خبریں

علیحدگی پسندوں کے بغیر مذاکرات لا یعنی

علیحدگی پسندوں کے بغیر مذاکرات لا یعنی

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر سابق وزیراعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے علیحدگی پسندوں کے بغیر مذاکرات کولایعنی اور لا حاصل مشق قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا لازمی فریق ہے اور اسکے مکالمے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔واجپائی اور مشرف دور کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بہترین موقعے سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی مسئلہ کشمیریوں کے درد ،مشکلات و مسائل اور خون خرابے کی جڑ ہے۔ پچھلے سال جاں بحق ہوئے حز ب کمانڈر برہان وانی کو معصوم کشمیر ی نو جوان قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور سنگ بے چینی کے باعث ہے۔
ایک نجی نیوز کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں سابق وزیر اعلیٰ و ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کو ہند پاک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سات دہائیوں ہوگئیں اور یہ سیاسی مسئلہ اب بھی حل طلب ہے ۔انہوں نے علیحدگی پسندوں اور پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگز یر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حریت اور پاکستان اس مسئلے کا ایک حصہ ہے اور دونوں سے بات چیت ضروری ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں تب تک امن قائم نہیں ہوگا جب تک پڑوسی ملک کے ساتھ رشتے استوار اور بہتر نہیں ہوتے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’پر تشدد ماحول کو پاکستان تھمنے نہیں دے گا ،یہ ایک حقیقت ہے ،جسے جھٹلا یا نہیں جاسکتا ،بہتر ہے پاکستان کے ساتھ بات کی جائے‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے کیو نکہ سیاسی مسئلے کا حل جنگ وجدل سے نہیں نکالا جاسکتا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق نہیں ہے ،تو شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ کیوں ہوئے؟‘۔انہوں نے کہا کہ شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ میں یہ موجود ہے مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،جس کا حل بات چیت کے ذریعے نکا لا جائیگا ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب بھارت اور پاکستان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ،تو اسے کون جھٹلا جاسکتا ہے؟۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس جموں کشمیر کا ایک بڑا حصہ ہے جسے بھارت اپنا حصہ کہتا ہے جبکہ پاکستان اِس کشمیر کو اپنا حصہ مانتا ہے ،ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے سوا دوسرا کون سا راستہ ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ بات چیت سے ہی سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو آج نہیں تو کل مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی ہوگا ۔ان کا کہناتھا کہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور مذاکرات کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے ۔انہوں نے اس حوالے سے سا بق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’واجپائی صاحب نے ایک شروعات کی تھی اور یہ مثبت قدم تھا‘ ۔انہوں نے کہا کہ مشروف کے دور میں بات ہوتے ہوتے بد قسمتی سے بگڑ گئی اور کیو نکہ یہ وہ دور تھا جو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بہترین موقع ثابت ہورہا تھا۔انہوں نے کہا کہ امید اب یہی کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات بحال کرکے اس مسئلے کے حل کی راہ تلاش کرے ۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق نے واضح کیا کہ اگر حریت مسئلہ کشمیر کا حصہ نہیں ہوتے نہ تو اُنکے ساتھ ماضی میںبات ہوتی اور نہ ہی اُنہیں جیل بھیجا جاتا کیو نکہ وہ کشمیری ہے لہٰذا وہ اس کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا ’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں حریت کے پیچھے آنکھ بند کرکے چلو گا بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ میں مشروط بنیادوں پر اُنکے ساتھ آگے بڑھانے کیلئے تیار ہوں ‘۔انہوں نے تیسرے فریق کی ثالثی کے کردار کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’چین ،پاکستان کا دوست ہے اور امریکا،بھارت اور پاکستان دونوں کا دوست ہے ،لہٰذا دونوں ممالک کے اثر رسوخ کا استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ، ان کا استعمال کیوں نہیں کرسکتے؟‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا’کشمیر میں اسلام کی لڑھائی نہیں لڑی جارہی ہے بلکہ یہ انصاف کی لڑائی ہے جو سیاسی طور پر لڑ ی جارہی ہے ‘۔انہوں نے سخت لہجا اپناتے ہوئے کہا’اسلام شدت پسندی یا دہشت گردی کا درس نہیں دیتا ،تمہیں اسلام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں لہٰذا چُپ ہوجائیں،یہ کٹر پنتی کیا لگا رکھا ہے‘۔کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور سنگ کو بے چینی کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوان گمراہ ہوچکا ہے اور اسکے پیچھے باہر ہاتھ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے جس کا حل ضروری ہے۔جاں بحق حزب کمانڈر برہان وانی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’وہ ایک کشمیری نوجوان تھا ،اُسے تو یہ زندہ پکڑنا چاہتے تھے، لیکن بد قسمتی اُنکے ہاتھوں مارا گیا۔۔۔۔کیا اُس نے کسی کو مارا؟اگر کسی کو مارا ،تو وہ دہشت گرد تھا ،دیکھئے وہ ایک کشمیری نوجوان تھا جس نے ایک مہم چلائی چاہئے وہ غلط تھی یا صحیح وہ الگ پہلو ہے ،تھا وہ کشمیری نوجوان ‘۔انہوں نے کہا کہ جن ہاتھوں میں بندوق ،پتھر ہے جبکہ جن کا علیحدگی کا نظر یہ وہ سب کشمیری ہیں ،کشمیریوں کو سیاسی مسئلے کی وجہ سے درد،مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے اور امن کیلئے اس کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل سے تمام معاملات سلجھ جائیں گے ۔این آئی اے کی تحقیقات کو صحیح ٹھہراتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’اسکی تحقیقات ہونی چاہئے کہ پاکستان سے آیا ہوا پیسہ کہاں خرچ ہوا ،لیکن اِسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ بھارت سے آیا پیسہ کہاں گیا؟،اب تحقیقات ہورہی ہے دیکھتے ہیں کیا نتیجہ اخز ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انٹر ویو کے آخر میں کہا ’میں چاہتا ہوں اور میری دعا ہے کہ کشمیر میں وہ دن واپس لوٹ آئے ،جب میں بغیر سیکورٹی موٹر سائیکل چلایا کرتا تھا ،لیکن آج کی تاریخ میں گولی کہاں سے چلے ،کون چلائے گا ،یہ کوئی نہیں جانتا ‘۔