اداریہ

سیاسی تدبر ہی امن کی ضمانت ہے

بھارت اور پا کستان کے تعلقات میں پچھلے مہینے پیدا ہونے والی غیر متوقع خرابی کے بعد دونوں ملک ایک تبا ہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔حالیہ ایام میں کئی بار ایسا لگا کہ شائد جنگ اب نا گزیر بن چکی ہے اور شائد بر صغیر بالعموم اور پورا جنوب ایشیا ئی خطے ایک انسانی المیے کی دہلیز پر آن کھڑا ہو ا ہے۔تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے انتہا ئی تدبر اور بردباری کا مظاہرہ کر تے ہو ئے بھارتی فضائیہ کے گرفتار پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو غیر مشروط طور رہا کر نے کا فیصلہ کیا حالا نکہ ان کے اس اقدام کی بدولت انہیں پا کستان کی حزب اختلا ف کی سیا سی جماعتیں ابھی تک تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔بھارت کے امن پسند حلقوںنے بھی پلوامہ حملے کے بعد ملکی عوام کے اندر پیدا ہو ئے غم و غصے کو ٹھنڈا کر نے کے لئے جارحانہ سوچ اور اپروچ اپنانے کے بجائے امن ہی کوایک موقعہ دینے کی وکالت کی اور نریندر مودی کی سر براہی والی مر کزی سرکا ر پر یہ بات باور کر نے کی کو شش کی کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے اور امن کو ایک اور مو قعہ دیا جانا چا ہئے تاکہ بر صغیر ہند و پا ک کے ساتھ ساتھ پورے جنوب ایشیا ئی خطے کو تبا ہی سے بچایا جا سکے۔ بھارت اور پاکستان میں میڈیا کے کچھ حلقے ہنو ز ایسے ہیں جو جنگ کو ہوا دینے پر تلے ہوئے ہیں اور سیا سی قیادت کو ہر دن جنگ پر ابھار رہے ہیں۔جنگ کی تباہ حالیوں سے نا آشنا یہ جنو نی لوگ اس صورتحال کا ذرا بھی ادراک نہیں رکھتے کہ دونوں ملکوں کے پا س مہلک نیوکلیائی ہتھیار ہیں اور ایک با ر جنگ شروع کیا ہو ئی تو پھر اسے روکنا مشکل ہوجائیگا اور یوں ایک انسانی المیہ رونما ہو نا ایک لازمی امر ہے ۔اپنے ٹی آر پی کی فکر میں مست و مگن یہ میڈیا ادارے اس با ت پر ذرا بھی غور و فکر اور تفکر نہیں کرتے کہ جنگ کے ذریعے کبھی بھی اور کسی بھی ملک نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کئے ہیں اور اس سے ہر سو تباہی اور بر بادی کے سوا کو ئی بھی چیز ہاتھ نہیں آتی۔
ایک ایسی صورتحال میں جبکہ ہر سو جنگ کو ہوا دی جارہی ہو دونوں ملکوں کی سول سوسائیٹی اور یہاں کے دانشور طبقے کا دونوں پڑوسی ممالک کے مابین کشیدگی اور تنا ئو کم کر نے میں ایک اہم اور کلیدی رول بنتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خونی لکیر کے دونوں اطراف سول سوسائٹی اپنی اپنی حکومت پر یہ بات باور کرائے کہ دونوں ملکوں میں اب بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں اور دسیوں ہزار ایسے ہیں جو رات کھلے آسمان تلے فٹ پا تھوں پر گزارتے ہیں ۔لہٰذا ایک دوسرے کیخلاف زہر افشانی کر نے یا ایک دوسرے کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹانے کے منصوبے بنانے سے بہتر ہے کہ دونوں ممالک کی سیا سی قیادت غربت ،بے روزگاری اور بھوک مری کے خلاف صف آرأ ہوں تاکہ لوگوں کے مصائب اور مشکلات کو کم کیا جا سکے ۔بھارت اور پا کستان ہر سال اپنے دفاعی شعبوں پر اربوں روپے کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں اور اس بیش قیمتی سرمائے سے ایسے مہلک ہتھیار خریدے جارہے ہیں جو پورے خطے کو آناً فاناً راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتے ہیں حالانکہ اسی سرمائے سے اس پو رے خطے میں غربت اور افلا س کا خاتمہ کر کے خوشحالی اور تر قی کا ایک نیا دور شروع کیا جاسکتا تھا ۔اب بھی بات ہاتھ سے نکل نہیں گئی ہے تاہم اس سب کے لئے ہمیں ٹھنڈے دما غ سے سوچ کر ان غریبوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہو گا جو اپنی غربت کی وجہ سے اپنے لئے دو وقت کی روٹی بھی جٹا نہیں سکتے ہیں ۔یہی وہ کام ہے جو بھارت اور پا کستان میں کیا بلکہ پورے جنوب ایشیا ئی خطے میں ہر طرف خوشیاں بکھیر سکتا ہے تاہم اسکے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔