مضامین

سر زمین کشمیر ،، تیر ے دامن سے جو آ ئیں ان ہواؤں کو سلام

رشید پروینؔ سوپور
rashid.parveen48@gmail.com
Cell:7006410532

پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپکو یاد دلاوں کہ سر زمین وادی کشمیر کو ۔کشمیری زباں میں (پیر وار ) کہا جاتا ہے جس کا ترجمہ صوفی، سنتوں، فقیروں ،اولیاکرام ، غوث،و اقطاب کا صحن یا آنگن ہی ہوسکتا ، ان بلند وبالا سادات اور غوث و اقطاب کی یہاں کثرت اور بڑی تعداد کو اس پس، منظر میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ کے بارے میں تاریخی شواہد ہیں کہ ان کے ساتھ ختلان ، ا زبکستان ، سمر قند ، یار قند ، ، پکھلی وغیرہ سے سات سو سے زیادہ سادات باکمال، درویش ،و مومن واردِ کشمیر ہوئے ،جنہوں نے اسی سرزمین کی مٹی اپنی آخری آرام گاہوں کے لئے بھی پسند کی اپنے حسن اخلاق ، پاکیزہ کردار سے ایمان اور اسلام کی شمعیں روشن کیں ۔ آج بھی ان کے مزارات اسی طرح مرجع نور اور محبت و خلوص کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں جس طرح سے اجمیر شریف میں خواجہ محی الدین چستیؒ اور دہلی میں حضرت بختیار کاکی ؒ، اور حضرت نظام ا لدین ؒ ا تنی صدیوں سے آفتابِ امن و امان بنے ہوئے ہیں ،،،جن کے در آستاں آج بھی بلا تفریق مذہب و ملت ، رنگ و نسل ، ذات پات ، اونچ نیچ اور کسی بھی قسم کی چھوت چھات کے سبھی روئے زمین کے بسکینوںکے لئے وا۔ہیں۔ میں نے یہ چند سطور صرف اس لئے قلمبند کی ہیں کہ ا ٓپ سرزمین کشمیر کی امن و امان اور محبت و خلوص کی ان خوشبووں کا تھوڈا سا احساس ضرور کریں جو یہاں کے ذرے ذرے میں رچی بسی ہیں ۔ جموں و کشمیر کے سابق پولیس سربراہ کا ایک بیان حالیہ دنوں سامنے آیا ہے جنہوں نے اپنے بیان میں کچھ ایسی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو کشمیر کی ہزاروں برس کی تاریخ کے ساتھ کسی بھی طرح موافقت نہیں رکھتی، میں یہ بات اس لئے دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بیان اپنے پسِ منظر میں سر زمین کشمیر کی ’’بو باس ‘‘ سے نہ تو ہم آہنگ ہے اور نہ کوئی مطابقت رکھتا ہے ،،، تاریخی طور پر ۴۷ سے مسلم اکثریت انتشار ، اضطراب اور عذاب مسلسل میں مبتلا ہے لیکن یہاں آج تک کی تاریخ تک کسی ایک بھی ہندو مسلم فساد کا ریکارڈ موجود نہیں ،، یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہاں کی مسلم اکثریت منافرت ، تعصب اور بغض سے آشنا ہی نہیں ۔۔ اپنے بیان میں سابق سربراہ پولیس نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اگر ہندو پنڈتوں کو ٹرینگ دی جاتی ہے ، انہیں اسلحہ مہیا کیا جاتا ہے ، اور انہیں اسلحہ بردار اقلیتی گروپ کی صورت دی جاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کشمیر ہندؤ ں کے بغیر نامکمل ہے ،اور مسلمانوں کی اکثریت ان کا استقبال کرے گی ،، تیسری بات یہ کہ جب ان کے پاس ہتھیار ہوں گے تو اپنا تحفظ کر سکتے ہیں ، ان کے خیال میں کشمیر میں ولیج ڈیفنس کمیٹیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں َ‘‘۔۔اس سے پہلے کہ اس اہم بیان کا جائزہ پیش کیا جائے ،اس بیان کے محرکات کو ملحوظ نظر رکھنا بہت ضروری ہے اس کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہوگا کہ یہ نہ صرف حکومت وقت کی سوچ و فکر کا بیان ہے بلکہ ا س سوچ و فکر کو ملکی کینواس پر اقلیتوں کے خلاف بھی وسعت دی جاسکتی ہے ،، مہاتما گاندھی کو اس زمانے میں بھی ہمارے ہاں بھائی چارے اور محبت کی فروذاں شمع کا احساس ہوا تھا جب تقسیم ہند کے دوران دونوں طرف سے منافرت کے شعلوں میں ہر چیز بھسم ہوتی دکھائی دی تھی ۔ جب گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کہیں سے بھی ایک مدھم سی کرن کی موجودگی کا احساس ہوجاتا ہے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ انسانیت ، محبت ، یگانگت اور اپنائیت کے سارے چراغوں نے دھویں کا کفن نہیں پہنا ہے ، بلکہ رات کی سنگینی کے بعد صحر یقینی طور پر نمودار ہوگی ،،، کشمیر بھائی چارے ،امن و شانتی کا گہوارہ ہے،جس طرح بھارت میں صدیوں سے ہندو مسلم میل ملاپ ،یگانگت اور بھائی چارے نے ایک نئی تہذیب کو جنم دیا تھا جس سے ہم اور آپ گنگا جمنی تہذیب سے مو سوم کرتے ہیں جس پر کل تک سارے بھارت کو فخر حاصل تھا ۔ بالکل اسی طرح یہاں اس جنت بے نظیر میں سبھی طرح کے مذاہب اور ادیان کے ماننے والے ایک ساتھ ، ایک واحد گھرانے کی طرح رہتے آئے ہیں ، آج بھی کسی اقلیتی فرقے کے فرد کو جو یہاں بودوباش رکھتا ہے کسی مسلم سے کوئی خوف یا گزند نہیں پہنچی ہے ،، ،، ہماری پنڈت برادری ۹۰ کی دہائی سے ملک کے دوسرے حصوں میں جاب سی ہیں لیکن آج بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہندو برادری کی کشمیر میں موجود ہے ، ہمارے ساتھ رہ رہی ہے اور افسوس کہ آنکھوں کے اندھے اتنا بھی نہیں دیکھ پاتے کہ جب بھی کوئی ہندو بھائی سورگباشی ہوتا ہے تواس کے اپنے نہیں بلکہ مسلم برادری کے لوگ اپنے کندھوں پر میت کو شمشان گھاٹ تک پہنچاتے ہیں ، غمزدہ کے گھر چار دن تک سوگ میں شامل رہتے ہیں اور تمام ہندو رسومات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس گھرانے کے ساتھ ان کے دکھ درد میں شامل رہ کر ان کی ڈھارس بندھاتے ہیں ۔ یہ ایک بار فوٹو سیشن کی بات نہیں ، بلکہ پچھلے تیس برس سے ہر بار جب بھی کوئی ہندو برادری کا دوست گذرتا جاتا ہے تو یہی کچھ ہوتا ہے ،، ہم آج بھی محبت اور اخوت کی روشنیوں میں نہاتے ہیں ،، ،، بدقسمتی سے سارا بھارت الیکٹرانک میڈیا کا یرغمال ہوچکا ہے ،اور ہم وہی کچھ سوچتے ، سمجھتے ، بولتے ہیں جو یہ میڈیا ہمیں سمجھانا اور بلوانا چاہتا ہے ،،، بات کتنی مختصر اور صحیح ہے کہ ۹۰ کی دہائی میں جب ملیٹینسی شروع ہوئی تو ، کچھ ہندو برادری کے افراد اولین دنوں میں نا حق اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، اس میں کوئی دو رائیں نہیں ۔لیکن یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان واقعات کی تعداد ایک سینکڑہ تک بھی نہیں پہنچی لیکن اس کے برعکس ملیٹنٹوں نے اسی ابتدائی دور میں سینکڑوں مسلم افراد کو بھی تختہ دار پر چڑھایا ، مخبری کے الزام میں یا کسی دوسرے بہانے ، لیکن یہ ُدور بہت ہی مختصر رہا، ہندو برادری کے ہول سیل میں وطن سے ہجرت کا ان واقعات سے کوئی زیادہ تعلق نہیں ، کشمیر کی ٹھوس حقیقت ہے کہ اس وقت کے گورنر جگموہن جی نے ہندو برادری کے لئے ایک مکمل منصوبے کے تحت تمام سہولیات کے ساتھ اِن کی نقل مکانی ممکن بنائی، تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ،،، لیکن اس کے پیچھے اس سوچ نے مہمیز لگادی اور ہندو برادری کو باور کرایا کہ دوسرے مقامات پر ان کی منتقلی عارضی اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ضروری ہے ، اس کے بعد ان کی واپسی ،سیاست کی نذر ہوئی ، کئی ہندو تنظیمیں وجود میں آگئیں جنہوں نے اپنی روٹیاں سینکنے کی شروعات کیں اور پھر مختلف ہندو لیڈروں اور مرکز نے ہندو برادری کی واپسی کو اتنا پیچیدہ بنایا کہ آج تک ان کی واپسی ممکن ہی نہیں ہوسکی ، اور دوسری طرف ہندو برادی نے بھی ایک ساتھ کئی طرح کے فوائد اٹھاکر ان مراعات کو بر قرار رکھنے کی خاطر وادی آنے کا خیال ہی بھلادیا جو انہیں بحیثیت مائیگرنٹ حاصل ہیں اور آج بھی اُ ن کی سوچ یہی ہے ، اس میں کشمیری عوام سے بہت زیادہ ہاتھ مرکزی سیاست کا ہے جو اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے ’’واپسی‘‘ کے پس پردہ کام کرہی ہے ، نہیں تو سینکڑوں بار عوام کی تو بات ہی نہیں بلکہ اس زمانے کی ملیٹنٹ تنظیموں بشمول حریت لیڈران نے اپنی اس برادری کے لئے اپنے سینے بھی کھولے اور ان کے تحفظ کی بھی یقین دہانی کی ،، کشمیر کی ہوائیں اور فضائیں آج بھی اپنی اس برادری کی منتظر ہیں ، لیکن ان کے لئے کشمیر کے اندر ،ایک اور کشمیر کا منصوبہ عوامی سطح پر کبھی قبولیت نہیں پاسکتا اور نہ عملی طور پر ممکن ہوسکتا ہے ، کیونکہ یہ پلان اسرائیلی طرز کی بستیوں کی تعمیر ہو گی جو آخر پر مسلموں کی جلاوطنی اور گھروں سے بے دخلی پر منتج ہوگا، اب آپ جناب سابق پولیس سربراہ کے حالیہ بیان کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ہیں ، پہلی بات یہ کہ ہندو برادری کو مسلح کیا جائے ، ہتھیارچلانے اور پھر انہیں ہتھیار بند کرنے کا خیال اور منصوبہ اپنے آپ میں کس طرف اشارہ کر رہا ہے ،؟کیا ایک اچھا معا شرہ ا سی بنیا د پر کھڑا کیا جاسکتا ہے کہ کہیں بھی کسی بھی اقلیت کو ہتھیار مہیا کئے جائیں تاکہ وہ اپنا تحفظ کرسکیں ، ڈر اور خوف کس بات کا ؟ ہم یہاں اسوقت دس لاکھ افواج کے گھیرے میں جی رہے ہیں ، اسکے علاوہ دوسری سیکورٹی فورسسز ، پولیس اور سینکڑوں مختلف ایجنسیاں ،، قدم قدم پر پہرے اور قد غنیں ۔۔ ایک مختصر سی اقلیت کو جنہیں مسلم اکثریت اپنی جانوں سے عزیز رکھتے ہیں ، جن کے ساتھ کشمیری مسلموں کے صدیوں پر محیط محبت ، اخوت اور سماجی رشتے استوار ہیں ، جن کی آسائیشوں اور سہولیات کا صدیوں سے مسلم برادری تحفظ کرتی آئی ہے ، آج بھی اس برادری کی محبت اور اپنائیت اُسی طرح مسلم برادری کے سینوں میں موجزن ہے ، کیوں اپنے گھروں کو لوٹنے میں ہچکچارہی ہے، کس بات سے ڈر رہے ہے ؟کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ ایک سر سری اندازے کے مطابق ان پچھلے برسوں میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ کشمیری مسلماں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن یہاں موجود کسی ہندو کا قتل نہیں ہوا ،؟ ان کے لئے یہاں کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ، اور پھر جب سرکار کا یہ دعویٰ ہے کہ ملیٹینسی کا جنازہ نکل چکا ہے ، کیا ایک چھوٹی سی برادری کو مسلح کرنے اور ہتھیار بند کرنا ایک اور فوج تیار کرنے کے مترادف نہیں ؟ان کے ہتھیار اور اسلحہ کہاں اور کس کے خلاف استعمال ہوگا ؟ ،یہ بھی شاید ایک ایسی ہی بھیڑ ہوگی جس نے ماب لنچنگ کی شروعات کی تھی اور اب بھی اس منصوبے پر کاربند ہے ،،، کشمیری عوام ہندو برادری کاا ستقبال کرنے کے تیار ہے ، اکثریت ہی نہیں بلکہ ہر کشمیری انہیں اپنے سے گلے لگانے کے لئے بیقرار ہے، لیکن ایک مسلح اور ہتھیار بند شخص سے خوف تو کھایا جاسکتا ہے لیکن پیار نہیں کیا جاسکتا ؟ ، ایسے حالات میں جب پہلے ہی سے لاکھوں مسلح ٹرینڈ اور پروفیشنل آرمی کا جماؤ موجود ہو، ایک اور سیول آرمی، یا الگ بستیوں کی تعمیرات کسی بھی طرح ایک مثبت اور قابل فہم بات نہیں ، بھارت میں بھی مسلم اقلیت میں ہے اور یہاں ماب لنچنگ کے ساتھ ساتھ دوسرے منصوبے بھی رو بہ عمل ہیں ،کیا اس اقلیت کو مسلح کرنے کا خیال بھی کسی کو پیدا ہوسکتا ہے، ؟ اور ہونا بھی نہیںچاہئے۔