بعض روایتوں میں ہے کہ اس ماہ میں فرض کا ثواب ستر گناہ بڑھا دیا جاتا ہے اور نوافل کا اجر فرائض کے برابر ملتا ہے۔
روزہ کے شرائط:
٭دل سے یہ ارادہ (نیت )کرنا کہ رمضان کا روزہ رکھ رہا ہوں۔
٭کھانے ، پینے، مباشرت اور ان چیزوں اور باتوں سے جو روزے کو توڑنے والی ہیں اپنے آپ کو طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روکے رکھنا۔
روزہ کن لوگوں پر فرض ہے:
ہر عاقل، بالغ،تندر ست اور مقیم مرد و عورت پر روزہ فرض ہے۔ مجنون، نابالغ، سن رسیدہ انسان اوربچے پر روزہ فرض نہیں ہے ۔ مسافر، حاملہ او رمرضعہ( دودھ پلانے والی عورت)کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے ، البتہ انھیں بعد میں اس کی قضا کرنی ہوگی۔
روزہ کے مباحات: درج ذیل کام روزہ کی حالت میں جائز ہیں۔ یعنی ا ن کے کرنے سے روزہ میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی۔
٭ مسواک کرنا ٭ نہانا ٭ سرمہ لگانا ٭ فصد کرانا(یعنی اپنے جسم کا خون نکلوانا، لیکن دھیان رہے کہ اس سے کمزوری نہ ہو، اگر کمزوری ہونے کا ڈر ہو تو ایسا نہ کیا جائے) ٭ احتلام ٭ بھول کر کھاپی لینا۔
جن کاموں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے: ٭ جان بوجھ کر کھاپی لینے سے ،خواہ اس چیز کا تعلق غذا سے ہو یا نہ ہو ٭کسی بھی قسم کے جنسی عمل سے ٭ قے ہوجانے سے ٭حیض اور نفاس سے ٭روزہ توڑ لینے کی نیت کرنے سے۔(تفصیلی احکام و مسائل کے لیے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں)
روزہ کے مقاصد: انسان جو عمل کرتا ہے اس کا ایک مقصد ہوتا ہے اور مقصد کا حصول ہی اس کو عمل پر ابھارتا ہے۔ اگر مقصد حاصل نہ ہو تو انسان اپنے عمل کو ضائع اور بے کار سمجھتا ہے لیکن یہ رویہ عام طور پر دنیا وی امور میں ہوتا ہے۔ جہاں تک خالص تعبدی اعمال کا معاملہ ہے ان میں وہ مقصد پر نظر نہیں رکھتا جس کے باعث مدتوں عمل کرنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا مقصد پر نظر رکھنا ضرور ی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مقصد اور نتیجہ میں فرق ہے۔ نتیجہ ایک لازمی شئ ہوسکتا ہے ،مگر مقصد میں قصد و اراہ شامل ہوتا ہے ۔ گویا مقصد اس وقت حاصل ہوگا جب آپ اس کو حاصل کرنا چاہیں گے۔ ذیل میں چند مقاصد کی جانب اشارہ کیا جارہا ہے،ضرورت ہے کہ روزہ رکھتے وقت ان مقاصد کا شعور رہے۔
تقویٰ کا حصول: قرآن مجید میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا گیا ہے وہیں پراس کا مقصد بھی بیان کیا گیا ہے۔فرمایا گیا لعلکم تتقون (تا کہ تمھارے اندر تقویٰ کی صفت پید ا ہوجائے) تقویٰ ایک جامع لفظ ہے جس میں متعدد صفات مثلاً اللہ سے محبت ، اللہ سے خوف، برائیوں سے اجتناب،ایمان کے تقاضے کے طور پر بھلائیوں کا فروغ ،سب شامل ہیں۔
اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ رمضان کے مہینے میں روزے کیوں رکھوائے گئے ہیں،اوراس ماہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر کیوں کہا گیا ہے ۔اس کا سیدھا اور صحیح جواب یہ ہے کہ اس مہینے اور اس رات میں قرآن نازل کیا گیا،گویا قرآن کی وجہ سے اس مہینے کو یہ مقام حاصل ہوا ۔ ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ روزے کا مقصد تقویٰ کیوں بیان کیا گیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن سے استفادہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو متقی ہوں جیسا کہ قرآن کی ابتدائی آیات میں کہا گیا’’الف لام میم یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں یہ متقیوں کی رہنمائی کرتی ہے ‘‘معلوم ہوا کہ رمضان میں قرآن نازل ہوا اور قرآن سے استفادہ کے لئے تقویٰ ضروری ہے اور تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ روزہ ہے۔
درج ذیل احادیث میں روزہ کے مقصد کے طور پرنبی اکرم ﷺنے بعض برائیوں سے بچنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
جھوٹ سے بچنا: نبی ؐ نے مختلف طریقوں سے روزہ کے اصل مقاصد کی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ مقصد سے غافل ہوکر بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں ہے ۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا:’’ جس شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا ہو اس کا کھانا پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئی حاجت نہیں ہے۔‘‘ایک اور حدیث میں آپ ؐنے فرمایا’’ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزہ سے بھوک پیاس کے سواان کوکچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے راتوں میں نوافل پڑھنے والے ایسے ہیں کہ انھیں رات جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
ایمان و احتساب: ’’جس نے روزہ رکھا ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے گئے۔‘‘اس کا مطلب ہے ہم اپنے ایمان کی کیفیت کا اندازہ کرتے رہیں اور اپنے ہر نیک عمل کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے انجام دیں ۔
گناہوں سے بچنے کی ڈھال: ’’ روزہ ڈھال کی طرح ہے( کہ جس طرح ڈھال کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچا جا تاہے اسی طرح روزہ بھی شیطان کے وار سے بچنے کے لیے ہے) لہٰذا جب کوئی شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ ( اس ڈھال کو استعمال کرے اور) دنگے فساد سے پرہیز کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے ، یا اس سے لڑے تو اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں‘‘
روزے کی آفات :روزے کو نقصان پہنچانے والی چیزیں دو طرح کی ہیں :ایک وہ جن کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں درج ہیں، زیر نظر مضمون میں ان کا ذکر اجمالاًسطور بالا میں کیا گیا ہے اور وہ ظاہری چیزیں ہیں ان سے روزہ ختم ہو جاتا ہے، بعض حالتوں میں قضا اور بعض حالتوں میں قضا اور کفارہ دونوں لازم آتاہے البتہ ذیل میں چند ایسی باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے روزہ بظاہر باقی رہتا ہے لیکن اس کی روح ختم ہو جاتی ہے اور اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے ،یہ چیزیں اول الذکر سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ اول الذکر کے نتیجہ میں روزہ دار قضا کر لیتا ہے مگر ان کی وجہ سے اگر روزہ ضائع ہوتا ہے تو اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔ وہ خود کو روزہ دار ہی سمجھتا رہتاہے حالانکہ وہ روزہ سے نہیں رہتا ۔اس مفہوم کی ایک حدیث اوپر آچکی ہے ۔مولانا امین احسن اصلاحی ؒنے اپنی کتاب’ تزکیہ نفس‘ میں ان کی تفصیلات درج کی ہیں ذیل میں ان کا اختصار پیش کیا جا رہا ہے۔
لذّتوں اور چٹخاروں کا شوق:ہر شخص جانتا ہے کہ روزہ کھانے پینے کے شوق کو اکسا دیتا ہے، لیکن روزے کا مقصود اسی اکساہٹ کو دبانا ہے نہ کہ اس کی پرورش کرنا۔ اس وجہ سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوتِ کار کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور لیکن ہر گز ہر گز کھانے پینے کو اپنی زندگی کا موضوع نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی خاص سرگرمی اور بغیر کسی خاص اہتمام کے میسر آجائے اس کو صبر و شکر کے ساتھ کھا لے ۔ اگر کوئی چیز پسند کے خلاف سامنے آئے تو اس پر بھی گھر والوں پر غصے کا اظہار نہ کرے۔ اگر کسی کو اللہ نے فراغت و خوشحالی دی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خود اپنے کھانے پینے پر اسراف کرنے کے بجائے غریب اور مسکین روزہ داروں کی مدد اور ان کو کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔
اشتعال طبیعت :آدمی جب بھوکا پیاسا ہو تو قاعدہ ہے کہ اس کا غصہ بڑھ جایا کرتا ہے۔ جہاں کوئی بات ذرا بھی اس کے مزاج کے خلاف ہوئی فوراً اس کو غصہ آجاتا ہے ۔ روزے کے مقاصد میں سے یہ چیز بھی ہے کہ جن کی طبیعتوں میں غصہ زیادہ ہو وہ روزے کے ذریعے سے اپنی طبیعتوں کی اصلاح کریں۔ لیکن یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب آدمی روزے کو اپنی طبیعت کی اس خرابی کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ اگر وہ اس کو اپنی طبیعت کی اصلاح کا ذریعہ نہ بنائے تو اس بات کا بڑااندیشہ ہے کہ روزہ اس پہلو سے اس کے لیے مفید ہونے کے بجائے الٹا مضر ہو جائے یعنی اس کی طبیعت کا اشتعال کچھ اور زیادہ ترقی کر جائے۔ جو شخص اس کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جب اس کی طبیعت میں اشتعال پیدا ہو یا کوئی دوسرا اس کے اندر اس اشتعال کو پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً اس بات کو یاد کرے کہ ’’انی صائم ‘‘ (میں روزے سے ہوں )اور یہ چیز روزے کے مقصد کے بالکل منافی ہے ۔ یہ طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کو غصہ پر قابو پانے کی تربیت ملتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تربیت اس کے مزاج کو بالکل بدل دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے غصہ پر اس حد تک قابو حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ وہیں استعمال کرتا ہے جہاں وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔
دل بہلانے والی چیزوں کی طرف رغبت :روزے کی ایک عام آفت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ، جن کے ذہن کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی ہے ، کھانے پینے اور زندگی کی بعض دوسری دلچسپیوں سے علٰیحدگی کو ایک محرومی سمجھتے ہیں اور اس محرومی کے سبب سے ان کے لیے دن کاٹنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس مشکل کا حل وہ یہ پیداکرتے ہیں کہ بعض ایسی دلچسپیاں تلاش کر لیتے ہیں جو ان کے خیال میں روزے کے مقصد کے منافی نہیں ہوتیں۔ مثلاً یہ کہ تاش کھیلتے ہیں، ناول، ڈرامے اور افسانے پڑھتے ہیں، ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں اور بعض من چلے سنیما کے ایک آدھ شو دیکھ آنے میں بھی کوئی قباحت نہیں خیال کرتے۔
ان سب سے زیادہ سہل الحصول دلچسپی بعض لوگ یہ پیدا کر لیتے ہیں کہ اگر ایک دو ساتھی میسر آجائیں تو کسی کی غیبت میں لپٹ جاتے ہیں۔ روزے کی بھوک میں آدمی کا گوشت بڑا لذیذ معلوم ہوتا ہے اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکھ کر آدمی کو یہ لذیذ مشغلہ مل جائے تو آدمی جھوٹ ، غیبت ، ہجو اور اس قسم کی دوسری آفتوں کا، جن کو حدیث میں حصائد اللسان سے تعبیر کیا گیا ہے، ایک انبار لگا دیتا ہے اور اسی مشغلہ میں صبح سے شام کر دیتا ہے ۔ یہ چیزیں آدمی کے روزے کو بالکل برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔
ریا :ریاکا فتنہ جس طرح تمام عبادتوں کے ساتھ لگا ہوا ہے اسی طرح روزے کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے ۔ بہت سے لوگ روزے تو رکھتے ہیں ، بالخصوص رمضان کے روزے ،لیکن ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت کچھ دخل اس احساس کو بھی ہو کہ روزے نہ رکھے تو پاس پڑوس کے روزہ داروں میں نکوبننا پڑے گا ،یا لوگوں میں جو دین داری کا بھرم ہے وہ جاتا رہے گا ،یا اپنے گھر اور خاندان والے ہی برا مانیں گے۔ اس طرح کے مختلف احساسات ہیں جو رمضان کے روزوں میں شریک بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ خلوصِ نیت آلودہ اور مشتبہ ہو جایا کرتا ہے، جو روزے کی حقیقی برکتوں کے ظہور کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ جس بندے میں اللہ کی خوش نودی کے سوا کوئی اور محرک شریک ہو جائے ، یہ روزہ وہ روزہ نہیں ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ :’’ بندہ میرے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت چھوڑ تا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔