سرورق مضمون

ضمنی پارلیمانی انتخاب :الیکشن یا بائیکاٹ/ انتخابی مہم گرما گرمی سے خالی ، ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

ڈیسک رپورٹ

ضمنی انتخابی مہم میںروایتی گرم جوشی کہیں نظر نہیں آرہی ہے ۔رواں مہینے کی 9 اور 12 تاریخ کو سرینگر اور اننت ناگ کے ضمنی پارلیمانی نشست کےلئے ووٹنگ ہونے والی ہے، لیکن انتخابی مہم بہت ہی سرد مہری کی شکار ہے ۔حکومت اوراپوزیشن دونوں زوردار انتخابی مہم چلانے سے قاصر ہیں ۔ عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس وجہ سے لوگ انتخابات سے دور رہنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ادھر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ تازہ ترین واقع چاڈورہ میں پیش آیا ہے ۔ جہاں ایک عسکریت پسند کے علاوہ تین عام شہری مارے گئے ۔ یہاں پولیس کو دویاتین عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی ۔ پولیس نے فوج کی مدد سے ایک مکان کو گھیرے میں لیا۔ اس دوران گولیاں چلیں اور دس گھنٹے تک جاری رہنے والے معرکے میں ایک جنگجو کے علاوہ تین عام نوجوان مارے گئے ۔ جبکہ ایک یادو عسکریت پسند بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔ تین عام شہری اس وقت مارے گئے جب بڑی تعداد میں لوگوں نے جمع ہوکر گھیرا کرنے والے سیکورٹی اہلکاروں پر دھاوا بول دیا ۔ ان لوگوں نے سخت سنگ باری شروع کی اور فوج کے ساتھ دو بدو لڑائی شروع ہوگئی ۔ شہری ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ نے سخت افسوس کا اظہار کیا ۔ معرکے میں عسکریت پسند مارا گیا وہ کولگام علاقے کا رہنے والا تھا ۔ اس کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اسی روز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوکرناگ علاقے میں انتخابی مہم چلانے کے لئے پہنچ گئی تھی ۔ جلسہ ختم کرکے جب وہ واپسی پر بجبہاڑہ پہنچ گئی تو کہا جاتا ہے کہ وہاں ان کی کانوائے پر حملہ کرکے سخت سنگ باری کی گئی ۔ لوگ اس بات پر سخت حیران ہیں کہ انتخابی مہم میں کسی قسم کی گرم جوشی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔
سرینگر اور اننت ناگ کے جن دو حلقوں میں انتخابات ہورہے ہیں ۔ یہاں کئی ممبران میدان میں اترے ہیں ۔ البتہ کہا جاتا ہے کہ سرینگر سے این سی کے ڈاکٹر فاروق اور پی ڈی پی کے نذیر احمد خان کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے ۔ اسی طرح اننت ناگ سے پی ڈی پی کے تصدق مفتی اور کانگریس کے جی اے میر کے درمیان مقابلہ کی پیشن گوئی کی جارہی ہے۔ اس طرح کے براہ راست مقابلے کے دوران سخت انتخابی مہم چلانے کی بات کی جاتی تھی ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہاہے ۔ انتخابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ پارٹیاں پریس بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ این سی کے لیڈر اس الزام کی گردان کررہے ہیں کہ پی ڈی پی اصل میں آر ایس ایس کا ایجنڈا آگے بڑھارہی ہے ۔ پی ڈی پی کا بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ برابر تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ اسی طرح حکومت کی ناکامی کے بیانات بھی دئے جارہے ۔ پی ڈی پی تاحال کوئی بڑی انتخابی ریلے منعقد کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ البتہ بیانات دے کر این سی پر حملے کررہی ہے ۔ اس کا الزام ہے کہ کشمیر میں خون خرابے کی بنیاد این سی دور میں پڑی ۔ یہ کاغذی جنگ جاری ہے ۔ چاڈورہ معرکے کی گونج بھی سنی جارہی ہے ۔ یہاں ہوئی شہری ہلاکتوں کا انتخابی مہم پر بھی اثر پڑا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس معرکے کا برابر ذکر کیاجارہاہے ۔ اس کا سوال دے کر لوگوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے کے لئے کہا جارہاہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی الیکشن یوں بھی کشمیر میں لوگوں کی گہماگہما سے خالی رہتے ہیں ۔ ایسے انتخابات میں لوگوں کی شرکت بہت کم دیکھی گئی ہے ۔ پچھلے پارلیمنٹ الیکشن میں بھی لوگوں نے بہت کم تعداد میں شرکت کی ۔ اس انتخاب میں بھی لوگوں نے الیکشن بوتھوں پر پتھرائو کیا اور لوگوں کو وٹ ڈالنے سے روک دیا ۔ آج بھی یہی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ حریت کے سبھی لیڈر نظر بند ہیں ۔ ان کو مختلف بہانوں سے قید رکھا گیا تاکہ الیکشن بائیکاٹ مہم سے انہیں روکا جائے ۔ یٰسین ملک کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر سنٹرل جیل بھیجدیا گیا ۔ اس سے پہلے ملک کو ہسپتال میں ڈاکٹروں نے معائنہ کیاتھا ۔ اسی طرح دوسرے بہت سے لیڈروں کو نظر بند رکھا گیا ۔ حریت کی سرگرمیاں محدود کی گئی ہیں ۔ البتہ سوشل میڈیا پر کئی افراد الیکشن کے خلاف مہم چلانے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ دوسری طرف سیاسی پارٹیاں بھی الیکشن سے بد دل دکھائی دیتی ہیں ۔ ان کے پاس کوئی نیا پروگرام نہیں جس پر وہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر تیار کریں ۔ الیکشن کے لئے سرکاری ملازموں کو ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں ملازموں کو الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے ۔ یہ عمل پورے زور وشور سے جاری ہے ۔ تاہم لوگوں میں اس حوالے سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ہے ۔ جنگجووں نے اپنی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی لائی ہے ۔ جنگجو تھانوں اور سیکورٹی پکیٹوں پر حملہ کرنے کے بجائے پولیس اہلکاروں کے گھروں میں گھسنے لگے ہیں ۔ شوپیان اور کولگام میں کئی پولیس اہلکاروں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ یہاں جنگجووں کے کئی گروپ پولیس آفیسروں کے گھروں میں داخل ہوئے اور اہلخانہ کو ڈرایا دھمکایا ۔ بڈگام میں ایک پولیس آفیسر کے دوبیٹوں کواغوا کیا گیا ۔ بعد میں انہیں چھوڑدیا گیا البتہ سخت دھمکیاں دی گئیں ۔ اس وجہ سے پولیس محکمے میں سخت تشویش پھیل گئی ہے ۔ پولیس والوں کے اہلخانہ خوفزد ہوگئے ہیں ۔ عسکری تحریک میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ پولیس والوں کے گھر والوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ پولیس سربراہ نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ اس سے خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے ۔ پولیس سربراہ نے اپیل کی ہے کہ پولیس والوں کے اہلخانہ کو نشانہ نہ بنایا جائے ۔ لیکن اس اپیل کا کوئی اثر دکھائی نہیںدیتا ہے ۔ادھر اننت ناگ کانسچونسی کے لئے پی ڈی پی امیدوار تصدق مفتی نے سنگ بازوں کے ساتھ بات چیت کا مطالبہ کیا ہے ۔ مفتی کا کہنا ہے کہ امن بحالی کے لئے احتجاج پسند لوگوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے جذبات کی قدر کرنا ہوگی ۔ کوئی حکومت نوجوانوں کے تعاون کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دے سکتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے مطالبات ماننا ضروری ہے ۔ اسی دوران وزیراعظم دفتر میں تعینات یونین منسٹر جیتندر سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ کشمیر میں نوجوانوں کو احتجاج پر ابھارنے کے لئے پاکستانی ایجنسیاں کام کررہی ہیں ۔ سنگھ نے اپنے بیاں میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو تشدد پر ابھارا جارہاہے ۔ سنگ بازی سے متعلق سیدعلی شاہ گیلانی کا تازہ بیان بھی سامنے آیا ہے ۔ گیلانی نے اسے احتجاج کا بہترین ذریع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مغلوں اور ڈوگروں کے خلاف بھی یہاں سنگ باری کا سہارا لیا گیا ۔ اس طرح سے سنگ باری ایک بڑا ایشو بن گیا ۔ حکومت چاہتی ہے کہ نوجوانوں کو اس طرح کے احتجاجوں سے دور رکھا جائے ۔ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ انکائونٹر کی جگہوں پر سنگ باری کرنا خود کشی کے برابر ہے ۔ اس طرح سے دھمکی دی گئی کہ ایسی جگہوں کے نزدیک آنے والوں کو ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کے دوران اس طرح کے ماحول نے سیاسی جماعتوں کو پریشان کررکھا ہے ۔ کوئی بھی امیدوار اپنے ووٹروں کو اپنے ادھرگرد لانے میں کامیاب نہیں ہورہاہے ۔ اس وجہ سے امیدوار سخت گھبراہٹ کا شکار ہیں ۔