سرورق مضمون

روہنگیا مسلمانوں پر جبر وتشدد/ پوری دنیا تماشائی ،امت مسلمہ بھی خاموش

ڈیسک رپورٹ
میانمار میں آباد مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ بودھ اکثریت کے ہاتھوں ان کی مار دھاڑ جاری ہے ۔ صرف تین دنوں کے اندر تین ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے ۔ ایک لاکھ تیس ہزار اپنا وطن چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کئے گئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آئے مناظر رونگٹھے کھڑا کردینے والے ہیں ۔ ستم یہ ہے کہ پوری دنیا ان مناظر کو دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہوتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کا لزام ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے ان کی نسل کشی جاری ہے ۔ میانمار کی سرحدیں چین بھارت اور بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ۔ تینوں ملکوں کے ساتھ اس ملک کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس وجہ سے کوئی بھی ملک مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر منہ کھولنے کے لئے تیار نہیں ۔ کچھ سال پہلے یہاں سے کئی سومسلمان بھاگ کر ہندوستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور جموں سمیت مختلف علاقوں میں عارضی رہائش اختیار کی۔ اس پر مائنمار حکومت نے احتجاج کیا اور انہیں مہاجر کا درجہ نہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسلمان آج تک مہاجر درجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر یہ لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ادھر دہلی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ ان لوگوں کو واپس مائنمار بھیجدیا جائے گا ۔ دہلی سرکار کے اس اعلان کے بعد ان کے اندر سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ بنگلہ دیش نے ان کے خلاف تازیبی کاروائی شروع کی ہے اور میانمار کے ساتھ ملنے والی سرحد کو سیل کردیا ہے۔بنگلہ حکومت نےمیانمار سے بھاگ کر آنے والے مسلمانوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے ۔ ترکی واحد مسلمان ملک ہے جس نے ان مہاجرین کی باز آباد کاری میں دلچسپی دکھائی ہے ۔ ترک صدر نے بنگلہ دیش سے اپیل کی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک آنے کی اجازت دے۔ صدر اردگان نے وعدہ کیا ہے کہ ان مہاجرین پر آنے والا خرچہ ترک حکومت برداشت کرے گی ۔ لیکن بنگلہ دیش نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد صدر کی اہلیہ نے بنگلہ دیش آکر وہاں کی وزیراعظم سے ملاقات کی اور اپیل کی کہ میانمار سے بھاگ کر آنے والے مسلمانوں کو پناہ دی جائے ۔ پاکستان نے تاحال ان مہاجرین کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے ۔ البتہ فوجی سربراہ نے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا ۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم کے خلاف احتجاج کیا ۔ کئی جگہوں پر لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالے ۔ کالج طلبہ نے اس پر مظاہرے کئے اور مسلمان حکمرانوں سے اپیل کی کہ اس ظلم کو روکنے کے لئے سامنے آئیں ۔ لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی ۔
روہنگیا میں مسلمان اقلیت میں رہ رہے ہیں ۔ دس فیصد سے کم تعداد میں رہنے والے ان مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے آبا و اجداد عرب سرزمین سے آنے والے جہازران تھے جو تجارت کی غرض سے بھارت آئے اور اس علاقے میں آباد ہوئے ۔ میانمار بودھ اکثریتی علاقہ ہے ۔ یہاں کے بدھسٹ مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ ان سے اپنے ملک کی سرزمین صاف کرنے کی مہم چلارہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم چلارکھی ہے ۔ اس مہم کے تحت ان کی بستیاں جلائی جارہی ہیں ۔ عورتوں کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ نوجوانوں کو زندہ جلایا جارہاہے اور گولیوں سے بھون ڈالا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے مناظر انتہائی ہیبت ناک ہیں ۔ دنیا بھر میں اس بات پر حیران گی کا اظہار کیا جارہاہے کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف روا رکھے گئے اس ظلم پر پوری طرح سے خاموش ہیں ۔ کہیں بھی اس ظلم و جبر کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی ۔ سب سے عجیب بات مسلمان حکمرانوں کی خاموشی ہے ۔ عرب حکمرانوں نے آج تک روہنگیا مسلمانوں کے حق میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ کچھ سال پہلے مسلمان ممالک نے ایک مشترکہ فوج بنانے کا اعلان کیا تھا اور پاکستان کے سابق فوجی سربراہ کو اس کا کمانڈر بنایا گیا تھا ۔ لیکن اس حوالے سے بعد میں خاموشی اختیار کی گئی۔ عام مسلمان اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور اپنے حکمرانوں کی خاموشی پر احتجاج کررہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ میانمار میں ہونے والاقتل وغارت اب تک مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سب سے خطرناک کاروائی ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کے خلاف اس طرح کا ظلم دیکھنے کو مل رہا ہےمیانمار ایک چھوٹی سی ریاست ہے اور فوجی حکمرانی کے خلاف یہاں مہم چلائی جارہی ہے۔ جمہوری تحریک کی علمبردار خاتون آنگ سانگ سوچی کو عالمی امن انعام سے نوازا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ سوچی مسلمانوں کے خلاف چلائی جارہی مہم کی حمایت کررہی ہے ۔ اس پر مسلمان سوچی سے سخت نفرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ کئی جہادی گروہوں نے روہنگیا کے مسلمانوں کی حمایت کے لئے اپنے رضاکار مائنمار بھیجنے کی دھمکی دی ہے ۔ اس مقصد سے ہزاروں نوجوانوں نے وہاں آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ اس وجہ سے میانمار میں سخت تشویش پائی جارہی ہے ۔ تاہم وہاں مسلمانوں کے خلاف چلائی جارہی مہم ختم نہیں کی گئی بلکہ آئے روز مسلمانوں کی ہلاکتوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سخت نفرت اور مایوسی کا اظہار کیا جارہاہے ۔