خبریں

زیر حراست ہلاکت اور تحقیقات کے احکامات

زیر حراست ہلاکت اور تحقیقات کے احکامات

ڈیسک رپورٹ
وادی میں ایک بار پھر تنائو کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ پولیس کی حراست میں اونتی پورہ کے استاد کی ہلاکت پر عوامی حلقوں میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ مقامی پولیس نے رات کو ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور رضوان پنڈت نامی نوجوان کو حراست میں لے لیا ۔ اگلے دن اطلاع دی گئی کہ وہ زیرحراست ہلاک ہوگیا ہے ۔ اس کے بھائی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ رضوان کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تشدد کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا ۔ پولیس نے اس حوالے سے ایک مقدمہ درج کیا جس میں بتایا گیا کہ رضوان نے دوران حراست بھاگنے کی کوشش کی اور وہ مارا گیا ۔ ادھر حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پلوامہ کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں ایڈیشنل کمشنر پلوامہ کو اس واقعے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے مقرر کیا گیا ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق رضوان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے ۔ اس کے کئی اعضا پھول گئے تھے ، گردن توڑ دی گئی تھی جبکہ بائیں آنکھ وجھ گئی تھی ۔ اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ تشدد برداشت نہ کرتے ہوئے وہ فوت ہوگیا ۔ بعد میں اس کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی اور اسے مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ اس واقعے پر انسانی حقوق کی محافظ تنظیموں نے سخت احتجاج کیا ۔ جینوا میں جاری ایک کنونشن میں اس ہلاکت کا ذکر کیا گیا اور زور دیا گیا کہ اس طرح کی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔
رضوان پنڈت کی گرفتاری اور ہلاکت تا حال ایک معمہ بنی ہوئی ہے ۔ اس کے گھر والوں کے مطابق رضوان کو پچھلے سال اگست میں گرفتار کیا گیا اور پبلک سیفٹی ایکٹ لگاکر جیل بھیجدیا گیا ۔ بعد میں عدالت نے اسے بے گناہ قرار دے کر اس کی رہائی کا حکم دیا ۔ پولیس نے کچھ دن کے ٹال مٹول کے بعد اسے رہا کردیا ۔ اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر امن زندگی گزارنی شروع کی ۔ یہاں تک کہ منگل وار کو رات گئے پولیس نے ایک بار پھر ان کے گھر پر چھاپہ مارا ۔ گھر کی باریک بینہ سے تلاشی لینے کے بعد رضوان کو اونتی پورہ پولیس اسٹیشن میں تعینات ڈی ایس پی کی قیادت میں آئی پولیس پارٹی نے اپنے ساتھ لے لیا۔ اگلے روز اس کے گھر والوں کو کہا گیا کہ رضوان کو سرینگر کارگو پولیس حکام کے حوالے کیا گیا تھا جہاں وہ کسی وجہ سے ہلاک ہوگیا ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے این آئی اے کے حوالے کیا گیا ۔ لیکن مذکورہ تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے رضوان کی گرفتاری سے انکار کیا گیا ۔ پولیس کا الزام ہے کہ رضوان جیش محمد تنظیم کے کمانڈروں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ حالانکہ اس کے گھر والوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ معلوم ہواہے کہ رضوان کا باپ کالعدم جماعت اسلامی کا بنیادی ممبر ہے ۔ رضوان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ سائنس مضمون میں پوسٹ گریجویشن کی تھی اور بی ایڈ کا امتحان بھی پاس کیا تھا ۔ اپنی پہلی گرفتاری سے پہلے ایک نجی تعلیمی ادارے میں بحیثیت پرنسپل کام کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ بارھویں جماعت کے لئے کوچنگ سنٹر چلاتا تھا ۔ اسلامی یونیورسٹی اونتی پورہ میں کبھی کبھار لیکچر دینے کے لئے بھی جاتا تھا ۔ اس وجہ سے علاقے میں کافی شہرت رکھتا تھا ۔ اس دوران کسی جنگجو تنظیم کی مدد بھی کرتا تھا باوثوق ذرایع سے اس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس وجہ سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ البتہ اس کے سماجی اور عوامی کاموں میں حصہ لینا واضح ہے ۔ اس ہلاکت پر وادی بھر میں احتجاج کیا گیا ۔ سرینگر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے اس ہلاکت کی خبر ملتے ہی تمام کاروبار بند کیا ۔ اسی دوران مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے اس حوالے سے ایک دن کے لئے ہڑتال کی کال دی گئی۔ جمعرات کو کئے گئے ہڑتال سے سارا کام کاج معطل ہوگیا ۔ کشمیر یونیورسٹی کے علاوہ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کی اساتذہ یونینوں کی طرف سے جاری بیان میں اس ہلاکت کی پرزور مذمت کی گئی ۔ جموں کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس ہلاکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی ۔ پی ڈی پی کی طرف سے اس کے خلاف احتجاجی اب تک جاری ہے ۔ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس ہلاکت کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی مانگ کی ۔ محبوبہ مفتی نے اس طرح کی ہلاکتوں پر مکمل روک لگانے کا مطالبہ کیا ۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے سرینگر میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔ اس موقعے پر نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری نے ایک تفصیلی بیان دیا اور ہلاکت کی زوردار الفاظ میں مزمت کی ۔ اس کے علاوہ سابقہ آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل نے اس ہلاکت پر صدمے کا اظہار کیا ۔ انجینئر رشید نے اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی ۔ کانگریس کے علاوہ بی جے پی نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا گیا ۔ مقتول کے گھر کہا جاتا ہے کہ سوگوارون کا تانتا بندھاہوا ہے۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس ہلاکت کی تحقیقات کرکے ملوث پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے ۔ پولیس نے اس کیس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ایک الگ کیس بنایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ رضوان پنڈت نے پولیس حراست سے بھاگنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ ہلاک کیا گیا ۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ رضوان کو کھریو علاقے میں موجود ایک جنگجو ہائیڈ آوٹ کی تلاشی لینے کے لئے لیا گیا تھا جہاں اس نے بھاگنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے مجبور ہوکر اس کو گولی ماردی جس سے وہ ہلاک ہوگیا ۔ رضوان پنڈت کے گھر والوں نے پولیس بیان کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا اور اس بیان کو مسترد کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ رضوان کو تھرڈ ڈگری ٹارچر کرکے ہلاک کیا گیا ۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے ۔ تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ کہنا ممکن ہوگا ۔ ادھر اطلاع ہے کہ جماعت اسلامی کے بعد دہلی سرکار نے یاسین ملک کی قیادت میں قائم لبریشن فرنٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ لیا ہے ۔ اس وجہ سے فرنٹ کے لئے کھلے عام کام کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ یاد رہے کہ یاسین ملک کو پہلے ہی گرفتار کرکے وادی سے باہر جیل میں بند رکھا گیا ہے ۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی اور اہلحدیث لیڈروں کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں بند کیا گیا ۔ اس وجہ سے ریاست میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔