اداریہ

سرکاری ہسپتالوں میں کام کاج

یوں توانسانی زندگیوں کو بچانے اور راحت رسانی کےلئے حکومت سرکاری اسپتالوں کو جدید طرز کی مشینریوں کے ساتھ ساتھ عملہ کو متحرک کرتا ہے اور عوام کو کسی بھی مشکلات کے بغیر علاج ومعالجے کی سہولیات بہم رکھتا ہے، لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ ہماری ریاست میں حکومت کی طرف سے تقریباً ہر علاقے میں ایسے ہسپتال یا پرائمری ہیلتھ سنٹرل قائم ہیں جہاں حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو وہاں عملے کی کام اور مریضوں کا علاج و معالجہ تسلی بخش نہ ہونے کی شکایات ہیں ،پرائیویٹ اسپتالوں کی بھر مار سے سرکاری اسپتالوں کا نظام آئے دن بگڑ رہا ہے اور عوام کو طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہونا ظاہر سی بات ہے۔ یہاں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں تعینات طبی اور نیم طبی عملے کو اگرچہ سرکاری حکمنامے کے مطابق دس بجے ہی اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے احکامات ہیں لیکن نجی اسپتالوں یا کلنکوں میں کام کر رہے خاص کر معالج حضرات کےلئے ڈیوٹی پر حاضر ہونے کےلئے کوئی وقت کی پابندی نہیں لگتا۔ اکثر علاقوں میں یہ بھی دیکھا گیا کہ نہ صرف معالج حضرات بلکہ اس شعبے سے دوسرے درجے کے ملازمین جن میں ٹیکنیشنز بھی شامل ہیں اپنے اپنے تشخصی مراکز پر فارغ ہونے کے بعد سرکاری ڈیوٹی جانا گورا کرتے ہیں، ڈاکٹر ہو یا دیگر عملہ خاطر خواہ پیسے کمانے کی خاطر سرکاری ہسپتالوں میں اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے دوسرے نجی ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے کلنکوں کو چلانے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ یہی ایک خاص وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میںیہ لوگ مقررہ اور صحیح وقت پر اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے۔ سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ نگہداشت نجی ہسپتالوں میں ہونے کی عام سی چرچہ ہے، مگر یہ خالص چرچہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ نجی ہسپتالوں میں پیسے کمانے کی خاطر یہی عملہ جو سرکاری ہسپتالوں میں موٹی موٹی تنخواہ بھی لیتے ہیں،پرائیویٹ ہسپتالوں یا کلنکوں میں مریضوں یا تیمارداروں کے ساتھ نرم رویہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ریاست بھر کے سرکاری اسپتالوں میں اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جدید طرز کی طبی جانچ کرانے والی مشینری موجود ہونے کے باوجود بھی اکثر معالجین مریضوں کو نجی تشخصیی مراکز میں جانچ کرانے کےلئے روانہ کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیماروں کو نجی تشخیصی مراکز روانہ کرنے کا ڈاکٹروں کا اصل مقصد وہاں سے کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے، ایسی بھی شکایات ہیں کہ نہ صرف ڈاکٹر صاحبان کو مختلف تشخیصی مراکز خاصا مگر ناجائز طریقے پر آمدنی کے ذریعے ہوتے بلکہ اکثر ڈاکٹر صاحبان دوائیوں میںبھی خاصا کمیشن حاصل کرنے میں بھی کوئی شواری محسوس نہیں کرتے، بتایا جاتا کئی ایک ڈاکٹر صاحبان مریضوں کو سردرد یازکام کےلئے طاقتی دوائیاں لکھتے ہیں ، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ان طاقتی دوائیوں میں طاقت نام کی کوئی شئی تک موجود نہیں ہوتی، مگر کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ چاہیے ان دوائیوں میں طاقت نام کی کوئی شئی بھی کیوں نہ ہو مگر ڈاکٹر صاحبان کو کمیشن کا مقرر ہونا طے ہے۔ اس لئے ایسے نسخے لکھے جاتے ہیں جن میں بیمار کی علاج کےلئے کم ہی دوائیاں لکھی جاتی ہیں اور زیادہ تر اپنی کمائی کو مد نظر رکھ کر کمیشن والی دوئیاں لکھی جاتی ہیں۔ کئی حلقے اس بات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں یہ معالج چند ہی منٹوں کے اندر درجنوں مریضوں کا طبی معائنہ کرتے ہیں نجی اسپتالوں یا ذاتی کلنکوں میں گھنٹوں کے دوران چند ہی مریضوں کی طبی معائنہ کرتے ہیں ، یہی ایک خاص وجہ ہے کہ مریض سرکاری ہسپتالوں کے بجائے نجی یا ذاتی کلنکوں سے مطمئن ہوتے ہیں۔ یہ ہے سرکاری ہسپتالوں میں کام کاج کا سسٹم۔ بہر حال سرکاری ہسپتالوں میں کام کر رہے طبی اور نیم عملے کو اپنی زمہ داریوں کو سمجھ لینا چاہیے اور اپنی روزی روٹی حلال طریقے سے کمانی چاہیے۔