سرورق مضمون

سلسلہ وار ہلاکتیں اور جی ایس ٹی/ حکومت سخت مشکلات سے دوچار

سلسلہ وار ہلاکتیں اور جی ایس ٹی/  حکومت سخت مشکلات سے دوچار

ڈیسک رپورٹ
سترہ رمضان کو یوم بدر کے موقعے پر جنگجووں نے اپنی موجودگی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ کئی سالوں کے بعد جنگجووں کے ہاتھوں اس طرح کی منظم کاروائی دیکھنے کو ملی ۔ ایک ہی دن میں نو جگہوں پر دھماکے کئے گئے جن سے کئی فورسز اہلکار زخمی ہوگئے ۔ اس کے علاوہ جنگجووں نے ایک سیکورٹی پکٹ پر حملہ کیا اور چار سپاہیوں سے ان کی بندوقیں چھین لینے میں کامیاب ہوگئے ۔ اننت ناگ میں ایک ریٹا ئرڈ جج کے گھارت پر حملہ کرکے سپاہی زخمی کئے گئے اور ان کے ہاتھ چھین کر جنگجو آسانی سے بھاگ نکلے ۔ حزب المجاہدین نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ۔ لیکن سیکورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ جیش محمد نے حملے کرائے ۔ا س کے بعد فورسز کی کاروائیوں میں تیزی لائی گئی۔ وزیرداخلہ نے اپنے کور گروپ کی فوری میٹنگ بلائی ۔ میٹنگ میں حالات کا جائزہ لیا گیا اور جنگجووں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے احکامات دئے گئے ۔ اس کے بعد کئی جگہوں پر چھاپے ڈالے گئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ جنگجووں نے ترال ، اونتی پورہ ، اننت ناگ کے علاوہ سوپور علاقے میں کاروائیں کیں اور نو کیمپوں پر گرینیڈ داغے گئے ۔ سلسلہ وار نو یا بارہ دھماکے کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اس سے سیکور ٹی حلقوں میں سخت افراتفری پائی جاتی ہے ۔ سلسلہ وار دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادی میں جنگجووں کا ایک منظم نیٹ ورک پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ سرینگر کے مضافات میں ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا گیا ۔ حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔
اسی طرح کولگام کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا گیا ۔ جنگجووں کی کاروائیوں میں اضافے کی وجہ سے حالات میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ اس سے حکومت بھی سخت پریشان بتائی جاتی ہے ۔
16 جون کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلعے کے بیج بہاڑہ علاقے کے قریب آرونی نامی ایک گائوں میں جنگجوئوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ایک طویل معرکہ آرائی ہوئی جس میں جنید متو نامی معروف کمانڈر ساتھی سمیت جان بحق اور ایک چودہ سالہ لڑا جان بحق ہو گیا۔ کم عمر لڑکے کی ہلاکت کے خبر پھیلتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا ، شمال و جنوب اُبل پڑا اور پلوامہ، اسلام آباد، کولگام، شوپیان، کھڈونی، ریڈونی،پانپور اور دیگر کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اُٹھا۔
اس کے بعد ادھرتھجوارہ اچھ بل اننت ناگ میں عسکریت پسندوں نےشام کے وقت پولیس گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میںایس ایچ او سمیت 6پولیس اہلکار موقعے پر ہی مارے گئے .جائے واردات پر عسکریت پسند مارے گئے پولیس اہلکاروں کی رائفلیں لے کر فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے ۔ تاہم پولیس گاڑی پر حملے کی خبر پھیلتے ہی فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکار جائے موقع پر پہنچ گئے ، آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا گیا۔ اس سے پولیس انتظامیہ اورحکومت بھی سخت پریشان بتائی جاتی ہے ۔
ادھر حکومت کے لئے ایک اور بڑی پریشانیجی ایس ٹی کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے ۔ مرکزی ٹیکس پالیسی کو ریاست پر لاگو کرنے کے خلاف این سی اور کانگریس نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ تمام کاروباری ادارے اس قانون کے نفاذ کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کا پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔ اس سے ریاست میں سیاسی سطح پر سخت ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔
جی ایس ٹی کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ سرکار نے حال ہی میں تمام ریاستوں کے وزراء خزانہ کی میٹنگ کی میزبانی کی ۔ میٹنگ میں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے شرکت کی اور اپنے خطاب میں اس قانون کی اہمیت اجاگر کی ۔ا س موقعے پر جیٹلی نے جی ایس ٹی سے اتفاق نہ کرنے کی صورت میں ریاست کو سخت مالی نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ۔ ریاستی سرکار نے اس قانون کو ریاست پر لاگو کرنے کی حامی بھرلی ۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے ۔ این سی کا کہنا ہے کہ اس قانون کے اطلاق کی صورت میں ریاست کی خصوصی آئینی پوزیشن ختم ہوجائے گی ۔ کانگریس نے بھی این سی کا ساتھ دینے کی حامی بھرلی ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کی تجارتی یونینوں نے اس قانون کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کا پروگرام بنایا ہے ۔ تجارتی یونینوںکے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے ریاست کی مالی خود مختاری کودھچکہ لگنے کا خطرہ ہے ۔ انہوں نے اس کے خلاف ایک روز کی ہڑتال کے علاوہ سیکریٹریٹ گھیرائو کا اعلان کیا ہے ۔ یاد رہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے لئے ریاستی ا سمبلی کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اس غرض سے حکومت نے پہلے ہی 17 جون کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا ۔ اسمبلی اجلاس سے پہلے وزیراعلیٰ کی صدارت میں ایک کل جماعتی اجلاس بلایا گیا ۔ جہاں مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن این سی نے ایسے کسی مشترکہ پروگرام کا حصہ بننے سے انکار کیا ۔ کل جماعتی اجلاس میں این سی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرخزانہ رحیم راتھر نے جی ایس ٹی کو ریاست کی اندرونی خود مختاری کے لئے سم قاتل قرار دیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو براہ راست نقصان پہنچ جائے گا ۔ اسی طرح پردیش کانگریس کے اہم رہنما سیف الدین سوز نے بھی جی ایس ٹی کے خلاف بیان دیا ہے اور اس کے اطلاق کو ماننے سے انکار کیا ہے ۔ ریاستی سرکار سخت مشکل میں پھنس گئی ہے ۔ اس نے ایک طرف مرکز سے وعدہ کیا ہے کہ جی ایس ٹی کو لاگو کیا جائے گا ۔ دوسری طرف اپوزیشن اور ٹریڈرس یونینوں کی مخالفت کا سامنا ہے ۔ حکومت کے لئے پیچھے ہٹنے کا کوئی موقعہ ہے نہ آگے بڑھنے کا راستہ ہے ۔ حکومت میں شامل بی جے پی کا زور ہے کہ جی ایس ٹی ہر صورت میں لاگو کیا جائے ۔ اسی طرح ریاست کے وزیرخزانہ حسیب درابو کی بھی خواہش ہے کہ اس قانون کو نافذ کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ کے لئے کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہورہاہے ۔ پی ڈی پی کے کئی لیڈروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اندرونی خود مختاری سے سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اس وجہ سے حکومت سخت مخصمے کی شکار ہے ۔ آخری فیصلہ وزیراعلیٰ کو لینا ہوگا جس کے لئے دوٹوک فیصلہ لینا سخت مشکل ہے ۔