خبریں

شوپیان کے دس گائوں کا محاصرہ

شوپیان کے دس گائوں کا محاصرہ

جنوبی کشمیر میں عسکری سرگرمیوں میں اضافے کے چلتے شوپیان کے قریب ایک درجن دیہات میں نوے کی دہائی کی طرز پر وسیع جنگجو مخالف آپریشن انجام دیاگیا جس دوران خاص طور پر میوہ باغات میں قائم تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔کارروائی میں پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد پر امن طور پر اختتام کو پہنچ گئی۔ کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران جنگجوئوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی جنگجو مخالف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔مختلف علاقوں میں آئے روز فورسز اور جنگجوئوں کے مابین جھڑپیں ہورہی ہیں اورتازہ واقعات کے تناظر میں پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں سیکورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے بطور شوپیان میں ایک مرتبہ پھر ایک وسیع علاقے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیاجہاں پولیس اور فورسز کو جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کے دوران پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ، فوج کی3و62راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی 14بٹالین سے وابستہ سینکڑوں اہلکاروں نے بیک وقت ضلع کے قریب ایک درجن دیہات کو محاصرے میں لیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ نوے کی دہائی کے طرز پر اس کریک ڈائون کے دوران جن دیہات کو گھیرے میں لیکر گھر گھر تلاشی شروع کی گئی،ان میںچکورہ، مانتری بگ،ز ئی پورہ،پرتاب پورہ، ٹکی پورہ، رانی پورہ، رتنی پورہ، دانگام ، وانگام اور دیگر ملحقہ دیہات شامل ہیں۔سیکورٹی فورسز نے اس علاقے میں شوپیان سے کولگام اور کارڈر کے راستے اننت ناگ جانے والی سڑکوں کے دونوں طرف کی آبادی کو سخت گھیرے میں لیکرناکہ بندی کی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے ان علاقوں کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردئے جس دوران نہ کسی کو وہاں کی طرف جانے اور نہ ہی کسی کو باہر آنے کی اجازت دی گئی۔کے ایم ا ین نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے میں قائم وسیع میوہ باغات کو بھی سخت محاصرے میں رکھا۔اسی اثناء میں رہائشی مکانوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا ، تاہم اس دوران خاص طور پر میوہ باغات میں موجود شیڈوں اور دیگر تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔ فورسز نے میوہ باغات کو کھنگالنے کی کارروائی انجام دی ،تاہم ان کا جنگجوئوں کے ساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ علاقے کے میوہ باغات میں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا گیاتھا ۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق کریک ڈائون کے تحت محاصرے میں لئے گئے علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول رہا اور مجموعی طور پولیس اور فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں نے تلاشی کارروائی میں حصہ لیا لیکن فورسز کو کہیں پر بھی جنگجوئوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔کئی گھنٹوں کے بعد ان علاقوں سے فورسز کی واپسی کا عمل شروع ہوااور کریک ڈائون پر امن طور اختتام کو پہنچ گیا۔