نقطہ نظر

سیکولر ازم کے لیے خطرات

کلدیپ نائر
مجھے یاد آتا ہے کہ آزادی کے بعد سیاستدان اور سفارتکار سید شہاب الدین نے مسلمانوں کے نکتہ نظر کی وضاحت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ علیحدگی کا مطالبہ نہ کرو بلکہ تجویز پیش کی کہ ملک کے اندر ہی مسلمانوں کے لیے ’’سیلف رول‘‘ کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ لیکن کسی نے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہ لیا حتیٰ کہ مسلمانوں نے بھی کیونکہ تقسیم نے دونوں برادریوں کو اذیت میں مبتلا کیا تھا۔ اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد اللہ اویسی نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلح افواج میں مسلمانوں کے لیے نشستیں مخصوص کی جانی چاہئیں۔
اویسی کی بات درست ہے کیونکہ بھارتی فوج میں مسلمانوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے۔ لیکن یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ ملک کی تقسیم مذہبی بنیادوں پر ہوئی تھی لہٰذا مشترکہ افواج میں جو مسلمان تھے وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ سوچ متناقص ہے۔ مجھے یاد ہے جب آئین ساز اسمبلی میں نشستیں محفوظ کرنےreservations) کے موضوع پر بات ہو رہی تھی تو اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے تجویز پیش کی کہ مسلمانوں کے لیے 10 فیصد کوٹہ مختص کر دیا جائے۔ لیکن آئین ساز اسمبلی میں جتنے مسلم لیڈر موجود تھے وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن (محفوظ نشستیں) نہیں چاہتے کیونکہ اس بات نے تو پاکستان کی تخلیق کی بنیاد رکھی تھی۔
اویسی کا قلق یہ ہے کہ اگرچہ وزیراعظم مودی کے 15 نکاتی پروگرام میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا حصہ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے، لیکن عملی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ اویسی نے ایک جلسہ عام میں اسی طرف اشارہ کیا اور بجا طور پر سوال کیا کہ نیم فوجی دستوں (پیرا ملٹری) میں مذہبی بنیادوں پر بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ تاہم اویسی نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگ یا تو مکمل طور پر بے خبر ہیں یا متکبر ہیں اور وہ پڑھتے بھی نہیں ہیں یعنی مطالعہ بھی نہیں کرتے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کیا یہ معاملہ وزیراعظم کے 15نکاتی پروگرام سے متعلق نہیں ہے؟
15نکاتی پروگرام کے نکتہ نمبر 10 میں واضح طور پر ریاستی اور مرکزی حکومت کی بھرتیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں مسلمان برادریوں کی بھی بھرتی کی جائے اور اس مقصد کی خاطر ریکروٹنگ کمیٹیوں میں بھی اقلیتی برادریوں کی نمایندگی موجود ہونی چاہیے جن میں دلت‘ قبائلی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے نمایندے شامل ہوں۔ اویسی نے مزید کہا کہ یہ مطالبہ پرسانل ڈیپارٹمنٹ کے میمورنڈم کے مطابق ہے۔ اویسی نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے غلط طور پر دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتی برادریوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
اویسی نے کہا کہ میں نے حکومت کے اس غلط دعوے کی نشاندہی کی ہے‘ انھوں نے بتایا کہ مسلمانوں کی شرح سرکاری ملازمتوں میں صرف 3.7 فیصد ہے البتہ ریپڈ ایکشن فورس میں ان کی شرح 6.9 فیصد ہے۔ انھوں نے نریندر مودی کی حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ مرکزی حکومت تمام محکموں کے ملازمین کے اعداد و شمار جاری کرے تا کہ سب لوگ ملازمین کی اصل تعداد سے آگاہ ہوسکیں۔ حیدر آباد کے اراکین پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو بینکوں‘ ریلوے اور دیگر محکموں کے ملازمین کے اعداد و شمار بھی جاری کرنے چاہئیں تا کہ پتہ چلے اقلیتی برادریوں کے کتنے لوگ ان میں شامل ہیں۔ اویسی نے مزید کہا کہ مودی حکومت اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی لہٰذا مجھے حکومت سے پوچھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
کانگریس واحد سیاسی پارٹی ہے جو مسلمانوں کے نکتہ نظر کی حمایت کر رہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے حال ہی میں جلسہ عام میں الزام عاید کیا کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے کیونکہ کانگریس کے راہول گاندھی نے اعظم گڑھ میں ایک جلسہ عام سے خطاب میں تین طلاق کے مسئلہ پر مسلمانوں کی حمایت کی۔ مودی نے یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گزشتہ دو دن سے سن رہا ہوں کہ ایک نامدار لیڈر (یہ ان کا راہول گاندھی کی طرف طنزیہ اشارہ تھا) نے حال ہی میں کہا ہے کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کی جماعت ہے تو مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ملک کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق مسلمانوں کا ہے۔
وزیراعظم من موہن سنگھ نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے اجلاس میں 2006ء میں کہا تھا کہ ہمیں اقلیتوں کو ملکی ترقی میں منصفانہ حصہ دینا چاہیے، بالخصوص مسلمانوں کو، ان کا وسائل پر سب سے پہلا حق ہونا چاہیے۔ مودی نے اپنی تقریر میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کیا کانگریسی صرف مسلمان مردوں کی فلاح کے حامی ہیں اور مسلمان عورتوں کا انھیں کوئی خیال نہیں۔ میں کانگریس کے نامدار سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کانگریس صرف مسلمان مردوں کی جماعت ہے کیونکہ تین طلاق کے مسئلہ کا اور نکاح کے حلالہ کا تعلق مسلمان خواتین سے ہے، مگر ان کے حقوق پر کانگریس نے کوئی بات نہیں کی۔
معاملہ خواہ کچھ بھی ہو مسلمان خود کا حکومت کے4 معاملات میں کوئی حصہ نہیں دیکھتے۔ اویسی کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ اگر مسلمانوں کو بھارتی حکومت کے معاملات میں شریک کیا جائے تو یہ ساری دنیا کے لیے ایک روشن مثال سمجھی جائے گی اور دنیا اس کی تقلید کرے گی۔
میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر مسلمان سب کے ساتھ مل کر رہنے کی بات کرنے لگے ہیں اور ان کو یہ احساس جاگزین ہو گیا ہے کہ وہ دو قومیتوں کے باوجود باہم مل جل کر رہنا چاہتے ہیں۔ اب قومیت کو اولیت حاصل ہے، مذہب اس کے بعد آتا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب مجھے علی گڑھ یونیورسٹی میں خطاب کرنے کا موقع ملا اور مجھے حیرت ہوئی جب طلبہ امت کا لفظ استعمال کر رہے تھے۔ اس وقت کے وائس چانسلر نے دعویٰ کیا کہ طلبہ کے نزدیک پرجوش انڈین اور پرجوش مسلم ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ ہم سب پہلے انڈین ہیں ہندو مسلمان سکھ عیسائی بعد میں ہیں۔ حتیٰ کہ آئین کے دیباچے میں سیکولر لفظ لکھا گیا ہے۔
یہ لفظ مسز اندرا گاندھی نے شامل کرایا تھا جو اس وقت وزیراعظم تھیں اور یہ لفظ انھوں نے ایمرجنسی کے دوران شامل کرایا۔ جنتا پارٹی نے ان تمام الفاظ کو نکال دیا جو اندرا گاندھی نے آئین میں شامل کرائے تھے مگر سیکولر کا لفظ بدستور رہنے دیا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض سیاسی پارٹیوں نے سیکولر لفظ کو مختلف معنی پہنائے ہیں مگر اس لفظ کے حقیقی معنی ہی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اویسی ممکن ہے یہ سب کچھ آیندہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہوں مگر نفرت کے بیج نہیں بوئے جانے چاہئیں بلکہ ان کو شروع ہی میں اکھاڑ دیا جائے تو اچھا ہے۔
آر ایس ایس بھارت میں ہندو توا پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ آیندہ انتخابات سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ جو زہریلے بیج بونا چاہتی ہے انھیں جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے تاکہ وہ جڑ نہ پکڑ سکیں۔ لیکن جن لیڈروں کو سیکولر ازم کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے وہ خاموش ہیں۔ البتہ اس خاموشی میں اویسی کی آواز گونج رہی ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)