اداریہ

عدم دلچسپی کیوں؟

اب جبکہ ضمنی پارلیمانی چنائو چندہی دنوں کے بعد ہونے والے ہیں تاہم وادی میںچنائوکا ماحول کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے اور آئے روز کچھ نہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ جیسا لگتا ہے کہ انتخابات خوش اسلوبی سے ہونا مشکل ہے۔ آئے دن کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح حالات بگڑتی جاتی ہے، حالانکہ رواں ماہ کی9 اور12 اپریل کو سرینگر اور اننت ناگ میں ضمنی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیںتاہم دیکھنے میں آتا ہے دونوں پارلیمانی نشستوں کے امیدا الیکشن کے لئے اس طرح سرگرم نہیں ہیں جس طرح کی پہلے ہوا کرتے تھے ۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ گذشتہ الیکشنوں میں امیدواروں نے لوگوں کو سبز باغ دکھا دکھا کر تھکایا ہے، تاہم آج کی حالات کچھ اور بول رہے ہیں، ایسا ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں نشستوں کے امیدوار خود تھکے ہوئے لگ رہے ہیں اور اس طرح سے وہ دونوں نشستوں میں اس طرح کی ریلیاں نکالنے میں محو نہیں ہوتے جس طرح کہ گذشتہ الیکشنوں میں کرتے آئے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہو سکتا ہے کہ گذشتہ ہفتے پہلے پدگام پورہ پلوامہ میں انکائونٹر ہوا اور اس کے بعد چاڈورہ بڈگام میں بھی ایک انکائونٹر ہوا جس میں جنگجواور تین عام شہری جان بحق ہوئے۔ یہی وجہ ہوسکتا ہے کہ امیدواروں نے الیکشن ریلیاں نکالنے کےلئے زیادہ کوششیں نہیں کی ہیں۔ ویسے اگر وہ کوششیں بھی کرتے تو اس وقت ماحول اس طرح کا ہے کہ ان الیکشن ریلیوں کے لئے وادی کے لوگوں کو دلچسپی نہیں لگتی۔ سرینگر پارلیمانی نشستوں کے لئے اگر چہ اصل مقابلہ حکمران جماعت پی ڈی پی اور اپوزیشن این سی کے امیدوار کے درمیان ہوگا تاہم اس نشست پر کانگریس نے این سی کے امیدوار کو مکمل سپورٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح اننت ناگ میں بھی اصل مقابلہ حکمران جماعت کے پی ڈی پی کے امیدوار اور کانگریس کے امیدوار کے درمیان ہوگا وہاں کانگریس کے امیدوار کو این سی کا مکمل سپورٹ ہے۔ تاہم کون کس کو سپورٹ کرتا ہے اور کون کس کو ووٹ دیتا ہے اور کتنے ووٹ پڑتے ہیں اس سے یہاں کوئی فرق پڑنے والی نہیں ہے ہاں الیکشن میں کسی نہ کسی کو کامیاب کرنا ہے چاہیے اس کو ایک ہی فیصد ووٹ کیوں نہیں ملے ۔ بہرحال اس کا فیصلہ بھی رواں مہینے کی 15 تاریخ کو ہونے والا ہے۔ فی الحال لوگ ووٹنگ کےلئے عدم دلچسپی دکھا رہے ہیں۔