مضامین

شوپیاں میں تین پولیس اہلکار اغواء کے بعد قتل

گذشتہ دنوں یعنی 10 محرم الحرام 21 ستمبر کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے بٹہ گنڈاورکاپرن گاؤں میں دوران شب مبینہ طورپرجنگجوؤں کے ہاتھوں گھروں سے اغواء کئے گئے 2ایس پی اوؤزاورایک پولیس کانسٹیبل کی گولیوں سے چھلنی نعشیں جمعہ کی صبح لامنی ونگام سے برآمدہونے کے بعدپورے جنوبی کشمیرمیں خوف وہراس اورتشویش کی لہردوڑ گئی۔اور حالیہ دھمکی اورتین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بیک وقت تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کاواقعہ پیش آنے کے بعدغیرمصدقہ اطلاعات کے جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نصف درجن سے زیادہ ایس پی اوؤزنے محکمہ پولیس کی نوکریوں کوخیربادکہنے کااعلان کردیا۔اُدھرپولیس ترجمان نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ محکمہ پولیس کے تین جوانوں نثاراحمد،فردوس احمدکوچھے اورکلونت سنگھ کوجاں بحق کیاگیا۔پولیس حکام نے تین اہلکاروں کی ہلاکت کوغیرانسانی حرکت قراردیتے ہوئے کہاکہ ہلاکتوں میں ملوث عناصرکیخلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔آئی جی پی کشمیرایس پی پانی نے تین اہلکاروں کی ہلاکت کوبزدلانہ حرکت قراردیتے ہوئے کہاکہ اغواکاری اورہلاکت میں ملوث عناصرکوانصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیاجائیگا۔
یاد رہے جمعرات اورجمعتہ المبارک کی درمیانی رات جنگجوؤں نے ضلع شوپیان کے بٹہ گنڈاورکاپرن گاؤں سے 4افرادکوگھروں سے اغواکرلیا،جن میں 2ایس پی اوؤز،ایک پولیس کانسٹیبل اورایک پولیس اہلکارکابھائی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں سمیت چارافرادکواغواء کئے جانے کے بعدانکی بڑے پیمانے پرتلاش شروع کردی گئی لیکن اغوا کاروں کاکوئی سراغ نہیں مل پایا۔پولیس ذرائع کے مطابق ایس پی اؤفردوس احمدکوچھے،ایس پی اؤکلدیپ سنگھ اورایک پولیس اہلکارکے بھائی تجمل لون کوبٹہ گنڈشوپیان جبکہ پولیس کانسٹیبل نثاراحمدکوکاپرن شوپیان میں واقع گھروں سے بندوق کی نوک پرغیرمسلح حالت میں اغواکیاگیا۔
بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کوعلی الصبح اغوا کئے گئے تین کی گولیوں سے چھلنی نعشیں کاپرن شوپیان کے مضافاتی گاؤں لامنی ونگام میں پائی گئیں ۔ جن مغوئین کی نعشیں یہاں خون میں لت پت پڑی تھیں ،اُن میں ایس پی اؤفردوس احمدکوچھے ،ایس پی اؤکلدیپ سنگھ اور پولیس کانسٹیبل نثاراحمد شامل ہے۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مغوئین میں سے پولیس اہلکارکے بھائی تجمل لون ساکنہ بٹہ گنڈشوپیان کوچھوڑدیاگیا۔ اس دوران اغواء کے بعدمارے گئے تینوں پولیس اہلکاروں کی نعشوں کوپولیس نے اپنی تحویل میں لے کرضلع ہیڈکوارٹرشوپیان پہنچایا تھاجہاں ان کی نعشوں کاپوسٹ مارٹم کیاگیا تھا اور ضروری طبی وقانونی لوازمات کے بعدمہلوک پولیس اہلکاروں کی نعشوں کوڈسٹرکٹ پولیس لائنزشوپیان لایاگیاجہاں اُنکے اعزازمیں ایک تعزیتی تقریب منعقدکی گئی تھی۔آئی جی پی کشمیرزون ایس پی پانی ،ڈی آئی جی جنوبی کشمیر،ایس ایس پی شوپیان ،ایس ایس پی اونتی پورہ،ایس ایس پی کولگام،ایس ایس پی پلوامہ اورکئی سیول حکام اورپولیس اہلکاروں نے تعزیتی تقریب میں شرکت کی۔تینوں مہلوک اہلکاروں کانسٹیبل نثاراحمد،ایس پی اؤفردوس احمداورکلدیپ سنگھ کوسلامی دی گئی ،جسکے بعدپولیس وسیول حکام نے تینوں کے تابوتوں پرگلباری کرکے خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
اس دوران سرکاری اعزازکیساتھ خراج عقیدت پیش کرنے کے بعددونوں مہلوک ایس پی اوؤزاورایک پولیس کانسٹیبل کی میتوں کوآخری رسومات کی انجام دہی کیلئے لواحقین کے سپردکیاگیا تھا۔اُدھرپولیس ترجمان نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھاکہ محکمہ پولیس کے تین جوانوں نثاراحمد،فردوس احمدکوچھے اورکلدیپ سنگھ کوجاں بحق کیاگیا۔پولیس حکام نے تین اہلکاروں کی ہلاکت کوغیرانسانی حرکت قراردیتے ہوئے کہاکہ ہلاکتوں میں ملوث عناصرکیخلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
ادھرآئی جی پی کشمیرایس پی پانی نے تین اہلکاروں کی ہلاکت کوبزدلانہ حرکت قراردیتے ہوئے کہاکہ اغواکاری اورہلاکت میں ملوث عناصرکوانصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے دوایس پی اوؤزاورایک پولیس اہلکارکوموت کی نیندسلادیا،اُنکوبخشانہیں جائیگابلکہ اُنکوقرارواقعی سزادی جائیگی۔
غورطلب ہے کہ گزشتہ دنوں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈرکاویڈیوپیغام سوشل میڈیاپروائرل ہواتھا،جس میں مذکورہ کمانڈرکویہ سخت دھمکی دیتے ہوئے سناگیا تھاکہ اگرپولیس اہلکاروں اورایس پی اوؤزنے پولیس کی نوکریوں کوخیربادنہیں کیاتواُنکوسنگین نتائج کاسامناکرناپڑے گا۔
خیال رہے پولیس اہلکاروں کی اغواکاری کاسلسلہ 30،اگست کواُسوقت شروع ہواجب جنوبی کشمیرمیں کچھ سرگرم جنگجوکمانڈروں اورجنگجوؤں کے قریبی رشتہ داروں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔تاہم گرفتارکئے گئے شہریوں کورہاکئے جانے کے بعدجنگجوؤں نے پولیس اہلکاروں کے لگ بھگ 10مغویہ رشتہ داروں کوچھوڑدیاتھا۔اس دوران ضلع شوپیان کے بٹہ گنڈاورکاپرن گاؤں میں دوران شب مبینہ طورپرجنگجوؤں کے ہاتھوں گھروں سے اغواء کئے گئے 2ایس پی اوؤزاورایک پولیس کانسٹیبل کی گولیوں سے چھلنی نعشیں جمعہ کی صبح لامنی ونگام سے برآمدہونے کے بعدپورے جنوبی کشمیرمیں خوف وہراس اورتشویش کی لہردوڑگئی ۔اوربیک وقت تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کاواقعہ پیش آنے کے بعدپلوامہ ،کولگام اورشوپیان اضلاع سے تعلق رکھنے والے نصف درجن سے زیادہ ایس پی اوؤزنے غیرمصدقہ اطلاعات کے تحت محکمہ پولیس کی نوکریوں کوخیربادکہنے کااعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعدنصف درجن کے لگ بھگ ایس پی اوؤزاورپولیس اہلکاروں نے سماجی رابطہ گاہوں کے ذریعے ویڈیو بیانات دیکریہ اعلان کردیاکہ 20ستمبرسے اُن کاپولیس محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ۔پولیس نوکری چھوڑنے کااعلان کرنے والوں میں کانسٹیبل ارشاداحمدباباساکنہ دنگام شوپیان،ایس پی اؤتجمل حسین لون ساکنہ بٹہ گنڈشوپیان،ایس پی اؤشبیراحمدٹھوکرساکنہ سامنوکولگام ،ایس پی اؤنوازاحمدلون ساکنہ تنگام کولگام،ایس پی اؤنصیراحمدبٹ ساکنہ واہی بگ پلوامہ اورعمربشیرساکنہ کاپرن شوپیان شامل بتائے جاتے ہیں ۔