خبریں

عوام کو ہیلنگ ٹچ فراہم ہوگا

عوام کو ہیلنگ ٹچ فراہم ہوگا

گورنر راج میں لوگوں کو ہیلنگ ٹچ کی فراہمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریاستی گورنر این این ووہرا نے کہاکہ امرناتھ یاترا کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں لہٰذا گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے انہوں نے واضح رہے کہ ریاست میں امن کی بحالی کیلئے ماحول کو سازگار بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی اور گول میز کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ امرناتھ یاترا کی سیکورٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر این این ووہرا نے کہا کہ امرناتھ یاترا کیلئے پہلے ہی پختہ سیکورٹی حصار تیار کر لیا گیا ہے اور اب اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے یاتریوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی کا کڑا بندوبست کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو ماہ تک جاری رہنے والی اس یاترا کے حوالے سے جو بھی سیکورٹی کے انتظامات کرنے تھے وہ مکمل کر لئے گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی حفاظت کیلئے اب تک کا سب سے بڑا سیکورٹی حصار تیار کیا گیا ہے جس میں تمام طرح کے راستوں کو سیل بھی کر دیا گیا ہے ۔ ایسے میں تمام طرح کی سیکورٹی ایجنسیوں کو دائرے میں لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کو گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے وہ پُرامن طریقے پر یاترا کیلئے آئیں اور خوشی کیساتھ واپس لوٹ سکیں ۔ گورنر ووہرا نے گزشتہ دونوں از خود ہی اس سیکورٹی حصار کا جائزہ لیا ہے اور ایسے میں پہلے ہی انہوں نے گھپا کے درشن بھی کر لئے جہاں انہوں نے سیکورٹی کیساتھ ساتھ یاتریوں کیلئے کئے گئے دیگر انتظامات کا بھی از خود جائزہ لیا ۔ا س دوران انہوں نے یاترا کیساتھ ساتھ دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر میں گورنر راج عوام کو ہیلنگ ٹچ فراہم کریگا اور انہیں یقین ہے کہ حالات میں بہتری آئیگی ۔ گورنر این این ووہرا کا کہنا تھا گورنر راج کے دوران وہ امن بحالی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ایسے میں سماج کے ہر طبقے کو ساتھ چلانے کی کوشش کریں گے چاہئے اس میں والدین ہوں ، اساتذہ ہوں، نوجوان ہو یا پھر دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگ ہیں۔انہوں نے کہاکہ امن بحالی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کو طلب کرنے کا مقصد یہی تھا کہ سیاسی جماعتوں سے بھی امن بحالی میں مدد طلب کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ گورنر راج میں عوام کو ہیلنگ ٹچ ملے یہی ان کی خواہش ہے ۔انہوں نے جنگجو مخالف آپریشنوں کے حوالے سے کہاکہ گورنر راج میں اس کے طریقے بدل سکتے ہیں حالانکہ فوج اپنا کام کریگی ۔ انہوں نے کہاکہ پہلی ترجیح امن کی بحالی ہے اور ایسے میں وہ چاہیں گے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو راحت مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے بھی کوششیں جاری رہیں گی اور ایسے میں ہر کسی کا تعاون طلب کیا جائیگا ۔ گورنر موصوف کا کہنا تھا کہ دکھی لوگوں کو ہیلنگ ٹچ دینا میری ترجیح رہیگی اور ایسے میں کسی بھی طو ر پر عوام کو مشکلات میں مبتلا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جائیگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگجو مخالف آپریشن ماہ رمضان میں روکنا کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ خیر سگالی اقدام تھا ۔ایسے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے د س برس کے دوران کئی بار گورنر راج کے حوالے سے کام کیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے انہیں اس سلسلے میں کسی حد تک تجربہ ہے کیونکہ سال 2008میں بھی قریب تین ماہ تک گورنر راج ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں سخت گیر پالیسی کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی میں اس طرح کے معنی نکالنے کا عادی ہوں بلکہ پوری ایڈمنسٹریشن کو فعال بنانا ، اوپر سے لیکر نیچے تک انتظامیہ کی جوابدہی ،تیز رفتار ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ لوگوں میں اعتماد کو بحال کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ضرور ی ہے کہ سول ساسوسٹی کو متحرک کیا جائے تاکہ ان کی مدد سے لوگوں تک جوابدہ سرکار پہنچائی جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کے کل پرزے کو متحرک کیا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج عوام مخالف نہیں بلکہ عوام دوست بھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو مزید بہتر بنانے ،فعال بنانے اور اس میں نئی جان ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔