اداریہ

سیاسی لیڈروں کی سرگرمیاںشروع

ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں اگلے ماہ پارلیمانی چنائو ہونے جا رہا ہے اس سلسلے میں سیاسی لیڈروں یعنی پارلیمانی نشستوں پر چنائو لڑنے والے امیدواروں نے اپنے اپنے علاقوں میں سرگرمیاں شروع کی ہیں، کئی ایک امیدوار نے اپنے اپنے علاقوں کا دورہ کرنا شروع کیا اور لوگوں کو سبز باغ دکھانے شروع کئے ہیں اور لوگوں خاص کر محلہ کمیٹیوں کے ساتھ روابط کرنے لگے، کئی ایک جگہوں پر ان لیڈروں نے عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے ان علاقوں میں محلہ کمیٹیوں یا اوقاف کمیٹیوں سے مطلوب کاموں کی فہرست بھی طلب کی ہے۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ ان علاقوں کے لوگ ان سیاستدانوں کی پھر سے کاموں کی فہرست دے کر بے وقوف بن رہیں اور یہ لیڈران الیکشن جیتنے کے لئے فی الحال تمام قسم کے حربے آزماتے رہیںگے،حالانکہ یہ بات درست ہے کہ سبھی چنائو لڑنے والے امیدوار کامیاب نہیں ہوں گے اُن میں سے چند ایک لیڈر ہی کامیاب ہوں گےباقی ہار کا منہ دیکھیں گے۔ حالانکہ ہارنے والے امیداروں کی الگ بات ہے وہ تو عوام کے پاس پھر پانچ برسوں تک جانے کے قابل ہی نہیں رہیں گے تاہم جیتنے والے امیدار بھی عوام کو سبز باغ جیت درج ہونے کے بعد ہی دیکھانا بند کر دینے گئے۔ کئی ایک لیڈران عوامی نمائندہ منتخب ہونے کے بعد عام لوگوں کے لئے اپنے دروازے بند کر دیں گے اور کئی ایک جیت درج کرنے کے بعد عوام سے کئے گئے وعدوں کو یکدم بول جائیں گے ، کئی سرکردہ لیڈر جیت درج کرنے کے بعد یہ کہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کریں گے کہ ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ لوگوں کے مسائل حل کریں گے۔ ہمارے ان لیڈر ان کو اگر کچھ چاہئے تو وہ اقتدار ،مراعات اور پروٹوکول باقی اُنہیں عوام کی کوئی نمائندگی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ مطلب انہیں بھی اپنی اپنی نوکری کی فکر ہوتی ہے، حالانکہ آج تک یہی دیکھنے میں ملا کہ یہاں کے لیڈر اقتدار کے بغیر الگ زبان بولتے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ ہمارے یہ لیڈران جب اقتدار سے بے دخل ہوتے ہیں تو وہ مرکزی سرکار کو سمجھاتے ہیں کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور کیا کچھ ہونے جا رہا ہے، ہمارے لیڈروں کو بادشاہیت کے بغیر طرح طرح کے مشکلات سامنے آنے لگتے ہیں ۔ یہاں کے سبھی ذی حس لوگ جانتے ہیں کہ اقتدار کے بغیر یہاں کے لیڈران کبھی بھی چین و سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں۔ اقتدار ہو تو سب کچھ ٹھیک رہتاہے اور اقتدار نہ رہنے کی صورت میں ہمارے لیڈران کو نہ چین ملتا اور نہ سکون میسر ہوتا ہے۔ چین و سکون نہ رہنے کی صورت میں یہ لیڈرا ن قیادت پر عدم اعتماد بھی ظاہر کرنے میں کوئی پس و پیش تک نہیںکرتے ۔بہر اب جبکہ اگلے ماہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور حریت قائدین کی طرف سے ووٹنگ کی مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ریت رہی ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا عوام ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور اگر ہوں گے تو کتنے فیصدی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہ بات بھی غور طلب ہےکہ اگر ریاست میں ووٹنگ کی شرح ایک یا دو فیصد بھی رہے گی تب بھی امیدوار کامیاب قرار دئے جائیں گے۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ ووٹنگ میں کتنے فیصدی ووٹر حصہ لے رہے اور کون کس نشست پر کامیاب ہوتا ہے۔ فی الحال یہ دیکھا جا رہا ہے کہ امیداروں کی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں۔