سرورق مضمون

عسکریت پسندوں کے بعد حریت کو گورنر کا پیغام

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے اپنی پالیسی میں اچانک تبدیلی لائی اور حریت پسندوں کو مخاطب کیا۔ اس سے پہلے گولی کا جواب گولی سے دینے کی پالیسی اپناتے ہوئے علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا تھا ۔ لیکن پچھلے دنوں اپنی پالیسی میں یوٹرن لاتے ہوئے گورنر نے حریت لیڈروں کو ایک اہم پیغام دیا ۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں واضح نہ ہوسکا ۔ تاہم مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ گورنر نے اچانک علاحدگی پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں ایک اہم گروہ تسلیم کیا ۔ یہ اب تک کی پالیسی کے خلاف نئی پالیسی بتائی جاتی ہے ۔اس پر سیاسی حلقے حیران ہیں کہ گورنر کو حریت پسندوں کو مخاطب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقوق انسانی کی تنظیموں کے دبائو کی وجہ سے ایسا کیا گیا ۔ پچھلے ایک سال سے عالمی اداروں کے اندر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی گونج کئی بار سنی گئی ۔ اس وجہ سے گورنر کا لہجہ بدلا ہوا نظر آتا ہے ۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ الیکشن قریب آنے کی وجہ سے بھی علاحدگی پسندوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم جماعتیں الیکشن سے پہلے ریاست میں پرامن ماحول چاہتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان اور علاحدگی پسندوں کو اعتماد میں لئے بغیر یہاں امن وامان قائم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کی طرف سے کبھی کبھی اس طرح کے بیانات دئے جاتے ہیں ۔ تازہ بیان گورنر کی طرف سے دیا گیا جو ایک خیرسگالی کا پیغام مانا جاتا ہے ۔ حریت پسندوں نے اس بیان پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ اس وجہ سے اس کا کم ہی امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ اس سے حالات میں کوئی بہتر تبدیلی آئے گی ۔ ریاست خاص کر وادی میں حالات سخت کشیدہ بتائے جاتے ہیں ۔ ملی ٹنٹوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں ۔ ہر روز کئی کئی دیہات محاصرے میں لے کر تلاشیا ں لی جاتی ہیں ۔ انکائونٹروں اور عسکری کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ تازہ ترین واقع سرینگر کے گھنٹہ گھر کے قریب اور راجباغ میں پیش آیا جہاں عسکریت پسندوں نے پولیس پارٹی پر گرینیڈ کا دھماکہ کیا ۔ اس دھماکے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی ۔ حالانکہ دونوں علاقے لالچوک اور راجباغ حساس علاقے مانے جاتے ہیں جہاں اس طرح کی کاروائی ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جاتا ہے ۔ راج باغ گرینیڈ دھماکے سے پولیس کا ایک آفیسر اور دوٹریفک اہلکار زخمی ہوگئے ۔ اس کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور جگہ جگہ تلاشیاں لی گئیں ۔ تاہم کسی کو گرفتار کرنے یا دھماکے میں ملوث افراد کی شناخت کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہ آئی ۔ یہ دھماکے اس موقعے پر کیا گیا جب سرینگر میں یوم جمہوریہ کی تقریب کے حوالے سے سیکورٹی کا سخت بندو بست کیا گیا ۔ پورے شہر کی سڑکوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے اور کسی حملے کو روکنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ جنگجو سیکورٹی کے اس صورتحال کو توڑنے اور سرینگر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس وجہ سے سیکورٹی حلقوں میں مبینہ طور سخت تشویش کا اظہار کیا جارہاہے۔ گورنر کے جنگجووں اور حریت پسندوں کو مخاطب کرنے کے باوجود حالات میں کوئی بہتری آنے کی امید نظرنہیں آتی ہے ۔
گورنر نے جنگجووں کو پیغام دیا کہ وہ اسلحہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہوجائیں تو ان کی باز آباد کاری میں انہیں مدد دی جائے گی ۔ گورنر نے یہ بات بھی دہرائی کہ گولیوں کے جواب میں پھول پیش نہیں کئے جائیں گے ۔ جموں میں ایک تقریب کے حاشیے پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گولیوں کا جواب گلدستوں سے نہیں دیا جائے گا ۔ تاہم ان کی اس اپیل کو بہت ہی اہمیت دی جارہی ہے جس میں انہوں نے جنگجووں کو سرنڈر کرنے کی آفر کی۔ اس کے بعد گورنر کی طرف سے یہ بیان دیا گیا کہ ریاست میں آپریشن آل آوٹ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے ۔ ان کے اس بیان پر جہاں حریت پسندوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا وہاں میں اسٹریم جماعتوں نے ان کے بیان کو سخت الفاظ کے ساتھ مسترد کیا ۔ خاص کر نیشنل کانفرنس نے ان کے بیان کو پوری طرح سے مسترد کیا ۔ این سی کے لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ان کے بیان پر حیرانگی کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر فاروق نے ایک تقریب میں گورنر کے بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ اس آپریشن کا اعلان خود فوجی سربراہ نے کیا اور کئی سو جنگجوو ں کے ساتھ عام شہری بھی مارے گئے ۔ انہوں نے گورنر کے بیان کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آپریشن آل آوٹ فوج کا ایک بڑا آپریشن ہے جس کے ذریعے کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کیا گیا ۔ اسی دوران ریاست کے گورنر نے حریت لیڈروں سے اپیل کی کہ لوگوں کے ساتھ ہورہی زیادتیوں کا براہ راست ذکر گورنر سے کیا جائے ۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ عام لوگوں کے ساتھ کوئی بھی زیادتی ہوجائے تو دوسروں کے بجائے اس کی شکایت اس کے سامنے کی جائے تاکہ اس کی تحقیقات ہوسکے ۔ گورنر نے اس موقعے پر کہا کہ حریت لیڈروں کی پالیسی سے اختلاف کے باوجود انہیں ان کا احترام ہے اور وہ ان لیڈروں کی قدر کرتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریاست میں زیادتیوں کی شکایات وہ ان تک نہیں پہنچاتے ہیں ۔ا نہوں نے حریت لیڈروں سے کہا کہ ان شکایات کو ان کی نوٹس میں لایا جائے ۔ ستیہ پال ملک نے امید ظاہر کی کہ کسی موقعے پر حریت کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ اس لئے حریت کو راج بھون سے دور نہیں رہنا چاہئے ۔ ملک کا کہنا تھا کہ وہ عام لوگوں کی شکایت سن کر ان کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہوں نے حریت سے کہا کہ گورنر کو کوئی اجنبی خیال نہ کیا جائے بلکہ ان کے نزدیک آکر شکایا ت ان کی نوٹس میں لائی جائیں۔ حریت نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس پر کوئی توجہ نہ دینے کا اعلان کیا ۔ تاہم اسے گورنر کی طرف سے دیا گیا معنی خیز بیان قرار دیاجاتا ہے ۔ اس بیان سے گورنر کو کیا فائدہ حاصل کرنے کی امید ہے ابھی واضح نہیں ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم جماعتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ پاکستان اور حریت کے ساتھ بات چیت کرنا لازمی ہے ۔ ان جماعتوں کے آئے دن بیانات سامنے آتےہیں کہ حریت کو اعتماد میں لیا جائے۔ گورنر کا بیان انہی کوششوں کی طرف کوئی قدم ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ اس کے باوجود کئی حلقے گورنر کے بیان کو اہم بیان قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا بیان دہلی کی خواہش کے بغیر نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ ادھر کچھ حلقے اسے گورنر کی اپنی کوشش قرار دیتے ہیں۔ دہلی کی حکومت یا مرکزی بی جے پی کی طرف سے گورنر کے بیان پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ مرکز کی یہ خاموشی معنی خیز سمجھی جاتی ہے ۔ اس حوالے سے مزید کوئی قدم ابھی تک نہیں اٹھایا گیا ۔ گورنر کا حریت کو پیغام صرف بیان بازی تک محدود تھا یا کسی تھوس پالیسی کا حصہ ہے ابھی تک واضح نہیں ہوا ۔ سیاسی حلقے اس انتظار میں ہیں کہ مزید پیش رفت کرنے کی کوشش کی جائے ۔ سبھی حلقے یہی چاہتے ہیں اور خیر کی امید کرتے ہیں ۔