سرورق مضمون

سال نو 2019 ہلاکتوں اور الیکشنوں کا سال!

ڈیسک رپورٹ
نئے سال کے آغاز پر پلوامہ میں ایک ایس پی او کو ہلاک کیا گیا ۔راجپورہ پلوامہ کے حاجن پائین گائوں میں پیش آئے اس واقعہ سے متعلق کہا گیا کہ مسلح افراد سمیر احمد نامی ایک ایس پی اوکے گھر میں داخل ہوئے اور اس پر اندھا ادھند گولیاں چلائیں ۔ زخمی اہلکار کو فوری طور ہسپتال پہنچایا گیا ۔ لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر د م توڑ بیٹھا ۔ پولیس نے کیس درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کی ہے ۔ بعد میں ہلاک کئے گئے اہلکار کو پولیس کی طرف سے سلامی دی گئی اور گھر پہنچاکر اسے دفن کیا گیا ۔ اس ہلاکت سے علاقے میں سخت خوف ودہشت پایا جاتا ہے ۔ مارے گئے اہلکار کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ سمیر کسی بھی طرح مخبری یا جنگجووں کے خلاف کاروائیوں میں ملوث نہیں تھا ۔ انہوں نے اس ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس ہلاکت کو بلا وجہ اور غیر اسلامی حرکت قرار دیا ہے ۔ ابھی تک اس ہلاکت کی کسی بھی عسکری گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ پولیس تاحال اس ہلاکت میں ملوث مسلح افراد کی شناخت ظاہر کرنے میں نام کا رہی ہے۔ اسی دوران سرینگر میں ایک دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور ایک شخص اپنے نومولود بچے کو زندہ دفن کرنے کی کوشش کررہاتھا ۔ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ رنگے ہاتھوں یہ حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ غربت کی وجہ سے مذکورہ شخص اپنے بچے کو دفن کررہاتھا ۔ پولیس نے اس حوالے سے کیس درج کرکے کارروائی شروع کی ۔ اس دوران حکومت نے اعلان کیا کہ باپ کو سزا ملنے اور جیل میں بند رہنے کے دوران بچے کی کفالت حکومت کرے گی۔ اسی دوران ترال میں تین جنگجووں کو ہلاک کئے جانے کی اطلاع ہے ۔ یہ واقعہ جمعرات صبح سویرے پیش آیا ۔ گلشن پورہ میں ایک زمین دوز کمین گاہ میں چھپے جنگجووں کے بارے میں سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی ۔ پولیس فوج اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کاروائی میں پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا ۔ مختصر جھڑپ کے بعد تین جنگجو مارے گئے جن کی شناخت مقامی افراد کے طور کی گئی ۔ اس طرح سے سال نو کا پیغا م ہلاکتوں سے دیا گیا ۔
سال 2019 کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان میں اسمبلی انتخابات جلد کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس حوالے سے وزیرداخلہ نے کہا کہ ان کی حکومت کسی بھی وقت الیکشن کرانے کے لئے تیار ہے ۔ ریاستی گورنر نے پچھلے سال کے آخر پر اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نئے اسمبلی انتخابات پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہونگے ۔ اندازہ ہے کہ پارلیمنٹ کے لئے الیکشن جون یا جولائی میں کئے جائیں گے ۔ اس دوران این سی اور پی ڈی پی کی طرف سے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے حوصلہ پاکر دہلی سرکار نے پارلیمنٹ انتخابات سے پہلے اسمبلی انتخابات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔ تاہم اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے صلاح مشورہ کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اسمبلی کے یہ انتخابات بہت ہی دلچسپ ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔ اس سے پہلے دو بڑی سیاسی پارٹیوں این سی اور پی ڈی پی نے بلدیاتی انتخابات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا تھا کہ ریاست میں انتخابات کے لئے مناسب ماحول نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ دفعہ 35 A پر سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی وجہ سے بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا ۔ اب دونوں پارٹیوں نے پہلے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ تمام پارٹیوں نے ساری سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پی ڈی پی کو موجودہ مرحلے پر سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس کے کئی سینئر رہنما پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں چلے گئے ہیں۔ پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اس سے پارٹی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی سخت مشکلات سے دوچار ہے۔ خاص طور سے سرینگر میںاس کے دو شیعہ رہنمائوں کے پارٹی چھوڑنے سے پی ڈی پی کی عوامی حمایت میں سخت کمی آئی ہے ۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کی تمام نشستوں سے اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔ پہلے خیال تھا کہ پی ڈی پی اپنی حلیف جماعت پیوپیلز کانفرنس کے ساتھ گٹھ جوڑ کرے گی ۔ لیکن اب دونوں جماعتوں نے اتحاد کے اس خیال کو مسترد کیا ہے اور الگ الگ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ اسی طرح کانگریس نے بھی اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ ادھر کہا جاتا ہے کہ کچھ سیاسی لیڈر تھرڈ فرنٹ بنانے کی تیاری کررہے ہیں ۔ پہلے کہا گیا تھا کہ پی ڈی پی کے سابق وزیر مالیات الطاف بخاری یہ محاذ بنانے میں سرگرم ہیں۔ لیکن انہوں نے اس طرح کے کسی خیال کو مسترد کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پی ڈی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ ایک حالیہ میٹنگ میں انہوں نے کچھ معاملات پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے میٹنگ ادھوری چھوڑی ۔ اس سے اندازہ لگایاجارہاتھا کہ وہ پارٹی سے الگ ہونے والے ہیں ۔ بعد میں انہوں نے ایسے کسی منصوبے سے انکار کیا ۔ اس طرح کے حالات سے لگتا ہے کہ سال نو کشمیر کے لئے انتہائی اہم اور خطرناک سال ہوگا ۔ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی حالات میں سدھار آنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ہلاکتوں کا یہ پیغام سال نو کےلئے بھی قیامت خیز سال ہونے کی پیشن گوئی کی جارہی ہے ۔