نقطہ نظر

روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اور بھارت !

کلدیپ نائر
کمیونسٹ لیڈر جیوتی باسو نے پچیس سال تک مغربی بنگال پر حکمرانی کی ہے۔ وہ فرقہ پرست قوتوں کے خلاف بڑی بے جگری سے لڑتے رہے لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ آر ایس ایس کسی طرح ریاست میں داخل ہو گئی بلکہ عملی طور پر ریاست پر قبضہ کر لیا۔ وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس اب ریاست پر اقتدار میں ہے لیکن اس کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی جنگ ہار رہے ہیں۔ آر ایس ایس ریاست کے اندرونی علاقوں میں داخل ہو گئی ہے اور تقریباً ہر پارک میں صبح کی ورزشیں کراتی ہے۔ یہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا اور کیونکر ہوا؟ اس بات کی تحقیق کی ضرورت ہے۔ پہلے بائیں بازو کی پارٹیاں کمیونسٹ نظریات کی ترویج کرتی ہیں جب کہ آر ایس ایس کا فلسفہ یکسر متضاد ہے۔
وہ قدامت پسندی پر مصر ہے۔ بنگال کی شاندار ثقافت آج آر ایس ایس اور کمیونسٹوں کے درمیان سینڈوچ بنی ہوئی ہے۔ ممتا پر الزام ہے کہ وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اس نے درگا کے بتوں کی نمائش کے لیے اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق ریاستی حکومت نے درگا کے بتوں کی نمائش اور محرم کے جلوسوں کے لیے وہی اوقات مقرر کیے ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں کا ٹکراؤ ناگزیر ہے۔ یہ بات کمزور ریاستی انتظامیہ کے لیے بہت مشکل کا باعث بن گئی ہے تاہم کولکتہ ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں پہلے ہی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو چکے ہیں اور ممتا کی طرف سے درگا کے بتوں کی نمائش پر جو پابندی لگائی گئی شاید اس کا مقصد ان فسادات پر قابو پانا ہے۔ محرم الحرام کے جلوس کے راستے کے حوالے سے بھی تنازعات موجود ہیں جن کی وجہ سے فسادات کو اور ہوا ملتی ہے۔ ہندو گروپوں کی طرف سے بنگالی اور غیربنگالی دونوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں۔ بنگلہ دیش میں بیرونی دراندازی کے واقعات بھی ہوتے ہیں اور دہشتگردی کا خطرہ بھی خارج از امکان نہیں۔ یہ ساری باتیں فرقہ وارانہ کشیدگی اور تناؤ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جب کہ حالات پہلے ہی کشیدہ ہو رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی طرف سے ہندوؤں کے جتھے ریاست میں داخل ہوتے ہیں۔اونچی ذات کے ہندو جن کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے وہ نقل مکانی کر کے بھارت میں آ رہے ہیں اور آج بھی ان کے دو ٹھکانے ہیں ایک بنگلہ دیش میں اور دوسرا مغربی بنگال میں۔ ان کے بچے بھارتی اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور کئی ایک نے بھارتی شہریت اختیار کر لی ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں عسکریت پسندوں کی طرف سے ہندوؤں پر حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس کے نتیجے میں وہاں سے ہندوؤں کے بھارت نقل مکانی کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے لیکن یہاں چونکہ انھیں روزگار نہیں ملتا لہٰذا زیادہ غریب لوگ سرحدی علاقوں میں ہی مقیم رہتے ہیں اور پیٹ پالنے کے لیے چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیشی لیبر کو مسلمانوں سے بہت زیادہ بیر ہے چنانچہ انھی لوگوں کو آر ایس ایس نے بڑی چالاکی سے اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔
دوسری طرف بنگلہ دیش میں روہنگیا برمی مسلمانوں کے بڑے بڑے جتھے داخل ہو رہے ہیں کیونکہ برما میں بدھ انتہا پسند ان کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں اور ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ برمی فوج اور پولیس بھی بدھسٹوں کا ساتھ دیتی ہے لہٰذا روہنگیا کے پاس وہاں سے فرار کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش نے ان پناہ گزینوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ مدد دی ہے مگر وہ ایک حد سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ اقوام متحدہ کی ترجمان سٹیفنی ڈوجارک کے مطابق چار لاکھ اسی ہزار سے زائد روہنگیا پہلے ہی بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں لیکن ان کی بودوباش ان کھانے پینے کے لیے بنگلہ دیش کے پاس بھی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ 4,8000 وہ روہنگیا ہیں جو گزشتہ اگست سے وہاں پہنچے ہیں جس کے بعد روہنگیا کی مجموعی تعداد سات لاکھ سے متجاوز ہو گئی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ میانمار میں 1982ء سے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت کا حق دینے سے انکار کر دیا گیا ہے بلکہ میانمار حکومت انھیں بنگلہ دیش سے آنے والے غیرقانونی امیگرنٹ کہتی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد میں نقل مکانی سے بھارت کو بھی اپنے لیے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے جو برما سے ملنے والی طویل سرحد سے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
بھارتی حکومت انھیں مبینہ طور پر پاکستان سے آنیوالے عسکریت پسند قرار دیکر یہ معاملہ عدالتوں میں پیش کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی نے روہنگیا مسلمانوں کو سیاسی پناہ دینے کا مطالبہ کیا ہے جو میانمار میں تشدد اور قتل و غارت سے بچ کر بھارت میں آ رہے ہیں۔ ورون گاندھی کا یہ موقف اپنی حکومت کے سرکاری موقف کے عین متضاد ہے۔ ایک بھارتی اخبار ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ میں اپنے مفصل انٹرویو میں ورون نے کہا ہے کہ روہنگیا کے پناہ گزینوں کو ہر گز ملک سے نہیں نکالنا چاہیے کیونکہ اپنے ملک میں ان پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ورون کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں بہت ہلچل مچ گئی ہے۔ بالخصوص بھارت کے داخلہ امور کے وزیر ہنس راج آھیر نے کہا ہے کہ ورون گاندھی کا موقف بھارت کے مفادات کے خلاف ہے۔ ان کو ایسا بیان ہرگز نہیں دینا چاہیے تھا۔
حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے موقف کے حق میں شہادت پیش کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں میں سے بعض کا تعلق پاکستان کے عسکریت پسندوں سے ہے لہٰذا بھارتی حکومت 40,000 روہنگیا کو ڈی پورٹ کر دے گی جو کہ غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئے ہیں لیکن بھارت کے اس موقف کو روہنگیا کے بعض درخواست گزاروں نے عدالت چیلنج کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی کمیونٹی پرامن اور امن سے محبت کرنے والی ہے جس کا کسی قسم کے عسکریت پسندوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک نئی دہلی کی حکومت کا تعلق ہے تو اسے پہلے ہی پناہ گزینوں کے مسئلے کا سامنا ہے۔ جموں میں کشمیری پنڈتوں اور کولکتہ اور گوھاٹی میں بنگلہ دیشی مسلمانوں کی آمد کا مسئلہ ہے۔
اس کے علاوہ سری لنکا کے تاملوں نے تامل ناڈو کے علاقے میں پناہ لے رکھی ہے جہاں پر پہلے ہی چھوٹی موٹی جھڑپیں جاری ہیں لیکن روہنگیا مسلمانوں کے بہت بھاری تعداد میں آنے سے پناہ گزینوں کا مسئلہ قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ لیکن اس میں تشویش کی بات یہ ہے کہ بتدریج یہ مسئلہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر رہا ہے، بالخصوص ہندو مسلم تنازعہ کا رنگ۔ مغربی بنگال پہلے ہی آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھا ہے۔ اس کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کا کوئی طریقہ نہیں جو کہ قابو سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوری اور سیکولر قوتوں کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہاتھ بٹانا چاہیے کیونکہ ان کے مد مقابل ہندوتوا کے عناصر ہیں۔
بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا ملک اسی فلسفے کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا مہاتما گاندھی‘ جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد نے بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا تھا۔ ہماری وراثت اجتماعیت کی ہے جس کی روح کو ہمیشہ بیدار رکھنا چاہیے لیکن یہ کسی ایک پارٹی کے بس کا کام نہیں بلکہ تمام ہم خیال پارٹیوں کو جن کا بی جے پی سے تعلق نہیں باہم مل کر اس مسئلے کا موثر طور پر حل تلاش کرنا ہو گا کیونکہ فرقہ وارانہ قوتیں اس میں شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہندو انتہا پسند ہر معاملے میں بالادستی اختیار کر گئے ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے والوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنی طاقت کو مجتمع کرکے منفی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اس یقین کے ساتھ کہ ان کا اتحاد انھیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ کمیونسٹ عناصر ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے وہ پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اکیلے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی ہمت ٹوٹ سکتی ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)