خبریں

شوپیاں مبینہ فرضی تصادم کی فوجی تحقیقات مکمل ، ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

شوپیاں مبینہ فرضی تصادم کی فوجی تحقیقات مکمل   ، ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت

فوج نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں 18 جولائی کو ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم میں مارے گئے تین نوجوانوں کی شناخت ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے طور پر ظاہر کر دی ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ تصادم کے دوران بادی النظر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ 1990 کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز فوجی سربراہ کی ہدایات کی خلاف ہوئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی کہا ہے کہ ان تینوں نوجوانوں کے جنگجویانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں۔ ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں ہونے والے مبینہ ‘فرضی تصادم سے متعلق فوج نے یہ تفصیلات جمعے کو یہاں جاری ایک بیان میں دی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’امشی پورہ میں ہونے والے آپریشن کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقات سے بادی النظر میں کچھ ثبوت سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران فوج کو افسپا 1990 کے تحت حاصل اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال ہوا ہے نیز چیف آف آرمی سٹاف کے “کرو یا نہ کرو ہدایات، جن کو عزت مآب سپریم کورٹ نے منظور دی ہے، کی خلاف ورزی ہوئی ہے’۔ اس میں کہا گیا ہے کہ’اس کو دیکھتے ہوئے مجاز انضباطی اتھارٹی نے بادی النظر میں جوابدہ پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دے دی ہے’۔بیان کے مطابق’تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ثبوتوں سے بادی النظر میں پتہ چلا ہے کہ امشی پورہ آپریشن کے دوران مارے گئے تین عدم شناخت دہشت گردوں کا تعلق راجوری سے ہیں اور ان کے نام امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرار ہیں۔ ان کی ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے۔ ان تینوں کے دہشت گردانہ یا متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے متعلق پولیس تحقیقات کر رہی ہیں’۔ اس میں مزید کہا گیا ہے’بھارتی فوج آپریشنز کے اخلاقی طرز عمل پر کاربند ہے۔ کیس سے متعلق دیگر تفصیلات وقتاً فوقتاً فراہم کی جائیں گی’۔قابل ذکر ہے کہ شوپیاں میں رواں برس جولائی میں لاپتہ ہونے والے تین مزدوروں، جن کا تعلق ضلع راجوری سے تھا، کے اہل خانہ نے تصویروں کی بنیادوں پر الزام عائد کیا تھا کہ 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ میں ایک تصادم کے دوران مارے جانے والے تین عدم شناخت جنگجو در اصل ان کے رشتہ دار ہیں۔اہل خانہ نے ان تین نوجوانوں کی شناخت ابرار احمد خان ولد بگا خان، امتیاز حسین ولد شبیر حسین ساکنان در ساکری تحصیل کوٹرانکہ اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی کے بطور کی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ضلع راجوری کے تین لاپتہ نوجوانوں کے غمزدہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’جہاں تک ان غمزدہ کنبوں کا سوال ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ فوج اپنی طرف سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پولیس نے بھی الگ سے ایک جانچ کمیٹی قائم کی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان غمزہ کنبوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے گا’۔کشمیر پولیس زون کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے 13 اگست کو کہا تھا ‘اس کیس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے ان کی پہچان کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا کیونکہ شوپیاں میں مارے گئے تینوں جنگجوؤں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہمارے پاس ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ تینوں جو یہاں کام کرنے آئے تھے ان کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ ان کا جنگجوؤں کے ساتھ کوئی رابطہ مت تھا، ان کی فون کالز کو چیک کیا جائے گا اور دیگر تمام تکنیکی طریقوں سے بھی دیکھا جائے گا۔