مضامین

عید اخوت و محبت کا پیغام دیتی ہے

محمد عارف اقبال
زندگی میں انسان کو بہت ساری خوشیاں ملتی ہیں، مگر عید کی خوشی اور دوسری خوشیوں میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ ہے کہ جودوسری خوشیاں ہمیں ملتی ہیں وہ عارضی ہوتی ہے، آدمی چندمنٹ کے لئے خوش ہوتا ہے اور پھر اپنی اصل حالت پر لوٹ جاتا ہے، ظاہر ہے زندگی کے مسائل آدمی کو کہاں کہاں خوش رکھے گی، اس لئے ہر خوشی کے ساتھ یہ ڈر بھی ستاتا ہے کہ ا س کے بعد پھرنہ جانے کون سے غم کے بادل چھا جائیں۔ ایسے بے شمار واقعات آئے دن ہم اور آپ دیکھتے ہیں کہ پل بھر کی خوشیاں کس طرح سکنڈوں میں ماتم میں تبدیل ہوجاتی ہے، مگر عید کی خوشی کا اپنا ایک الگ ہی انداز ہے، اس کی خوشی کی نوعیت بالکل الگ ہوتی ہے، یہ ایسی خوشی ہے جس پر دنیا کی ہزاروں خوشیوں کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ ذرا غور کریں کہ عید کی خوشی اتنی اعلیٰ اور عظیم کیوں ہے؟ دیگر تہواروں سے زیادہ اس تہوار میں ہم زیادہ خوش کیوں ہوتے ہیں؟
عید منانے کی روایت کب سے ہوئی:
ہر قوم ومذہب میں کچھ خاص دن اہمیت کی حامل ہوتے ہیں، جس میں ان مذاہب کے افراد اپنے عقیدے کے مطابق جشن مناتے ہیں، اچھا لباس پہنتے ہیں، عمدہ کھانا کھاتے ہیں اور مل جل کر خوشی کے کچھ پل گزارتے ہیں، اسی طرح اللہ پاک نے مذہب اسلام کے ماننے والوں کوچار دن خوشی و مسرت کے دئے ہیں، (ایک دن عیدالفطر، تین دن عیدالاضحی کا ) اور انہیں حدیث شریف میں ایام اکل شرب (یعنی کھانے پینے کے دن) کہا گیا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ مدینے کے لوگ دو تہوار جوش خروش سے مناتے ہیں، اور ان دونوں تہواروں میں کھیل تماشے کیا کرتے ہیں، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ’’ تم لوگ یہ دودن کس خوشی میں مناتے ہو‘‘؟، مدینے والوں نے کہا ’’ہم جاہلیت کے زمانے سے ہی ان دودنوں تہواروں کو کھیل کود کے دن کے طور پر مناتے ہیں‘‘، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لئے مقرر فرمایا ہے، پہلا عید الاضحی، دوسرا عیدالفطر کا دن۔ لہٰذا اس دن سے مذہب اسلام کے ماننے والوں میں یہ دو تہوار رائج ہوگئی، ان دو دنوں تہواروں میں مسلمان عیدگاہ جاتے ہیں اور دوگانہ نماز ادا کرتے ہیں، یہ دونوں ہی تہوار مسلمانوں کا قومی و ملی تہوار بھی ہے اور عبادت بھی۔
خوشی منانا آپ کا حق ہے:
عیدالفطر سے قبل ہم پر جو مبارک مہینہ سایہ فگن ہوتا ہے سب جانتے ہیں وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں ا للہ رب العزت کے حکم کے مطابق پورے دن کھانا پینا اور جنسی ضروریات کی تکمیل سے اپنے آپ کو بچائے رکھا، ایک متعین وقت تک اگر ایک لقمہ بھی منہ میں ڈال لیتے یا ایک گھونٹ پانی بھی حلق سے نیچے اتار لیتے تو یقین جانے اللہ کے غضب کے ہم شکار ہوتے، بلاچوں چراں ہم نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی، تو اللہ پاک نے اس امتحان کے بدلے عید جیسی عظیم خوشی ہمیں اور آپ کو نصیب فرمائی، یاد کریں؛ اس مبارک مہینے میں اللہ پاک جب پکار رہا تھاکہ ہے کوئی مغفرت کا طلب گار؟ اسے معافی دی جائے، ہے کوئی رزق کا طلب گار؟ اسے رزق مہیا کرائی جائے، ہے کوئی صحت کا طلب گار؟ اسے صحت یاب کیا جائے، اللہ کی رحمت کا دریا جب جوش مار رہا تھا، تو آپ نے بھی اس میں خوب غوطے کھائے، اپنا دامن پھیلا دیا، افطار کے وقت، قیام اللیل کے وقت اور شب قدر کے وقت؛ رات کی تنہائیوں میں ٹوٹے ہوئے دل اور لرزئے ہوئے ہونٹوں سے اپنی گناہوں کی معافی چاہی، تو اللہ نے بخش دی آپ کے تمام گناہوں کو، دے دی آپ کو آپ کے حصے کا رزق، کردیا آپ کو صحت یاب، ان سب کے درمیان سب سے اہم بات یہ کہ رمضان کے روزوں سے ہمیں تقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہوئی، جو دنیا و آخرت کے تمام دائمی خزانوں کی کنجی ہے، اللہ نے اپنی بہترین جنتوں کا وعدہ اہل تقویٰ والوں سے ہی کیا ہے، خوشی اس بات کی ہے کہ یہ دولت رمضان کے روزوں کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی، اگر خالق و مالک مہربان ہوجائے تو اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے؟ پس خوشی منانا آپ کا حق ہے۔
گناہ سے اللہ ناراض ہوتا ہے:
اسی طرح اس مبارک مہینے میں ہم اور آپ نے پوری کوشش کی کہ ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوجائے، کیوں کہ گناہ سے اللہ ناراض ہوتا ہے، گناہ کو ہم نے آس پاس پھٹکنے بھی نہیں دیا، پھر روزہ رکھ کر اپنے اعمالِ صالحہ کے ذریعہ اپنے روزے کو اور زیادہ پائیدار اور مستحکم کرنے کی لاشعوری کوشش کی، فرض کا اہتمام تو ہوا ہی، نوافل کے لئے بھی خوب کوششیں ہوئیں اور کیوں نہ ہو؟ نوافل کا ثواب فرض کے درجے کے برابر جو پہنچ گیا تھا، ایک ایک عمل کی نگرانی اس طرح کی کہ روزے کا اجر کسی طرح ضائع نہ ہونے پائے، آپ نے روزہ کی تکمیل اس طرح کی کہ وہ گناہوں کی گندگی سے آلودہ نہیں ہوئی ہے تو آپ خوش نصیب ہیں۔
زندگی کے ہر موڑ پر قرآن کریم کی رہبری حاصل کرے:
سب سے خاص بات کہ اس مبارک مہینے میں آپ نے نعمت قرآن کی قدر کی، قرآن پاک کی عظمت کو سمجھا، اسی مبارک مہینے میں بنی نوع انسان کیلئے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت قرآن مجید کا نزول ہوا، جس کی ایک رات ’’لیلۃ القدر‘‘ ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے اور جس مہینے کا انتظار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سال بھر کیا کرتے تھے، رمضان المبارک کا مہینہ درحقیقت اس سعادت انسانیت اور نبی نوع انسان کی ہدایت کی یادگار ہے، چنانچہ کتاب اللہ خود کہتی ہے ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسان کے لئے ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھاتی ہے اور حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھ دیتی ہے، لہٰذا جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ روزہ سے رہے۔ (سورہ بقرہ:۱۵۸) چنانچہ آپ نے اللہ کی کتاب سے اپنے تعلق کو مضبوط اور گہرا کیا، پورے جوش و خروش کے ساتھ اسے تراویح میں سنا، رمضان کے شب و روز تلاوت قرآن میں گزارا، اسے پڑھ کر ہر ممکن اس پر عمل کرنے کی کوشش کی، انشاء اللہ قرآن پاک سے رشتہ جڑنے کے بعد آپ کی زندگی میں ایک نیا انقلاب آئے گا، آپ کی زندگی کا رخ بدلے گا، اب یہی قرآن کل قیامت کے دن بارگاہ رسالت میں آپ کی سفارش کرے گی، کہ اے اللہ! اپنے اس نیک بندے کی تمام گناہوں کو بخش دے، کہ اس نے قرآن کریم سے اپنے رشتے کو مضبوط کرلیا تھا، اس نے قرآن کے احکام کے مطابق اپنی زندگی کو گزارا، لہٰذا ہمیں اور آپ کو عزم کرنا چاہئے کہ زندگی کے ہر موڑ پر قرآن کریم کی ہی رہبری حاصل کرے گیں، ہرگز ہرگز قرآن کا دامن نہیں چھوڑینگے، اسے اپنے جان سے بھی زیادہ عزیز رکھے گیں، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل قیامت کے دن آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس صف میں کھڑے ہوں، اور یہی قرآن شکایت کررہا ہو ’’اے پرور دگار عالم! یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کا دامن چھوڑ دیا اور اس کو لاوارث کر دیا‘‘۔
تقویٰ انسان کی لازمی صفت ہے:
اسی طرح قرآن کریم کو ’’ھدی اللمتقین‘‘ یعنی متقیوں کے لئے ہدایت کہا گیا ہے،اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں اصل انسان جسے اللہ تعالیٰ نے خلیفۃ الارض بنایا یہ متقی انسان ہے، یعنی تقویٰ انسان کی لازمی صفت ہے، تقویٰ دراصل تمام اعمال صالحہ کی جڑ ہے، تقویٰ ہو تب ہی قرآن کریم سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے، بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ روزے سے تقویٰ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ روزہ انسان کی قوت حیوانیہ اور قوت بہیمیہ کو توڑتا ہے جب آدمی بھوکا رہتا ہے، اس کی وجہ سے انسان کی حیوانی خواہشات اور حیوانی تقاضے کچلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں گناہوں پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سست پڑ جاتا ہے، لیکن حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ صرف قوت بہیمیہ توڑنے کی بات نہیں ہے، بلکہ جب آدمی صحیح طریقہ سے روزہ رکھے گا تو یہ روزہ خود تقویٰ کی عظیم الشان سیڑھی ہے، اسلئے تقویٰ کے معنی ہی ہیں کہ اللہ رب العزت کی جلال سے بچنا، یعنی یہ سوچنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور میرے ہر عمل کو اللہ پاک دیکھ رہا ہے، اور پھر مجھے اللہ کے سامنے حاضر ہوکر سب کو جواب بھی دینا ہے، اس تصور کے بعد جب انسان گناہ چھوڑتا ہے تو اسی کا نام تقویٰ ہے ،جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے ’’واما من خاف مقام ربہ ونہی النفس عن الھویٰ‘‘ (سورہ النازعات:۴۰) یعی جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونا ہے اور کھڑا ہونا ہے تو اس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو ہوائے نفس اور خواہشات سے روکتا ہے، یہی تقویٰ ہے۔
روزوں کے ذریعہ صبر کی دولت نصیب ہوئی:
اسی طرح رمضان کے روزوں کے ذریعہ صبر کی دولت بے بہا نصیب ہوئی، یہ دولت بھی بڑے نصیب والوں کو ملتی ہے، روزہ رکھ کر بھوک پیاس کی تکلیف کا جو احساس ہوا، اس نے ہمیں اور آپ کو دنیا کے بھوکوں، پیاسوں اور آفت کے ماروں کے بارے میں سوچنے اور ان کی مدد کرنے پر مجبور کردیا، اب حالت یہ ہے کہ آپ خلق خدا کی تکلیفوں اور ان کے رنج و غم اور دکھوں میں شریک ہوں گے، اس سے روح و قلب کو جو خوشی اور مسرت حاصل ہوگی اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتاہے، کثرت ذکر، دعا، توبہ و استغفار کے ذریعہ قلب و ذہن کی گندگیاں ایسا دھل گئیں جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہیں تھا، کثرتِ انفاق سے مال کی محبت اور حرص کم ہوگئی جس سے آپ کامیاب ہونے والوں میں شامل ہوگئے۔
یہ دن فسق و فجور کا نہیں:
گناہوں سے توبہ، قرآن سے مضبوط رشتہ ،تقویٰ و پرہیزگاری اور صبر کی دولت جب آپ کو نصیب ہوگئی تو یقیناً آپ عید کی خوشیاں منانے کے حقدار ہیں، آپ دوستوں و احباب کے ساتھ مل کر عید کی خوشیاں منائے اور مسرت و شادمانی کا ترانہ بھی گائے، مگر ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اور جان لیں کہ خوشی سے مسرت ہوکر آج کے دن کوئی غلط کام نہ کر بیٹھیں، یہ دن فسق و فجور کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا دن ہے، یہ دن کافی اہمیت رکھنے والا دن ہے، احادیث میں اس کی بڑی فضیلت اور برتری بیان کی گئی ہے، آج کے دن بے حساب و کتاب مومن بندوں کی مغفرت ہوتی ہے، آج کے دن اس عید کے تماشائی فرشتوں کا ہجوم لگتا ہے، لہٰذا عام دنوں میں بالعموم اور آج کے دن بالخصوص کسی غلطی کا ارتکاب نہ ہونا چاہئے، جو اسلامی تہذیب اسلامی روایت اور دین حنیف کی خلاف ہو، عید ان کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، عید تو ان کی ہے جو خدا کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے۔عید ان کی نہیں جو بہت سی خوشیاں منائیں بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے۔ عید ان کی نہیں جو بن سنور کر ٹھاٹ سے بازاروں میں گھومے، بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے تقویٰ اور خوف خداوندی اختیار کیا۔ عید ان کی نہیں جنہوں نے اپنے مکان میں چراغاں کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو دوزخ کے پل صراط سے گزرنے کا سامان تیار کر لیا،اگر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ہم عید مناتے ہیں تو یہ ہمارے لئے زیادہ بہتر اور مفیدہے، عید تو ہم منائیں گے ہی مگر شریعت کے حکم کے مطابق، اس طرح ہم اس دن کے ہر لمحے کو عبادت بھی بنا سکتے ہیں اور دنیاوی لطف و مسرت کے ساتھ اخروی اجر و ثواب کے بھی مستحق ہوسکتے ہیں۔
عید کیسے منائیں:
ظاہر ہے عید الفطر کا دن ہماری زندگی کا سب سے اہم دن ہے اور یہ سال میں ایک بار آتا ہے،اس لئے ہماری کوشش ہو کہ اس مبارک دن کو احکام خداوندی کی پاسداری کرتے ہوئے لہو و لعب سے پاک ہوکر دن گزارے، اہل و عیال کے ضروریات کی چیزوں پر فراخ دلی سے خرچ کریں، نہا دھو کر جو کپڑا سب سے اچھا ہو اسے زیب تن کریں، خوشبو لگائیں، اچھا سے اچھا پہنیں، کھائیں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب سے وسیع قلب اور خوش دلی سے ملیں، عید کے دن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت متبرک والا دن قرار دیا ہے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عید کے دن ہمارے گھر میں کچھ بچیاں جنگ بعاث سے متعلق کچھ اشعار گارہی تھیں، اسی دوران حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اللہ کے رسول کے گھر میں کیا گایا جارہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس وقت ہماری کروٹ لئے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’اے ابوبکرؓ! انہیں گانے دو،ہر قوم کے لئے تہوار کا ایک دن ہوتا ہے، آج ہمارے لئے عید کا دن ہے (بخاری:۱/۳۲۴،رقم حدیث:۹۰۹،مسلم: ۲/۶۰۷،رقم حدیث:۸۹۲)، دوسری جگہ روایت ہے کہ عید کے دن کچھ حبشی بازی گر کرتب دکھلا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی وہ کرتب دیکھے اور حضرت عائشہؓ کو بھی اپنی آڑ میں کھڑا کرکے دکھلائے، جب حضرت عائشہ یہ تماشہ دیکھتے دیکھتے تھک گئیں تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اچھا اب چلو‘‘ (مسلم:۲/۶۰۷،رقم حدیث:۸۹۲)۔
عید کردار سازی کی دعوت دیتی ہے:
عید الفطر دراصل رمضان المبارک کے مہینہ کی سخت آزمائش اور عبادت و ریاضت کے صلہ میں ملنے والے انعام کا شکریہ ادا کرنے کے خوشی میں منائی جاتی ہے، عید الفطر کا یہ تہوار وسیع پیمانہ پر اخوت و محبت، بھائی چارگی، اتحاد و اتفاق اور میل ملاپ کے جذبات کو جنم دیتی ہے، عید اصل میں کردار سازی کی دعوت دیتی ہے اور حقوق انسانی کی ادائیگی کا سبق سکھاتی ہے، رمضان کے روزے ایک تربیتی نصاب ہیں تزکیۂ نفس کا، اگر مسلمان رمضان شریف کے بعد بھی اوصافِ حمیدہ پر قائم رہیں جن کی اس مقدس مہینہ میں ترغیب دی جاتی ہے تو یہ مثالی انسان بن سکتے ہیں۔ عید الفطر ہمیں حقیقت کی یاد بھی دلاتی ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ایک ایسے معاشرہ اور سماج کی تشکیل کرنا ہے جس میں انسان محسن بن کر جئے، اسی طرح ہر فرد نہ یہ کہ صرف خود ظاہری اور پاکیزہ ہے بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی اسی طرح پاکیزہ مکمل حسین اور دلکشی بنائے، یا اپنے برادر وطن کی خدمت کرنا اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اپنی خوشیوں میں شامل کرے۔ اسی طرح عید ہمیں دوستوں سے محبت غیروں سے کرم نواز کا سبق دیتی ہے، جس طرح ایک ماہ عبادت و فرماں برداری کے ساتھ اوقات گزارے ہیں، سال کے بقیہ دن بھی اس تقدس و عظمت سے گزاریں گے، یہی عید الفطر کی روح اور یہی اس کا پیغام ہے۔