خبریں

ریاست کو بھارت میں ضم کرنابھاجپا کا ایجنڈا

ریاست کو بھارت میں ضم کرنابھاجپا کا ایجنڈا

حریت کانفرنس (ع)کے چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ حکومت ہندوستان 1947سے برابر جموں وکشمیر کے عوام کی مبنی برحق تحریک آزادی کو کمزور کرنے اور کشمیر کے متنازعہ مسئلہ کی حیثیت اور ہیئت کو کمزور کرنے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لا رہی ہے ۔ پریس بیان کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت (ع)چیرمین نے ہندوستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈئیزر اجیت ڈوول کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان نے ہندستان کے گھناؤنے چہرے اور اس کے اصل عزائم کو کشمیری عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ہے خصوصاً اقوام عالم پر اس بیان سے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ ہندوستان کشمیر پر اپنا جبری قبضہ یہاں کے عوام کی خواہشات کے برعکس کسی بھی قیمت پر جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ مذکورہ بیان ہندوستان کے اُس اصولی موقف اور دستور کے خلاف ہے جو کہ کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ مان کر یہاں کے عوام کو حق خود ارادیت کا حق فراہم کرتا ہے ،جیسا کہ بھارت کے اولین وزیراعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو نے پوری دنیا کے سامنے کشمیریوں سے اس کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اکثریتی کردار کو ختم کرکے بھارت یہاں کی زمین پر اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے اور یہاں کے عوام کی امنگوں کو دبا کر کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا بی جے پی کا یہ مذموم ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا عدالتی طریقہ کار کو عملا کر آئین ہند میں کشمیر کو دئیے گئے خصوصی اور منفرد حقوق کی تذلیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہ حکومت نشے میں چور اورجموں و کشمیر کے تاریخی اور زمینی حقائق سے چشم پوشی کرکے کشمیر پر فوجی قبضہ کو جوازیت فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ، انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے یہ کشمیر کے عوام اپنے انفرادی تشخص اور حق خودارادیت کیلئے برسر جدوجہد ہیں جیسا کہ 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کو یہ حق دیا گیا۔
حریت کانفرنس (ع)کے چیئرمین نے کہا کشمیری عوام اسی حق خود ارادیت کیلئے برسرمزاحمت ہیں جس کا ان سے بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اس پر شاہد عدل ہیں۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ کس طرح ہندوستان اپنی وعدے سے مکر سکتا ہے۔ کیا اس وعدے کی کوئی میعاد مقرر ہے۔ انہوں نے کہا اس وعدے کی وقت گذرنے کے ساتھ افادیت کم نہیں ہوئی نہ ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا توکشمیریوں کی تیسری اور چوتھی نسل اس قدر مزاحمت کیلئے سڑکوں کا رخ نہیں کرتے اور شہید نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اگر ہندوستان کی قیادت اس مسئلہ سے جڑے سیاسی حقائق کو تسلیم کرتی تو انہیں یہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج کو تعینات کرنے کی ضرورت نہ تھی اور ساتھ ہی ساتھ حقوق انسانی کی اس قدر پامالی وقوع پذیر نہ ہوتی جیسا کہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹوں میں میں پیش کیا ہے۔
میرواعظ محمد عمر فاروق نے مزید کہا کہ ظلم و جبر اور طاقت کے بل پر کشمیریوں کی خواہشات اور جذبات کو ہرگزدبایا نہیں جاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کشمیری عوام کے جذبات اورخواہشات کو صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا پھر اس مسئلہ سے جڑے تینوں فریق ہندوستان، پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین ایک بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ جو لوگ حق پر یقین رکھتے ہیں فتح انہی کی ہوتی ہے اور کشمیری عوام کی رواں جدوجہد مبنی برحق اور بے شمار قربانیوں سے مزین ہے اور ہمارا یقین ہے کہ یہاں کے عوام اپنی اس جدوجہد میں سرخرو ہونگے۔