اداریہ

سیز فائر اور مذاکرات

وادی میں ان دنوں یکطرفہ سیز فائر چل رہا ہے۔ اس سیز فائر کا اعلان مرکزی سرکار کی طرف سے رمضان المبارک کے پیش نظر کیا گیا۔حالانکہ اس کی تجویز کل جماعتی میٹنگ میں دی گئی اور اس کے بعد ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار سے ریاست میں سیز فائر کرنے کی استدعا کی ہے، تاہم محبوبہ مفتی کی مرکزی سرکار سے اپیل کے فوراً بعد حکومت میں شامل بی جے پی کے لیڈروں نے کھلے عام سیز فائر کی مخالفت کی ہے۔ اس طرح سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو اپنی سرکار میں شامل ساجھے دار پارٹی بی جے پی کے لیڈروں نے بے وقعت کر دیا۔ تاہم وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی لگاتار اصرار کے بعد مرکز میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی طرف سے سیز فائر کا اعلان کیاگیا اور ریاست کی وزیراعلیٰ نے اس سیز فائر کے اعلان سے راحت کا سانس لیا۔ اس کے بعد مرکزی سرکار کی طرف سے ایک اور اہم پیش رفت ہوئی جس میں مرکزی سرکار نے حریت کو مذاکرات کی پیشکش کی تاہم حریت نے بھی مذاکرات کی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مناسب جواب دیا کہ مذاکرات کا ایجنڈا کیا رہے گا، جس کا تاحال مرکزی سرکار نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مذاکرات کی پیشکش کو کافی سراہا اور یوں کہا کہ ایسے موقعے بار بار نہیں آتے۔ ایک طرف ابھی مذاکرات کا ڈھنڈورہ پیٹا جارہا ہے تو دوسری طرف مرکزی سرکار میں وزیر دفاع نرملا سیتا رامن نےاس بات کا اظہار کیا ہےکہ جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی تب تک مذاکرات نا ممکن ہے، اس طرح سے مرکزی وزرا کو بھی آپسی بیانوں میں تضاد دکھ رہا ہے، ادھر ایک اور پیش رفت یہ ہوئی کہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے وادی کا دو روزہ درہ کیا یہاں کئی حلقوں میں اس بات کے لئے خدشہ تھا کہ وزیرداخلہ را ج ناتھ سنگھ سیز فائر میں توسیع کرنے والے تھے تاہم وزیر داخلہ نے بر سر موقع ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ فیصلےکو دہلی میں حتمی شکل دئے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بات چیت کی پیشکش اگر ہوئی تو اس بات چیت کے لئے کوئی نہ کوئی ایجنڈا تو ہونا چاہئیے جس پر سبھی سٹیک ہولڈروں کا اتفاق بھی ہو ، مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ پاکستان، حریت اور سبھی مین سٹریم جماعتوں کو خلوص نیت کا مظاہرہ کرکے بامعنی بات چیت کے عمل کو شروع کرنا چاہئے۔ مرکزی سرکار کو اس بات کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے کہ آج تک بہت سارے مذاکرات کار ریاست کے لئے تعینات کئے گئے ان کے رپورٹوں اور ان کی سفارشات کب اور کہاں عملایا گیا اس بارے میں مرکز نے آج تک کونسے اقدامات کئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیز فائر اور مذاکرات خلوص نیت سے کیا جائے تب ہی مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔