سرورق مضمون

شام لرز اٹھا ، شہری آبادی پر بمباری

ڈیسک رپورٹ
شام میں ایک بار پھر شہری آبادی کو تختہ مشق بنایا گیا ۔ بمباری کرکے اب تک 600لوگوں کو مارا گیا جن میں نصف سے زیادہ معصوم بچے شامل ہیں ۔ ان ہلاکتوں کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں ۔ عالمی اداروں کی معنی خیز خاموشی پر سب لوگ حیران ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس بمباری کے خلاف سخت احتجاج کیا جارہاہے ۔ یہاں 2011 میں پہلی بار لوگوں نے حکمران بشار الاسد کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ خبروں کے مطابق باغیوں نے بڑے پیمانے پر پیش رفت کرکے دمشق کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی ۔ اس پیش رفت کو روکنے کے لئے فوج نے اندھادھند فائرنگ کی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے ۔ اس وقت سے لے کر فوج اور باغیوں کے درمیان برابر جنگ چل رہی ہے ۔ حکومت دمشق تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور آس پاس کے علاقوں میں مختلف مسلح گروہ پھیلے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بہت سے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے ۔ اس کنٹرول کو ختم کرنے کے لئے پچھلے ہفتے سے شہری آبادی پر بڑے پیمانے پر گولہ باری کی گئی ۔ مکانات تہس نہس ہوگئے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے ۔ اس بمباری کے دوران کہا جاتا ہے کہ زہریلی گیس بھی چھوڑی گئی ۔ اس وجہ سے معصوم بچے بڑی تعداد میں ہلاک ہوگئے ۔ دنیا بھر میں سرکار کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف جلسے جلوس نکالے ۔ حقوق انسانی کے اداروں نے اسے جارحیت قرار دے کر اس کی مزمت کی ۔ اقوام متحدہ نے ایک قرار داد منظور کرکے ایک مہینے کے لئے جنگ بند کرنے کی سرکار سے اپیل کی ۔ الزام لگایا جارہاہے کہ شامی حکومت کو ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ شیعہ باغی گروہ حزب اللہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ شام کی حکومت کی پشت پناہی کررہاہے ۔ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا ہے ۔ اس کے باوجود ایران کو اس جنگ میں ملوث بتایا جارہاہے ۔ عینی شاہدین کے مطابق حملوں میں مارے گئے لوگوں کی تعداد اس سے بڑھ سکتی ہے ۔ جبکہ کئی ہزار لوگوں کے شہر سے ہجرت کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ کئی علاقوں میں اب بھی باغی عسکریت پسند کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں ۔
دنیا کے ذرایع ابلاغ کے مختلف اداروں نے پچھلے کئی روز سے شامی اقدامات کو اپنا موضوع بنایا ہوا ہے ۔ اطلاعات میں کہا جارہاہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو مضبوط بنانے میں ایران اور روس کی مدد حاصل ہے ۔ دونوں ملک کھل کر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں ۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ شام کے شہر غوطہ میں جو بمباری حالیہ دنوں میں کی گئی اس میں روس اور ایران کا اسلحہ استعمال کیا گیا ۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ پہلے باغیوں نے کیا اور کئی مارٹر گولے پھینک دئے جس کے جواب میں کاروائی کی گئی ۔ اطلاعات کے مطابق غوطہ میں چار لاکھ کے قریب لوگ محاصرے میں ہیں ۔ فوج کا کہنا ہے کہ انہیں باغیوں نے اپنے تحفظ کے لئے وہاں روکے رکھا ہے جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ وہاں سے ہجرت کرچکاہے ۔لوگوں کو کھانے پینے کی اشیا کی سخت ضرورت ہے جو انہیں ملتی نہیں ہیں ۔ اشیائے خوردنی کی بہت کمی پائی جاتی ہے ۔ خاص طور سے معصوم بچوں کے لئے دودھ اور ادویات کی سخت قلت پائی جاتی ہے ۔ فوج کسی بھی غیرسرکاری امدادی گروپ کو وہاں جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ منگلوار کوبچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے اعلان کیا کہ اس کے رضاکاروں کو شام کی حکومت نے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ۔ انہیں مختلف ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں بچوں کے لئے بنیادی ضروریات کی سخت کمی پائی جاتی ہے ۔ ادارے کے رکن کا کہنا تھا کہ اس کے پاس غوطہ شہر میں درپیش مشکلات واضح کرنے کے لئے الفاظ موجود نہیں ہیں ۔ امدادی گروپوں نے وارننگ دی ہے کہ حالات ایسے ہی رہے تو یہ جنگوں کی تاریخ کا بدترین باب ہوگا۔ پچھلے ہفتے کے دوران نہ صرف شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ کئی ہسپتالوں پر بھی بمباری کی گئی ۔ ایک ہسپتال کو پوری طرح سے علاج معالجے کے لئے غیر محفوظ قراردیا گیا ہے اور وہاں تمام طبی سہولیات معطل کی گئی ہیں ۔ ایک اور ہسپتال میں پہلے ہی سرجری کے شعبے کو بند کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے صورتحال کو سخت خطرناک قراردیا جارہاہے ۔محاصرے میں لئے گئے علاقوں میں جنگ جیسی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔دنیا کے مختلف حصوں میں اس ظلم و جبر کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ۔ عام لوگوں نے اس کے خلاف اپنے اپنے علاقوں میں جلسے جلوس کئے ۔ ترکی نے سرکاری سطح پر شام کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔ ہندوستان کے کئی علاقوں میں شام میں مارے گئے لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔ حیدر آباد میں کئی جلوس نکالے گئے ۔ ان جلسوں میں مشہور پارلیمنٹ ممبر اسد الدین اویسی نے تقریر کی ۔ اویسی ے بھی قتل کئے گئے مسلمانوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد واتفاق قایم کرنے اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ۔ دہلی میں بھی لوگوں نے جلسے جلوس کیا ۔ سب سے بڑا احتجاج دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں کیا گیا ۔ یونیورسٹی کے طلبا نے مارے گئے معصوم بچوں کی تصویریں ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں ۔ یہاں کئی طلبا لیڈروں نے تقریریں کیں۔ دیوبند کے مشہور عالم مولانا مدنی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ جمعہ کو شام کے مسلمانوں کے خلاف کی گئی بمباری پر احتجاج کریں ۔ انہوں نے اس روز دعائیہ مجالس منعقد کرنے کی اپیل کی ۔ ادھرکشمیر میں بھی اس بربریت کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔کشمیر کے کئی علاقوں میںجلسے جلوس منعقد کئے گئے ۔
حریت کانفرنس نے شامی صدر کے اقدام کو وہاں کے مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا۔ مین اسٹریم جماعتوں نے بھی اس کے خلاف مذمتی بیان جاری کئے ۔ سب سے تیز بیان ترکی کے صدر نے دیا ۔ا نہوں نے دھمکی دی ہے کہ شام میں قتل عام بند نہ کیا گیا تو فوجی کاروائی کی جائے گی ۔ ایسا کیا گیا تو ترکی اور روس پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونگے۔ اس وجہ سے خطے میں حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ شام کی فوج اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ غوطہ میں جاری محاصرے کو ختم نہیں کیا جائے گا اور مصلح لوگوں کے خلاف کاروائی جاری رہے گی ۔ اس طرح سے تنائو ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے ۔