خبریں

ریاض نائیکو کے والد کی گرفتاری اور پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کی اغوا کاری

ریاض نائیکو کے والد  کی گرفتاری اور پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کی اغوا کاری

جنگجوئوںکی طرف سے ٹویٹرپرڈالے گئے تحریری اورآڈیوپیغامات میں پولیس اہلکاروں کومتنبیہ کیاکہ وہ خودکوجنگجومخالف کارروائیوں سے الگ کریں ۔ یاد رہے جمعرات کوجنوبی کشمیرمیں اُس وقت عوامی سطح پرسخت تشویش کی لہردوڑگئی جب حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو اور حزب سے وابستہ سرگرم جنگجو لطیف ٹائیگرکے والدین اوردوبھائیوں کو الگ الگ چھاپوں کے دوران گرفتارکیاگیااوران گرفتاریوں کے بعد جنگجوؤں نے جنوبی کشمیرمیں مختلف مقامات سے پولیس افسروں اوراہلکاروں کے ایک درجن کے قریب رشتہ داروں کو اغوا کیا، جن میں زبیر احمد ساکن آرونی کولگام ، عارف احمد ساکن آرونی بج بہاڑہ ، فیضان احمد مکرو ساکن کھارپورہ کولگام، سمیر احمدراتھر ساکن یمرش یاری پورہ کولگام ، گوہراحمد ساکن کاٹہ پورہ کولگام ، یاسر احمد بٹ ساکن واتھو شوپیان ، عدنان احمدشاہ ساکن ترنز شوپیان اورآصف احمد راتھر بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ آصف کو بدھ کے رو ز جنگجوؤں نے پنگلش ترال سے اغوا کیاتھا۔ معلوم ہوا کہ جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا کئے گئے افراد میں ڈی ایس پی اعجاز ملک ،ایس ایچ اونذیر احمد اور دیگر پولیس افسروں اوراہلکاروں کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے۔ ان واقعات کے بعد پورے جنوبی کشمیرمیں سخت تشویش کی لہردوڑ گئی جبکہ جمعرات کو شام دیر گئے پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسروں نے ہنگامی میٹنگ طلب کرکے صورتحال کاجائزہ لیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق خدشہ کیا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیرمیں ہائی الرٹ کیاگیاہے اور جمعہ کی صبح مغویہ افراد کی بازیابی کے لئے بڑے پیمانے پر جنگجومخالف آپریشن شروع کئے گئے تاہم انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس پی پانی نے جمعہ کی صبح ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیاکہ جنوبی کشمیرمیں اس قسم کاکوئی آپریشن شروع نہیں کیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ پولیس اپنے افسروں اوراہلکاروں کے کچھ رشتہ داروں کو اغواکئے جانے کے واقعات کا جائزہ لے رہاہے ۔ اس دوران جمعہ کی صبح جب پولیس نے حزب کمانڈر ریاض نائیکو کے والد اسد اللہ اور حزب جنگجو لطیف ٹائیگر کے والد اور دوبھائیوں کو رہا کیا تو اس کے بعد جنگجوؤں نے اپنی تحویل میں لئے گئے پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کو ایک ایک کرکے چھوڑ نا شروع کیا۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق جنگجوؤں نے بدھ اور جمعرات کو اغوا کئے گئے سبھی افراد کو رہا کردیا لیکن پولیس ذرائع نے صرف تین ایسے مغویہ افراد کو چھوڑے جانے کی تصدیق کی ۔ذرائع نے بتایا کہ جن افرادکو جنگجوؤں نے چھوڑ دیاہے ، اُن میں ڈی ایس پی اعجاز ملک کابھائی گوہر احمد ملک ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالسلام راتھر کا بیٹا سمیر سلام اور کاکہ پورہ پلوامہ کا رہنے والا محمد شفیع میر بھی شامل ہے ۔جبکہ ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کو ہی جنگجوؤں نے یاسر احمد بٹ نامی نوجوان کو بھی چھوڑ دیاتھا۔ اس دوران حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ریاض نائیکو عرف محمد بن قاسم نے سماجی رابط گاہ (ٹوئٹر )پر اپنے تحریری اور آڈیوبیانات میں دعویٰ کیاکہ اغوا کئے گئے سبھی افراد کو چھوڑ دیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مغویہ افراد کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں۔ تاہم حزب کمانڈر نے پولیس محکمہ میں تعینات اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ خود کو جنگجو مخالف کاروائیوں سے الگ کریں۔ انہوں نے متنبہ کیاکہ اگر ایسا نہیں کیاگیا تو آئندہ پولیس افسروں اوراہلکاروں کے رشتہ داروں کوبخشانہیں جائیگا۔
یاد رہے اس سے پہلے پلوامہ میں حزب المجاہدین کے سرگرم کمانڈر سمیت 20کے قریب نوجوانوں کو فورسز نے شبانہ چھاپوں کے دوران مختلف علاقو ں سے گرفتارکر لیا ہے۔ اس دوران چند مقامات پر لوگوں کو زبردست مار پیٹ کرنے کے علاوہ رہائشی مکانوں کی دروازے اور کھڑیوں کے علاوہ گھریلو ساز سامامان کو تہش نہس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ضلع بھر میں زبردست خوف دہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ فورسز29اور30اگست کی درمیانی رات کو فوراسز نے جنوبی کشمیر متعدد علاقوں میں چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران حز ب المجاہدین کے چیف فیلڈ آپریشنل کمانڈر ریاض احمد نائیکو کے والد70سالہ اسد اللہ نائیکو کواپنے گھر سے گرفتار کر کے تھانے میں بند رکھا تھا ۔ تاہم جمعہ کو ریاض نائیکو کے والد کو رہا کرنے کے بعد ہی اغوا کئے گئے پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کی رہائی بھی عمل میں لائی گئی۔ اور ساتھ ہی پولیس اہلکاروں کے لئے حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو کی طرف سے زبردست پیغام جاری کیا گیا۔