خبریں

سیکورٹی ایجنسیوں کی چھان بین

سیکورٹی ایجنسیوں کی چھان بین

معروف سیاسی و مذہبی پارٹی جماعت اسلامی پر مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ مہینے پابندی عائد کرنے اور بعد میں وابستگان جماعت کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں امن عامہ کو بحال کرنے میں کسی بھی دقیقہ فروگزاشت کرنے کی متحمل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جہاں سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے تحریک نواز ملازمین کی لسٹ تیار کرتے ہوئے ان پر بھی شکنجہ کسنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہے تاہم ادھرریاست میں کام کررہے اساتذہ بھی سیکورٹی راڈار پر رکھے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے 1990کے کیس کو دوبارہ کھولتے ہوئے نئے سرے اُن افراد کی فہرست مرتب کی ہے جن کا بلاواسطہ جنگجوئیت کے ساتھ کوئی واسطہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے وادی میں کام کررہے 650اساتذہ کو سیکورٹی راڈار پر دوبارہ لاتے ہوئے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جن اساتذہ کا 90کی دہائی میں کسی بھی طور پر جنگجوئیت کے ساتھ تعلق رہا ہے سیکورٹی ایجنسیوں نے اُن کے خلاف دوبارہ مقدمات کھولنے کا فیصلہ لیتے ہوئے ایسے 650سے زائد اساتذہ کو فہرست میں لاتے ہوئے اُن پر کڑی نگاہ کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ بتا یاجاتا ہے کہ ایسے اساتذہ کا ماضی قریب میں کوئی گھریلو فرد یا بذات خود ایسے افراد کا افراتفری یا گڑ بڑ پھیلانے میں ہاتھ رہا ہے جس کے بعد ہی پولیس نے ایسے افراد کے خلاف دوبارہ شکنجہ کس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست میں 11اپریل سے لوک سبھا انتخابات منعقد ہونے جارہے جبکہ مختلف سطحوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اسمبلی انتخابات کو بھی ساتھ ساتھ منعقد کرانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے تاہم ریاست جموں وکشمیر کے کونے کونے میں انتخابات کو پرامن اور افرا تفری سے پاک ماحول میں منعقد کرانے کے لیے امن دشمن عناصر پر لگام کسنا ناگزیر بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے پیش نظر ہی گزشتہ مہینے مذہبی و سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی جبکہ اس کے بعد وابستگان جماعت کا وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن بھی شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیاں انتخابات کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی جس کے پیش نظر اُن تمام افراد پرلگام کسی جائیگی جو امن عامہ کے لیے خطرہ پید اکرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ آنے والے دنوں میں سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے تحریک نواز عناصر پربھی شکنجہ کسے گی جس دوران ایسے ملازمین کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاستی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر 90میں متحرک جنگجوؤں کے اُن رشتہ داروں جو فی الوقت سرکاری استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، کو سیکورٹی راڈار پر لاتے ہوئے اُن پر کڑی نگاہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اُن تمام اساتذہ جو بذات خود کسی تخریبی کام سرگرمی میں ملوث تو نہیں ہے تاہم اُن کے خاوند (خاتون ہونے کی صورت میں) کو کسی کیس میں ملوث پاکر گرفتارکرلیا گیا ہو۔ رپورٹ میں اساتذہ کے چچا یا دیگر رشتہ داروں کا جنگجوئیت کی جانب رجحان کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ اگر کسی استاد کا کوئی رشتہ دار پاکستان سے اسلحہ کی تربیت کرکے واپس آیا ہو تو ایسے استاد کو بھی فہرست میں درج کیا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق 654اساتذہ کی نئے سرے سے تمام معلومات سیکورٹی ایجنسیوں نے حاصل کرلی ہے جس کے بعد ایسے اساتذ کے خلاف پولیس ریکارڈ میں منفی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔اس سلسلے میں جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے ایک استاد کا کہنا ہے کہ ’میں نے سال 2004میں محکمہ تعلیم کو جوائن کیا ہے جس کے بعد 2009میں مجھے مستقل نوکری فراہم کی گئی۔ 2004میں بھی میری ویری فکیشن عمل میں لائی گئی تاہم اس وقت میرے خلاف کوئی منفی بات پولیس نے ریکارڈ نہیں کی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’سال 1990میں میرا بھائی لاپتہ ہوا اور میری عمر اُس وقت صرف 8برس کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میرے بھائی نے سال 1992میں لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے پاکستان چلاگیا اور یہی وجہ ہے کہ مجھے پولیس ویری فکیشن میں منفی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے‘۔
ادھر جنوبی کشمیر کے ہی دوسرے استادجو پچھلے 15برسوں سے محکمہ تعلیم میں کام کررہے ہیں، کا بڑا بھائی فورسز کے ساتھ ایک معرکے میں سال 1996میں مارا گیا اور اب بھائی کے بدلے استاد کو بھی منفی ویری فکیشن فہرست میں دکھایا گیا ہے۔کیا قانون اس معاملے میں رہنمائی نہیں کرتا؟ پولیس رپورٹ میں میری ذات سے متعلق کوئی بھی منفی ریکارڈ موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی میرے خلاف منفی رپورٹ کا اندراج عمل میں لایا گیا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں ہی صرف 26ایسے اساتذہ ہیں جنہیں پولیس ریکارڈ میں منفی ویری فکیشن دکھائی گئی ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی طرف سے کئی اساتذہ کے خلاف جو مقدمات درج ہیں وہ ابھی بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے چند اساتذہ پر جنگجوئیت کیساتھ قریبی رابط ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
دریں اثنا انتظامیہ کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ انہیں سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ فہرست میں موجود خامیوں کا علم ہے۔ ان کے مطابق فہرست کی ابھی اور جانچ پڑتال ہوگی۔ یہ پہلا قدم ہے اور اس کی اچھی طرح سے کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔آفسر نے بتایا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ دوبارہ چھان بین کے بعد اس فہرست کا ایک تہائی حصہ بھی باقی رہے گا۔ بتا یاجاتا ہے کہ گزشتہ مہینے سے ریاست میں علیحدگی پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کے بعد انتظامیہ اُن تمام سرکاری سینئر و جونیئر افسران پر کڑی نگاہ شروع کی ہے جن کے قریبی رشتہ دار جنگجوئیت یا علیحدگی پسند سوچ کے حامی ہے یا کسی بھی طور پر پتھراؤ یا افرا تفری کے واقعات میں ملوث ہیں۔ بتایا یہ بھی گیا ہے کہ اس سلسلے میں تازہ چھان بین جاری ہے اور ریاست کی سالمیت کے خلاف کی جارہی کسی بھی چھوٹی یا بڑی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔