خبریں

عالمی برادری کشمیر مسئلے پر پاکستان کے حامی

عالمی برادری کشمیر مسئلے پر پاکستان کے حامی

گذشتہ روز کی بات ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیرملیحہ لودھی نے واضح کر دیا کہ عالمی برداری کشمیر مسئلے پر پاکستان کی حامی ہے اور بہت جلد اس کے اثرات نمایاں ہونگے جس میں کشمیر مسئلے پر بھارت کو دباؤ میں لایا جائیگا ۔ سرحد پار سے دہشت گردی پھیلانے والی قوتوں کو بھی شکست دی جائیگی اور ایسے میں کشمیر کا مسئلہ عالمی برداری کے سامنے پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہیگا ان باتوں کا اظاہر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب نے گذشتہ دنوں اقوام متحدہ میں بھارتی وزیر خارجہ کو کشمیر مسئلہ سمجھادیا ہے اور اس پر بھارت کے موقف کو بے بنیاد ہونے کا خاکہ بھی پیش کر دیا ہے ۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ اب بھارت کی خاتون وزیر خارجہ نے پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری سے تعبیر کیا تھا اور اس پر انہیں بھی سمجھایا تھا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت صرف اور صرف حالات کا رونا روتا ہے اور دہشت گردی کا رونا روتا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کشمیر ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس حقیقت سے دنیا کی کوئی طاقت انکار نہیں کرسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارد ادوں کے عین مطابق حل کیا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دنیا میں سب سے بڑا انسداد دہشت گردی آپریشن کیا اورپاکستان سرحد پارسے دہشت گردی کرنے والی قوتوں کو بھی شکست دے گا۔
پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی میں مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مکمل اتفاق رائے ہے، پاکستان نے دنیا میں سب سے بڑا انسداد دہشت گردی آپریشن کیا اور پاکستان سرحد پارسے دہشت گردی کرنے والی قوتوں کو بھی شکست دے گا۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ سرحدی، قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن کیا، آپریشن کے نتیجے میں دو سال سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی، اعداد و شمارکے مطابق پاکستان میں دہشت گردی ۲۰۰۶ کے بعد کم ترین سطح پر ہے، ہم نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں۲۷ ہزار شہریوں کو کھویا اورپاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۱۲۰ ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
ملیحہ لودھی نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نقصانات کے باوجود اپنی سرزمین سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑے گا، پاکستان ریاستی دہشت گردی کی بھی مذمت کرتا ہے، دنیا کے کسی بھی حصے میں معصوم شہریوں کو مارنے کاکوئی جوازنہیں، داعش جیسی قوتوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے جب کہ دہشت گردی کی بنیاد ختم کرنے کیلئے سیاسی تنازعات حل کئے جائیں۔اس دوران پاکستانی وزرات خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ کشمیری انتہائی تکلیف میں ہیں اور پاکستان سے کشمیریوں کی تکلیف زیادہ دیر تک نہیں دیکھی جائیگی ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے ہاتھ روکنے کیلئے عالمی برادری کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کیساتھ بہتر تعلقات ہوں لیکن بھارت نے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جاکنے کی کوششیں کی ہیں ۔انہوں نے خبردار کیا کہ جتنی تاخیر مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ہوگی اتنا ہی بھارت کیلئے بدتر ہوگا بلکہ امن وامان کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور ایسے میں کشمیر میں علیحدگی پسند کی گرفتاری اور نظر بندی باعث تشویش ہے لہٰذا ان لیڈران کی گرفتاری اور نظربندی کو ختم کرنے کا پاکستان نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ دہرایا ہے ۔ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ بھارت کے اندر حکومتی فیصلوں پر اب آر ایس ایس اثر انداز ہو جاتی ہے اور اس سلسلے میں اب بھارت کے اندر فرقہ پرست طاقتیں سیکولر طاقتوں پر حاوی ہیں جس کی وجہ سے اب کشمیر میں بھی حالات انتہائی سطح پر نازک بنتے جارہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں اکثریتی مسلم علاقوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔
نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ۷۰ سال کا عرصہ گزر چکا جب کہ بھارت ممکنہ رائے شماری کے نتائج پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے، بھارت کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا چاہتا ہے لہٰذا عالمی برادری بھارتی ہتھکنڈوں کا نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۷ میں ایل او سی کی خلاف ورزی ۵۰۰ سے زائد مرتبہ کی گئی، یہ بھارت کی ایک چال ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے دنیا کی نظر ہٹائی جا سکے، بھارت چاہتا کہ ایل او سی پر فائرنگ کر کے ثابت کر سکے کہ سرحد پار سے دراندازی ہو رہی ہے تاہم حقیقت میں بھارت کشمیریوں کو مار رہا ہے۔نفیس زکریا نے کہا کہ۲۰۰۶ میں اجتماعی قبریں ملی تھیں جن میں سینکڑوں کشمیری دفن تھے، ڈی ین اے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ یہ تمام مقامی کشمیری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ہے جب کہ امریکہ کے سامنے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ رکھا گیا ہے۔نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے۔