سرورق مضمون

عمران خان کا ایک اور چھکا!!

ڈیسک رپورٹ

پاکستان میں ہوئے انتخابات میں تحریک انصاف نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ اس الیکشن کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آنے کی پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ تاہم تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی کی صورت میں ابھر آئی ۔ اس طرح سے سابق کرکٹرعمران خان کے لئے وزیراعظم بننے کا خواب پورا ہورہاہے۔ کل265 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے ۔ ووٹ ڈالنے والوں کی شرح60 فیصد کے برابر رہی ۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کرنے کی سخت کوشش کی تھی ۔ لیکن عمران خان نے انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا اور اُن کی پارٹی تحریک انصاف نے 116 نشستیں حاصل کیں ۔ پیپلز پارٹی43 سیٹیں حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 64 نشستیں حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ متحدہ مجلس عمل نے بارہ، ایم کیو ایم نے چھ، جی ڈے اے نے دو ،آزاد امیدواروں نے 12، پی ایم ایل(ق) نے چار اور دیگر نے چھ سیٹیں حاصل کیں۔
یہ بات عیاں ہے کہ مسلم لیگ نے سخت کڑے حالات میں یہ الیکشن لڑے ۔ پارٹی کے سربراہ نواز شریف کو بیٹی سمیت عدالت نے کورپشن کیس میں دس سال کی سزا سنائی ہے ۔ سزا سنانے کے وقت نواز شریف لندن میں اپنی بیوی کا علاج کررہے تھے ۔ الیکشن قریب آنے کے ساتھ اس نے واپس لاہور آنے کا فیصلہ کیا ۔ ائرپورٹ پر اترتے ہی دونوں باپ بیٹی کو گرفتار کیا گیا ۔ وہ اب اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں۔ پارٹیکی قیادت نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے سنبھالی ۔ جبکہ پیوپلز پارٹی نے یہ الیکشن بلاول زرداری بھٹو کی قیادت میں لڑے ۔ اس طرح سے عمران خان نے دونوں پرانی جماعتوں کو ہراکر میدان مار لیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ملک بھر میں جیت کے شادیانے منانے میں مصروف ہیں ۔ الیکشن سے پہلے ہی اس بات کے اندازے ظاہر کئے جارہے تھے کہ عمران خان ملک کے اگلے وزیراعظم ہونگے ۔ کئی مبصرین نے پیشن گوئی کی تھی کہ معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ اس کے باوجود تینوں پارٹیاں کامیاب ہونے کا دعویٰ کررہی تھیں ۔ آخر کار نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی کے انداز میں داخل ہوگی ۔ عمران خان نے خودپانچ نشستوں سے الیکشن لڑا اور پانچ کی پانچ سیٹیں جیت لیں ۔ یہ پاکستان میں اب تک کا ریکارڈ ہے ۔ اس سے پہلے ذوالفقار بھٹو نے چار نشستوں پر الیکشن لڑ کر تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ تحریک انصاف کے سربراہ اسلام آباد کی ایک نشست پر الیکشن میں حصہ لے رہے تھے ۔ا ن کا مقابلہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن ) کے رہنما شاہد خاقان عباسی سے تھا ۔ سابق وزیراعظم الیکشن ہار گئے اور عمران خان نے بڑی فرق سے اپنے مدمقابل کو ہرادیا ۔عباسی کے دور میں وزیرتعلیم رہے بلیغ الرحمان بھی الیکشن ہارگئے ہیں ۔ رانا ثنااللہ جو عباسی کی کابینہ میں قانون کے وزیر تھے الیکشن ہار گئے ۔ اسی طرح مسلم لیگ کے نامور امیدوار تہمینہ دولتانہ ، طلال چودھری ، عوامی نیشنل پارٹی کے چیف اسفند یار ولی خان اور جماعت اسلامی کے سربراہ انتخابات ہار گئے ہیں ۔ شہباز شریف ایک نشست پر ناکام قرار دئے گئے جبکہ دوسری نشست سے آپ اپنی جیت درج کرنے میں کامیاب رہے۔مسلم لیگ نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی نتائج فراڈ ہیں اور انتظامیہ کی مداخلت سے عمران خان جیت گئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ انتخابی نتائج کو قبول نہیں کررہی ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ نے پنجاب میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کی ۔ تاہم اس کو اپنے مدمقابل عمران خان سے کچھ ہی سیٹیں زیادہ ملی ہیں ۔ باقی تمام صوبوں میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی ۔پیوپلز پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے فرزند نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور غنڈہ گردی کے الزامات لگائے ہیں ۔ بلاول نے کہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے دوران ان کے ایجنٹوں کو زدوکوب کیا گیا اور الیکشن بوتھوں سے باہر بھگادیا گیا ۔ انتخابی نتائج سے معلوم ہورہاہے کہ دو جماعتوں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان براہ راست مقابلہ تھا ۔ اس الیکشن میں کل ملاکر 12,570 امیدوار حصہ لے رہے تھے۔ کل ایک ملین سے زیادہ ووٹر ووٹ دینے کا حقدار تھے اور 849 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالنے تھے ۔ ووٹنگ کے لئے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی ۔ اس کے باوجود کئی جگہوں پر دھماکے ہوئے جس میں دوا میدواروں سمیت دوسو سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔ تحریک انصاف کے لئے حالات پہلے سے سازگار رہے ۔ نوازشریف کی فوج اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پورے وقت لڑائی جاری رہی ۔ اس وجہ سے وہ پیچھے دھکیلے گئے ۔ اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے الزام لگایا کہ الیکشن میں دھاندلیاں کی گئیں ۔ ان کا اشارہ فوج کی طرف ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے اداروں کی مدد سے الیکشن جیت لیا ۔ اس کے باوجود عمران خان کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ اور پی پی پی کو ہراکر انہوں نے صاف وشفاف انتطامیہ فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کیا جائے گا ۔ اب انہیں اپنے وعدے پورے کرنے ہونگے ۔ ان کی حکومت پر فوج کا سخت دبائو ہوگا ۔ فوج نہیں چاہتی ہے کہ پاکستان میں مضبوط حکومت بنے ۔ فوج ہر وقت مداخلت کے لئے تیار رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ فوج کے لئے مخلوط سرکار پسندیدہ سرکار ہے ۔ ایسی حکومت کسی بھی وقت گرائی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فوج پر الیکشن میں براہ راست مداخلت کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ تاہم ان کے پسندیدہ مذہبی امیدوار بھی الیکشن ہار گئے ہیں ۔ عمران کون سی پالیسی لے کر آگے بڑھیں گے دیکھنے کے لئے سب بے تاب ہیں۔ کشمیریوں کی نظریں پاکستانی انتخابات پر لگی تھیں ۔ تاہم کشمیر کے لوگ مذہبی جماعتوں کی شکست سے سخت مایوس نظر آتے ہیں ۔