مضامین

سریگفوارہ میں گھمسان کی جھڑپ

مانیٹرنگ ڈیسک
جنوبی قصبہ کے ضلع اننت ناگ ، تحصیل بجبہاڑہ کے مضافاتی گائوں سری گفوارہ نو شہرہ میںجمعہ کو عسکریت پسندوں اور فوج وفورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں ایچ ایم ٹی سرینگر سے تعلق رکھنے والے دولت اسلامیہ کے چیف کمانڈر سمیت 4عساکر ،ایس او جی اہلکار اور ایک شہری ہلاک جبکہ طرفین کے مابین شدید گولی باری اور مظاہرین و فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک خاتون ،2فوجی اہلکاروں سمیت40افراد زخمی ہوئے جن میں6کو گولیاںلگیں جن میں ایک شہری کی حالت نازک قرار دی گئی۔پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے گئے جنگجوئوں کا تعلق داعش سے تھا جن کی ہلاکت کے بعد داعش کا صفایا کردیا گیا ہے۔اس دوران زینہ کوٹ ایچ ایم ٹی سمیت جھڑپ کی جگہ کے نزدیک اور پلوامہ کے کئی علاقوں میں ہڑتال کے بیچ مشتعل نوجوانوں اور پولیس وفورسز کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
بتایا جاتا ہے کہ جموں کشمیر میں دولت اسلامیہ کے چیف دائود سلفی عرف برہان سمیت انکے دیگر ساتھی سری گفوارہ بجبہاڑہ کے مضافاتی گائوں نوشہرہ (کھرم)میں موجود تھے۔جمعہ کی علی الصبح جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملنے پر فوج کی 3آر آر،سی آر پی ایف اور پولس ٹاسک فورس کی ایک مشترکہ پارٹی نے گائوں کا محاصرہ کرلیا ۔فوج کا کہنا کہ محاصرہ کئے جانے کے دوران جنگجوئوں نے زبردست فائرنگ کی اور ابتدائی حملے میں ہی اسکے دو اہلکار ،دو عام شہری اور ایک پولس اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے بعدازاں ایک پولس اہلکار اور ایک عام شہری نے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق عام شہری اس مکان کا مالک تھا، جہاں جنگجوئوں نے پناہ لی ہوئی تھی،جسکی شناخت53سالہ محمد یوسف راتھر کے بطور ہوئی،جبکہ انکی اہلیہ حفیظہ بیگم بھی شدید زخمی ہیں اور میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کی جاچکی ہیں۔لوگوں کا الزام ہے کہ فوج نے آتے ہی اس مکان پر اندھادھندفائرنگ کی جس سے مکان مالک اور مالکن زخمی ہوگئیں،راتھر کو اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔اس دوران جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپ جاری رہی ،جس دوران یہ پورا علاقہ گولیوں کی گن گھرج اور دھماکوں سے لرز اٹھا ۔ فوج وفورسز نے انکائونٹر کے اُس رہائشی مکان کو بارود سے اُڑا دیا، تاہم جنگجو جھڑپ کے دوران دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے تھے ،جنہوں نے فورسز کو کئی گھنٹوں تک جھڑپ میں الجھائے رکھا ۔بعد ازاں بعد دوپہر مکان اڑانے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا اور مکان کے ملبے سے 4جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔ جن میں ایک اعلیٰ کمانڈر دائود سلفی عرف برہان بھی تھا جس کا تعلق ایچ ایم ٹی سرینگر سے ہے ۔اس دوران فورسز اہلکاروں نے جھڑپ کی جگہ سے کچھ جنگجوئوں کے فرار ہونے کی اطلاع پر فورسز کی مزید کمک کو طلب کرتے ہوئے سریگفوارہ کے مضافاتی علاقوں جن میں مہند، خوشری کلان اور دچھنی پورہ علاقوں کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ پولیس نے جاں بحق 4جنگجوئوں کی شناخت دائود سلفی عرف بر ہان ساکن ایچ ایم ٹی سرینگر ،ماجد منظور ڈار ساکنہ تالنگام پلوامہ،اشرف ایتو ساکن ہاتھی گام سری گفوارہ اور عادل حسن میر ساکن شی پورہ سر ی گفوارہ کے ناموں سے کی ہے جبکہ مہلوک ایس اوجی اہلکار کی شناخت عاشق حسین کے بطور ہوئی۔
اس دوران سری گفورہ میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوتے ہی،مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی،تاہم جب یہ اطلاع کہ مالک مکان محمد یوسف راتھر بھی فورسز کی گولیوں کا نشاہ بن گئے ہیں،اور جان بحق ہوئے تو احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی اور لوگوں نے جم کر نعرہ بازی کر کے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگوں نے مزاحمت بھی کی ،تاکہ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوسکے ۔اس سے قبل جھڑ پ کی جگہ لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیاتھا، جنہوں نے جنگجوئوں کو بچانے کیلئے فورسز پر شدید خشت باری کی ۔جوابی کارروائی کے دوران فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی جسکے نتیجے میں کئی احتجاجی زخمی ہوئے ،جن میں4 کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔ جھڑپ میں قریب 40مظاہرین زخمی ہوئے جن میں ایک خاتون سمیت 4کو گولیاں لگیں جن میں ایک کی حالت نازک ہے۔سری گفورہ میں پلوامہ کے جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بیسوں نوجوان باہر آئے۔ نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی،جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شل اور پیلٹ چلائے۔ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے علاوہ اُن کا دور دور تک تعاقب کیا۔جھڑپوں کی وجہ سے پلوامہ قصبے اور ملحقہ علاقوں میں ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہوئی اور مکمل ہڑتال رہی۔اس دوران سرینگر میں بھی ایچ ایم ٹی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد فورسز اور انکے درمیان کئی گھنٹوں تک جم کر تصادم آرائی ہوئی۔مظاہرین نے داعش کے پرچم بھی لہرائے اور فورسز پر شدید نوعیت کی سنگباری کی جس کے جواب میں کئی گھنٹوں تک شلنگ ہوتی رہی۔اس دوران انتظامیہ نے پلوامہ ،اننت ناگ اور سرینگر میں موبا ئیل انٹر نیٹ خد مات سنیچر کے تقریباً دوپہر تک معطل کر دی جبکہ ریل سروس کو بھی معطل رکھا گیا ۔
ادھرجھڑپ میں جاں بحق ہوئے چاروں جنگجوئوں کو اپنے اپنے علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔دائود سلفی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور انکی کئی بار نمازہ جنازہ ادا کی گئی۔انہیں رات دیر گئے سپرد لحد کیا گیا۔ماجد منظور ڈار ساکن تلنگام پلوامہ، جو کالج کا طالب علم تھا، پہلے لشکر کیساتھ وابستہ تھا اور بعد میں داعش کیساتھ وابستہ ہوگیا۔انہیں بھی اپنے آبائی گائوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ انکے نماز جنازہ میں بھی سینکڑوں لوگ شریک ہوئے۔عادل رحمان بٹ ساکن ہٹی گام سری گفوارہ اسلامک یونیورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔وہ پہلے القاعدہ کیساتھ وابستہ ہوا تاہم بعد میں داعش میں شمولیت اختیار کی۔محمد اشراف ایتو ساکن ششی پورہ سری گفوارہ بھی انجینئرنگ کا طالب علم تھا اور وہ غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں تعلیم حاصل کررہا تھا۔وہ عیسی فاضلی ساکن صورہ نامی جنگجو کیساتھ راجورہ میں تعلیم حاصل کررہا تھا اور دونوں نے ایک ساتھ جنگجوئوں کی صف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔عادل اور اشرف کو جمعہ کی شام اپنے اپنے آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔
اس دوران ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے جھڑپ کے بارے میں کہا کہ شبانہ جنگجو مخالف آپریشن کے بعد عسکریت پسند وں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے دوران چار عسکریت پسند ،ایک ایس اوجی اہلکار اور عام شہری ہلاک جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ گور نر راج سے قبل بھی جنگجو مخالف آپریشن جاری تھے اور آگے بھی جاری رہیں گے ۔انکا کہنا تھا کہ داود سلفی داعش کا چیف کمانڈر تھا اور گروپ کی ہلاکت کے ساتھ ہی وادی میں داعش کے جنگجوئوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔اس دوران سری گفوارہ جھڑپ کے سلسلے میں پولیس ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کیا ،جس میں پولیس نے وادی میں اسلامک اسٹیٹ کی موجودگی کا اندیشہ ظاہر کیا ۔انہوں نے بیان میں کہا کہ کھرم سری گفوارہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوج ،سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ طور پر جمعہ کی صبح جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق مشترکہ فورسز کی ایک پارٹی جب اُس رہائشی مکان کی طرف جارہی تھی ،جہاں جنگجوئوں نے پناہ لی تھی ،پر جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ جنگجوئوں کی ابتدائی فائرنگ میں پولیس اہلکار عاشق حسین اور53سالہ ایک عام شہری محمد یوسف راتھر ولد گل محمد ساکنہ نوشہرہ کھیرام سری گفوارہ زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جبکہ کئی دیگر عام شہری زخمی ہوئے ،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔پولیس نے جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کی شناخت دائود احمد صوفی ،ماجد منظور ڈار،عادل رحمان بٹ اور محمد اشرف ایتو کے ناموں سے کی ۔پولیس ترجمان کے مطابق 33سالہ دائود احمد صوفی ولد محمد سبحان ساکن زینہ کوٹ ایچ ایم ٹی سرینگر نامی جنگجو کئی پتھرائو واقعات میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ جنگجو بننے کے بعد مزکورہ جنگجو کئی جنگجویانہ کارروائیوں میں ملوث تھا جبکہ یہ اے ایس آئی غلام محمد اور ہیڈ کانسٹیبل نصیر احمد بمقام باغ علی مردان خان ذڈی بل کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا جبکہ مذکورہ جنگجو ٹینگ پورہ بٹہ مالو میں پولیس اہلکار کی ہلاکت اور رائفل چھینے میں بھی ملوث تھا ۔پولیس ترجمان کے مطابق ماجد منظور ڈار ساکن پلوامہ اپنے ساتھی عادل رحمان بٹ ساکن بجبہاڑہ اور محمد اشراف ایتو ساکنہ سری گفوارہ کے ساتھ سرگرم تھا۔پولیس ترجمان کے مطابق دائود تحریک المجاہدین عسکری تنظیم سے وابستہ جو سوشل میڈیا پر زیادہ تر سرگرم ہے جبکہ اس تنظیم کے عساکر زیادہ ڈیوٹی کے دوران مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں ۔پولیس ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پروفائیل اور خفیہ جانکاری سے اشارہ ملتا ہے کہ جاں بحق جنگجو ’آئی ایس آئی ایس ‘ عسکری تنظیم سے متاثر تھے ۔انہوں نے انکائونٹر کی جگہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولی بارود کے علاوہ قابل اعتراض میٹریل ضبط کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی نسبت کیس بھی درج کیا گیا۔