اداریہ

غریب طلبا جائیں تو جہاں کہاں؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جموں وکشمیر بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح ہر کسی میدان میں آگے بڑھ رہی ہے چاہئے وہ کھیل کا میدان ہو ، تعلیمی شعبہ ہو یا انفارمیشن ٹیکنالوجی ہو، غرض ہر کسی محاذ پرریاست کچھ کر دکھانے کی دوڑ میں لگی ہے، جو واقعی ایک حوصلہ افزا علامت بھی ہے۔ تاہم اگر ہم ترقی کی اس دوڑ میں صرف اور صرف اپنی انا اور خود غرضی کو ہی ترقی کی کنجی قرار دیں تو وہ نہ صرف ہماری معاشی اوراخلاقی بدحالی بلکہ انسانیت سوز علامت بھی ثابت ہوگی۔ ریاست کا تعلیمی شعبہ کو ہی اگر لیا جائے ہماری ریاست میں سرکاری سکولوں کی خاصی تعداد ہونے کے ساتھ ساتھ پبلک اور نجی تعلیمی ادارے بھی اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ سماج کے کمزور اور غریب طبقوں کےلئے سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ بلک اور نجی سکول پریشانیوں کے سامان بن رہے ہیں۔ اکثر غریب والدین یا تو بچوں کا یونیفارم اور اضافی کتابوں کے عوض بھاری رقومات کے فکر میں پریشان رہتے ہیں یا ٹرانسپورٹ چارچز کے نام سے موٹی موٹی رقمیں دینے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ اب ان غریب اور سماجی طور پسماندہ لوگوں کا سوال یہ بھی ہے کہ ان کے پاس سرکاری سکولوں میں بچوں کا مستقبل نظر آرہا ہے اور نہ پرائیویٹ سکولوں میں اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہیں، اکثر غریب والدین کا سکول ہے کہ سرکاری سکولوں میں ایک تو بچوں کی تعداد قلیل ہوتی ہے اور دوسرا ٹیچر اگر چہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں تاہم سرکاری سکول کے اساتذہ بچوں پر پڑھائی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یہی وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں کے ٹیچر حضرات بھی اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری سکولوں کے بجائے پرائیویٹ سکولوں میں کرانے میں ہی دم لیتے ۔ سماجی طور کمزور طبقوں کاخاص شکایت یہ کہ سرکاری سکولوں میں نا تسلی بخش تعلیمی نظام ہونے کی وجہ سے وہ بھی اپنے بچوں کا داخلہ پرائیویٹ سکولوں میں کرانا چاہتے ہیں مگر بد قسمتی کی وجہ یہ کہ ان اداروں میں بھی سماجی طور پسماندہ، معصوم اور لاچار والدین طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہوئے بنا نہیں رہ سکتے ۔ کہیں پر بچوں کو یونیفارم اور اضافی کتابوں کے عوض بھاری رقومات کا تقاضا اور کہیں پر ٹرانسپورٹ چارچز کے حوالے سے موٹی موٹی رقمیں ادا کرنے،جو کہ انہیں دینے کی ہرگزسکت نہیں ہوتا ۔ غریب والدین نہ ٹیوشن فیس جو بے لگام گھوڑے کی طرح کوئی بھی سمت اختیار کرسکتا ہے ادا کرنے کے بھی طاقت نہیں رکھتے اور اس طرح یہ غریب و کمزور والدین بے یارو مددگار یہ سب کچھ سہنے پر مجبورہوتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا کہ کہیں کہیں پر یہی غریب والدین نے اگر کئی ایک جگہ پر آواز اٹھائی بھی تو اسے اپنے بچے کو سکولوں سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی اور نتیجتاً وہ اپنے بچے کے مستقل کے فکر میں پڑے رہتے ہیں ۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ یہی سماجی طور کمزور یا غریب والدین کے بچے پڑھنے لکھنے میں کافی ذہین ہوتے ہیں مگر بد قسمتی کے شکار یہ بچے محدود وسائیل ہونے کے سبب دشواریوں کا سامنا کر رہا ہے، اور اپنی پڑھی اس طرح چالو نہیں رکھ سکتے جس طرح کی ان کا مستقبل اچھی طرح سے سنوار سکتے ہیں، بہر حال جو بھی ہے ہم یہاں پر یہی کہہ سکتے ہیں کہ غریب طلبا جائیں تو جائیں کہاں؟