مضامین

رہبری کے لبادے میں گھومتے رہزن

عبد المعید ازہری

ملک میں مسلمانوں کی موجودہ تشویشناک صورت حال میں دن بہ دن ہوتا اضافہ ایک بڑ ی تباہی کا اشارہ کر رہی ہے۔ تاریخ شاہد ہے جب کبھی بھی کسی ملک کے ایسے حالات ہوئے ہیں، وہاں شر پسندوں کو موقعہ ملا ہے۔ انسانی خون سے انسان نما حیوان آسودہ ہوئے ہیں۔ جب شہرت و طاقت کا نشہ دل و دماغ کو انسانی حدود کے باہر کر دے، تو وہاں یہی سب ہوتا جو ہم اپنی ماتھے کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ آئے دن ظلم و زیادتی،فتنہ و فساد کی نئی اور دلدوز وارداتیںذہن و دماغ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور صرف نفرت بھرنے کا کام کر رہی ہیں۔ ایک دن یہ چھالے سیاسی مفاد کی نظر ہو جاتے ہیں۔پھر اپنے ہی چھالوں سے اپنے سینوں کو جلا لیتے ہیں۔کسی کے خلاف نفرت اس قدر بھر جاتی ہے کہ اس کی جگہ محبت کس سے کی جائے اس کا بھی خیال نہیں رہ پاتا ۔یہ کیفیت کسی مخصوص قوم یا طبقے کیلئے نہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کسی کو بھی ایسا بنانے کے اہل ہیں۔جب انسان کی قدر جانوروں سے کم تر ہو جائے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ آج کے معاشرے کو انسانوں کی نہیں حیوانوں کی ضرورت ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہی رہتاہے۔ انسانی سماج کا ہر شعبہ اس طرح کی بے چینی سے دو چار ہے۔ ہر طبقہ پریشان ہے۔ جو موجودہ انسانیت سے خالی فکر و روش میں ڈھل گیا وہ محفوظ و مامون ہو گیا۔ جس نے اپنے ضمیر کی آواز سننے کی کوشش کی وہ تختہ مشق بن گیا۔
ملک کے کسی نہ کسی کونے میں ہر روز کوئی بچہ یتیم ہوتا ہے،کوئی عورت بیوا ، ماں بے آسرا اور باپ بے سہارا ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسانی سماج کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ گھڑی ہے جب ہر روز کوئی ماں، بہن یا بیٹی رسواہوتی، عصمت زدہ ہو کر انسانی برادری پر ایک دھبہ چھوڑ جاتی ہے۔ اس غیر انسانی جرم کے پیچھے کوئی بیٹا، باپ یا بھائی ہی ہوتا۔ لوٹ مار ، چوری ڈکیتی، بد عنوانی ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ ویسے تو اچھائی اور برائی انسان کے فطری اعمال ہیں۔ لیکن جرم پر بے باکی قطعی انسانی طرز عمل نہیں۔ظلم کے خلاف کھڑاہونا بھی انسانی فطرت ہے جو آج معدوم ہے۔ یہ طبقہ کہیں گوشہ نشیی اختیار کئے ہوئے کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہوئے اپنے فرض سے منہہ موڑ رہا ہے۔ آج ہمارے ملک کا انسانی سماج اتنے ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے کہ سب اپنی باری پر ہی درد سے چیختے ہیں۔ وہی مرغی درد سے کراہتی ہے جو ذبح ہو رہی ہے، باقی شکنجے میں قید بے پروائی سے دانہ چغتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔مذہب کے نام پر، ذات برادری اور صوبوں کے نام پر ہم اس قدر منقسم ہو گئے ہیںکہ کبھی کبھار ہم اپنی خود کی اصل شناخت بھول جاتے ہیں۔اس فطرت سے یکسر فراموش ہو جاتے ہیںکہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم انسان ہیں۔ اس میں قسمیں نہیں ہیں۔ہم صرف منقسم ہی نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے کے وجود کا احساس بھی ہمارے اندر سے ختم ہوگیا۔ انسانی بردادری کو الگ نام اور شناخت اسلئے دی گئی تھی کہ ایک دوسرے کو بآسانی جان پہچان سکیں۔ آج حال یہ ہے کہ صرف مذہب و برادری او ر صوبوں میں انسان منقسم نہیں ہوا بلکہ ہر مذہب ، برادری اور صوبے میں بھی سیکڑوں حصوںمیں بٹ کر رہ گیا۔
مذہب کو گھر اور دل میں رکھ کر باہر اگر انسان ہی رہتے تو شاید آج انسان کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ کسی بہن کی لٹتی عصمت کوئی دوسرا بھائی تماشے کی طرح نہ دیکھ رہا ہوتا۔ بلکہ کوئی بھائی ایسی ذلیل حرکت کرنے کی ہمت نہ کر پاتا۔کسی کی بہن کی زندگی کو تاریک کرنے والے بھائی کو اس کی بہن اپنی زندگی سے نکال دیتی۔ اس کی ماں اس کی شکل نہ دیکھتی۔ پوراگھر اس کا بائیکاٹ کر دیتا۔ہم جہاں رہتے ہیں۔ اپنے افکار و اعمال سے جیسا معاشرہ بناتے ہیں۔اس کے اثرات سے ہمیں ایک دن آشنا ہونا پڑتا ہے۔ملک کے کسی بھی بیٹے یا بیٹی، ماں یا باپ یا کسی کے ساتھ بھی ہونے والی ناانصافی کو جب تک ہم یہ مان کر نظر انداز کرتے رہیں گے، کہ اس مظلوم کا تعلق ہمارے گروہ یا گھرسے نہیں، اس وقت تک تباہی، ذلت اور خونریری کے یہ منظر ہمارا مقدر بنتے رہیںگے۔جو چیزیں ذاتی تھیں وہ سماجی ہوگئیں اور جومعاشرتی تھیں وہ انا کی نذر ہوگئیں۔
آج ماتھے کی نگاہوں سے اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ خواہ جس معاشرے میں عورت دیوی ہوتی ہے، اس کی پوجا ہوتی ہے، یا وہ سماج جس میں عورت آدھا ایمان اور جنت کا سبب ہوتی ہے، ہر جگہ اس کی عصمتیں تار تار ہیں۔کیوںکہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کا پیمانہ متعصب اور منقسم ہو چکا ہے۔ابھی حال ہی میں بجنور کی ایک لڑکی کے ساتھ ہوا حیوانی سلوک اس بات کی واضح مثال ہے۔بجنور کی لڑکی اکیلی نہیں جس کو انسانی برادری نے انسان ماننے سے انکار کیا ہو، روزانہ نہ جانے کتنی بنت ہوا کو یہ نام نہاد انسانی سماج کھیل تماشہ اور سامان لہو لعب سمجھتا ہے۔ افسوس اور المیہ اس بات کاہے کہ کسی بھی قومی نمائندے میں اتنی جسارت نہ ہوسکی کہ ان مظلوموں کیلئے انصاف کی آواز بلند کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آواز کون بلند کرے۔ گھر کی چہار دیواری سے لے کر باہر گلی بازار اور ہر شعبوں میں تو ہم منقسم اور منفرد ہیں۔ بلکہ ایک دوسرے سے جداہیں۔ اپنی اپنی ضرورتوںکیلئے ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔ تو ایک دوسرے کی پرواہ کیوںکریں۔اب جو آوازیں اٹھتی بھی ہین، وہ ظلم کی آندھیوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ہمارے رہنماؤں کے ساتھ پریشانی اس بات کی ہے کہ اگر انصاف کی آواز بلند کر دی تو یا تو ان کے سیاسی آقا ناراض ہو جائیں گے یا انہیں ڈر ہے کہ آگے سے ان کی دوکان بند جانے کا خطرہ ہے۔ ایک ڈر یہ بھی ہے کہ اس سرزمین پر جب کسی اور بیٹی مظلوم ہوئی تو آپ کہاں تھے اب جب خود کے گھر میں آگ لگی تو خدا یا د آیا۔عوامی حمایت کی ریاکاری کے کھیل میں تو زمین آسمان ایک کر دیں گے۔ اس کے لئے تو خدا سے ذاتی فرمان بھی حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیں گے۔ لیکن وہی قوم جب مصیبت زدہ ہو مظلوم ہوجاتی ہے تو بند آشائسی کمروں تک یہ آوازیں نہیں پہنچتی ہیں۔
آج کا المیہ یہ بھی ہے کہ مظلوم کو مجرم بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔یہ سارا کھیل اسی انسانی سماج کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کھیل میں شامل کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔
جب تک یہ سماج یوں ہی اپنی جھوٹی دنیا میں خیال خام میں بٹتا رہے گا یہ سارا کھیل یوں ہی چلتا رہے گا۔ رہبری کے لبادے میں رہزن ہماری رہنمائی کرتے رہیںگے۔ ارے اتار کر پھینک دو یہ یہ جبے یہ دستار یہ عبائیں جس میں قوم و ملت کی تباہی کا پروانہ پیوستہ ہے۔ کھل کر سامنے آکر وار کرو۔ ظالم کے ساتھ مل کر کھلے عام تم بھی عصمتوں کا سودا کرو۔یہ چوغے جو مظلوموں کی رستی گوں سے سلے گئے ہیں انہیں آگ لگادو۔ جھوٹے دین و مذہب کے نام پر تقسیم کا کاروبار بند کر دو۔ جہاں نہ دنیاہے اور نہ ہی آخرت ہے۔یہ کیسی رہبری ہے جو قوم کی روتی ہوئی آنکھوں کو اپنا آستین تک نہیں دے سکتی۔ مظلوموں کی آہوں کو سرد کرنے کیلئے اپنے کندھے نہیں دے سکتی۔ ان کا درد نہیں سن سکتی۔ اپنے دین و ایمان کا سودا کرکے ان کیلئے دلاسے کے دو بول نہیں بول سکتی۔ تمہاری اس کاروباری رہبری سے تو کہیں بہتر وہ رہزنی ہے جو ہمیں آگاہ کر کے ہم پر حملہ کرتی ہے۔جنت کی لالچ اور جہنم کا خوف دلاکر اپنے اپنے خانوں میں محدود کرنے والے سارے رہبران قوم سے ان کی رہبری کا سوال ہے۔
در اصل یہ ایک قومی یا یک مذہبی مسئلہ نہیں ہے۔ آج ہم ایسے سماج کو تشکیل دے رہے ہیں جہاں انسان تو ہیں لیکن انسانیت نہیں۔ جہاں رشتے ضرورتوں کیلئے بنتے اور بگڑتے ہیں۔جہاں جذبات ضروریات سے مغلوب ہو گئے۔
خدارا انسانی تقسیم سے باہر بھی نکلو۔ورنہ نہ دین ہاتھ آئے اور نہ ہی انسان رہ پاؤگے۔ کف مل کر ورد کروگے ۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔