اِسلا میات

سرکارِ دو جہاں کے آخری ایام اور اثاثے

سرکارِ دو جہاں کے آخری ایام اور اثاثے

ذوالفقار احمد

زمان و مکان کے قادر و مالک کی تخلیقات پر، اس کی کہکشاؤں کو اور اس کے چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر ازل سے انسان محو حیرت ہے۔ اْن کی ہیبت اور عظمت بجا مگر عزت اور عقیدت اس کے برگزیدہ انسانوں کے حصے میں آئی اور اس ہستی کی تعریف و توصیف اور انسانوں کی اس سے محبت کہ جس کے بعد خالق نے مخلوق سے Communication ہی ختم کر دی، انسانی عقل و فہم سے بھی ماورا ہے۔ بلاشبہ سب سے زیادہ عقیدتیں اور محبتیں اْن کیلئے مخصوص کر دی گئیں، اْن کے بعد آنے والے ہر زمانے کے شاعراور ادیب اْن کے اوصاف بیان کرنے کیلئے الفاظ اور القاب تلاش کرتے رہے۔ محقق ، دانشور اور فلسفی اْن کے حضور عقیدتوں کے لعل و گہر پیش کرتے رہے۔ کسی نے انسانیت کا محسنِ اعظم قرار دیااور کسی نے سرورِ کائنات کہا۔ کسی نے اللہ کا نور کہا کسی نے انسانوں کا سب سے بڑا رہبر اور رہنما۔ مورخین نے انہیں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا مصلح (Reformer) مانا اور گورے قانون دانوں نے سب سے بڑا Law giver تسلیم کیا۔ انسانی تاریخ اور قدیم اور جدید فلسفوں کے شناور اقبالؒ کی فکر لافانی نظموں کی تخلیق کے دوران بار بار اسی سرچشمہء ہدایت کی جانب مْڑ جاتی ہے جو ختم الرّسل بھی ہے اور دانائے سْبل بھی،اور دانائے راز کے الفاظ میں لَوح بھی وہی قلم بھی وہی اور کتاب بھی وہی ہے، وہی یٰسین ہے وہی طہٰ ہے، وہی فرقان اور وہی قرآن ہے۔ جامیؒ نے انسانوں اور زمانوں کے بھرپور مطالعے کے بعد ’’بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر‘‘ کہہ کر بات ہی ختم کر دی۔ کْرّہ ارض کے تمام صاحبانِ علم و دانش پْکار پْکار کر گواہی دے رہے ہیں کہ حیوانیت اور درندگی کے اندھیرے انسانیت کو نگل جاتے اگر محمدؐ انسانیت کو بچا کر ہدایت اور نجات کی روشنیوں میں نہ لے آتے۔ دلوں کے راز تک جاننے والے زمینوں اور آسمانوں کے مالک نے اسی لئے انہیں ’’روشن چراغ‘‘ اور ’’تمام جہانوں کیلئے رحمت‘‘ کے لقب دیئے اور ازل سے ابد تک کی تمام مخلوقات میں سے اْن کا نام اور مقام بلند کر دیا۔ بحروبر کے کونے کونے میں مالکِ ارض و سماء کے ساتھ اگر کوئی اور نام گونجتا ہے تو وہ محمد مصطفیٰ ؐ کا ہے۔
چشمِ اقوام یہ نَظّارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ ’’رَفعنَالَکَ ذِکرک‘‘ دیکھے
مشہور عرب فلسفی عْمر غَسّان ہر روز اپنی دس سالہ پیاری بیٹی کو گلے لگا کر پیار کرتا اور اسکے آنسو معصوم بیٹی کے بالوں میں جذب ہوتے جاتے۔ وہ مسلسل بلند آواز میں یہی دْھراتا تھا ’’ محمد نہ ہوتے تو میں اپنی پیاری بیٹی کو قتل کر کے قبر میں گاڑ دیتا اور بوڑھی ماں کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیتا۔ محمدؐ آپ نے مجھ پر میری آئیندہ نسلوں پر اور سارے انسانوں پر کتنا بڑا احسان کیا کہ ان رشتوں کی حرمت اور تقدس آشنا کر دیا ‘‘ ترک فلاسفر خالد مصطفیٰ کہتا ہے ’’اگر میدانِ حشر میں مالکِ یوم الدّین چند منٹوں کیلئے رحمۃ للعالمین کے دیدار کی اجازت دے دیں تو اربوں انسان حضرت محمدؐ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دوڑ پڑیں( ان میں جینوں اور جیکٹوں والے نوجوان سب سے آگے ہوں گے) اور شاید لاکھوں ایک دوسرے کے پاؤں تلے آکر کچلے جائیں کاش ان میں سے ایک میں بھی ہوں‘‘۔ ارض و سماء کا خالق و مالک خود اعلان کر رہا ہے ’’ ہم نے تمہارا ذکر (نام) بلند کر دیا۔‘‘رفعتِ شانِ’’ َرَفعنَالَکَ ذِکرک ‘‘ دیکھے
انسانی اوصاف کی انتہاء اور انسانیت کے اوجِ کمال کا نام محمدؐ ہے۔ نبی کریمؐ کے آخری ایّام کے بارے میں کچھ تاریخی حقائق مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی تحریر کئے ہیں۔ جو دلگدار بھی ہیں اور روح پرور بھی۔
نبی کریم ؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جو انسانی حقوق کا سب سے بڑا چارٹر ہے۔ خطبہ سے فارغ ہوئے تو جبریلِ امین وہیں تکمیل ِ دین و اتمامِ نعمت کا تاج لے آئے اور یہ آیت نازل ہوئی۔ ( آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔)
29 صفر بروز دوشنبہ ایک جنازے سے واپس تشریف لارہے تھے کہ راستے میں سر کے درد سے علالت کا آغاز ہو گیا۔ سید نا ابو سعید خودی ؒ فرماتے تھے کہ سرکار دو جہاں کے سر مبارک پر رومال باندھا تھا۔میں نے ہاتھ لگایا۔یہ اس قدر جل رہا تھا کہ ہاتھ کو برداشت نہ تھا۔ مزاج اقدس پر ضعف اس قدر طاری تھا کہ علی ؓ اور عباس ؓ نے حضور کے دونوں بازو تھام رکھے تھے اور بڑی مشکل سے حجرہ عائشہؓ میں تشریف لائے۔سیدہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی خدا جب کبھی بیمار ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھ کر ہاتھ اپنے جسم پر پھیر لیتے تھے۔ “اے مالکِ انسانیت خطرات دور فرمادے اے شفائ دینے والے تو شفاء عطاء فرمادے۔ شفاء وہی ہے جو تو عنایت کرے۔وہ صحت عطاء کر کہ کوئی تکلیف باقی نہ رہے”۔اس مرتبہ میں نے یہ دعا پڑھی اور نبی خدا کے ہاتھوں پر دم کر کے یہ چاہا کہ جسم مبارک پر ہاتھ پھیر دوں مگر حضور نے ہاتھ پیچھے ہٹادیئے اور ارشاد فرمایا ’’اللھم اغفرلی وَ الحقنی بالرفیق لاعلیٰ‘‘ ’’اے اللہ معافی اور اپنی رفاقت عطا فرمادے۔‘‘
وفات سے پانچ روز پہلے مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا “مسلمانو ! تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہے جس نے اپنے انبیاء و صلحاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا تم ایسا نہ کرنا۔ پھر یہ ارشاد فرمایا “خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار عطاء فرمایا ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کو قبول کرے یا آخرت کو مگر اس نے آخرت کو قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر رمز شناسِ نبوت سیدنا ابوبکرؓ یہ سمجھ کر کہ اب جدائی قریب ہے
رونے لگے اور کہا یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ ہماری جانیں اور ہمارے زرو مال آپ پر قربان ہو جائیں۔
سرکار دوعالم ؓ علالت کی تکلیف کے باوجود برابر مسجد میں تشریف لاتے رہے۔جمعرات کے روز مغرب کی نماز بھی خود پڑھائی عشاء کے وقت آنکھ کھولی اور دریافت فرمایا کیا نماز ہو چکی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا حضور سب آپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔پانی سے غسل کیا ہمت کر کے اْٹھے مگر غش آگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آنگھ کھولی اور فرمایا کیا نماز ہو چکی ؟ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ ؐ مسلمان آپکا انتظار کر رہے ہیں۔تیسرے مرتبہ اْ ٹھنا چاہا تو غشی آگئی۔افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا۔”ابوبکرؓ نماز پڑھا دے”سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ میرے بابا نہایت رقیق القلب انسان ہیں۔وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھاسکیں گے۔ ارشاد فرمایا ’’ وہی نماز پڑھائیں گے۔‘‘ جب سیدنا ابوبکرؓسرور کائنات کی جگہ کھڑے ہوئے تو عالمِ یَاس نے مسجد نبوی پر اپنے پردے تان دیے اور مسلمانوں کے دل بے اختیار رو دیئے۔خود صدیقِ اکبرؓ کے قدم بھی لڑکھڑا گئے چونکہ رسول اللہ کے ارشاد میں توفیقِ الٰہی شامل تھی اس لئے یہ کٹھن مرحلہ گزر گیا۔صدیقِ اکبرؓ نے حیات نبوی ؐمیں اسی طرح سترہ نمازیں پڑھائیں۔ نبی کریم وفات کے ایک روز قبل صبح بیدار ہوئے تو اپنے اثاثوں کی طرف توجہ فرمائی۔فرمایا گھر میں جتنا مال ہے لے آؤ سرکارِ دوجہاں کے گھر کی ساری دولت صرف سات دینار نکلی۔حضرت عائشہؓ سے فرمایا “مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے مالک سے ملنے جاؤں اور میرے گھر میں دولت پڑی ہو۔انہیں فوراً غریبوں میں تقسیم کردو”۔ اس ارشاد پر گھر صاف کر دیا گیا آخری رات شاہِ دو جہاں کے گھر میں چراغ جلانے کیلئے تیل تک موجود نہ تھا۔ (آجکل ہمارے ملک میں اثاثوں کا بہت ذکر ہوتاہے قادرِ مطلق کو اگر دولت اور امارت عزیز ہوتی تو وہ مکہ اور مدینہ کے تمام پہاڑوں کو سونے کا بنا کر انہیں اپنے آخری پیغامبر کی ملکیت میں دے دیتا۔) تکلیف کی شدّت بڑھ گئی تو پیاری بیٹی فاطمہؓ کو یاد فرمایا وہ مزاجِ اقدس کا یہ حال دیکھ کر سنبھل نہ سکیں۔سینہ مبارک سے لپٹ کر رونے لگیں۔ بیٹی کو اس طرح نڈھال دیکھ کر فرمایا میری بیٹی رو نہیں میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو ’’اِنَّ لِلّٰہِ و اِنَّ الیہ رَا جِعْون‘‘ کہنا اس میں ہر شخص کیلئے سامانِ تسکین موجود ہے۔فاطمہ ؓنے پوچھا کیا آپ کیلئے بھی۔ فرمایا ہاں۔اس میں میری بھی تسکین ہے۔
جس قدر رسول اللہ ؐکا درد و کرب بڑھ رہا تھا حضرت فاطمہ ؓ کا کلیجہ بھی کٹتا جارہا تھا۔حضورنے فرمایا ’’بیٹی میں اس دنیا کو چھوڑ کر جارہا ہو۔فاطمہ ؓ زور سے رونے لگیں۔‘‘ پھر فرمایا ’’میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھے ملو گی۔‘‘ فاطمہؓ مطمئن ہوگئیں۔کہ جدائی قلیل ہے۔ اس موقع پر پہلے ازواج مطہرات کو اور پھر حضرت علی ؓکو طلب فرمایا اورانہیں نصیحتیں فرمائیں۔زبانِ مبارک سے یہی نکلتا تھا ’’ اللھم بالرفیق الاعلیٰ ‘‘ اے خداوند بہترین رفیق۔آخری لمحات میں عبدالرحمان بن ابوبکرؓ ایک تازہ مسواک لائے۔اْم المئومنین نے دانتوں سے نرم کر کے مسواک پیش کی۔آپ نے تندرستوں کی طرح مسواک کی۔دہان مبارک پہلے ہی طہارت کا سراپا تھا۔اب مسواک کے بعد اور بھی مجلا ہوگیا۔تو یک لخت ہاتھ اونچا کیا کہ گویا کہیں تشریف لے جارہے ہیں۔پھر زبانِ اقدس سے آخری الفاظ نکلے ’’بل الرفیق الاعلیٰ بل الرفیق الاعلیٰ ‘‘ تیسری آوازکے ساتھ آفتابِ ہدایت غروب ہو گیا۔ کائنات کی افضل ترین ہستی کو جسے جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا مالک نے اپنے پاس بلا لیا۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ و اِنَّا الیہ رَاجِعْون‘‘
خبرِ وفات کے بعد مسلمانوں کے جگر کٹ گئے۔قدم لڑکھڑا گئے۔چہرے بجھ گئے۔آنکھیں خون بہانے لگیں۔ارض و سماء سے خوف آنے لگا۔سورج تاریک ہو گیا۔آنسو بہہ رہے تھے اور نہیں تھمتے تھے۔کئی صحابہؓ دل گرفتہ ہوکر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ و اِنَّا الیہ رَاجِعْون‘‘