اداریہ

غیر سنجیدہ فیصلوں کی گنجائش نہیں

امسال ابتدا میں ہی کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کو مبینہ طور اغوا کرکے ایک مندر میں رکھا گیا جہاں اس کا کئی روز تک پہلے ریپ اور پھر قتل کیا گیا ۔ جموں کے ایک وزیرسمیت کئی ہندو بنیاد پرستوں نے اس کیس کی ریاستی پولیس کے ذریعے تحقیقات کرنے کی مخالفت کی اور کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت کی حکومت نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ جس کے نتیجے میں بی جے پی کے کابینہ وزیروں کا ردوبدل اور بعد میں حکومت برخاست کی گئی ۔اس کے بعد ریاست پر گورنر راج نافذ ہے ۔ ریاستی گورنر نے حال ہی میں کئی اہم عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائیں ۔ اس دوران کٹھوعہ ریپ کیس میں ملزم کے وکیل اسیم سہانی کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر بھی تعینات کیا گیا ۔ اس تقرری سے تمام حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح سے ریاست کے کئی حلقوں میں ایک بار پھر کٹھوعہ معاملہ ذہن میں گونجنے لگا۔
بہر حال ریاست میں آج نہیں تو کل، سرکار بن کر رہے گی۔ مگر ریاست میں حالات کافی نازک موڑ پر ہیں اور کئی معاملات پر سرکار کی غیر سنجیدگی اور غلط فیصلوں سے ریاست میں خرمن امن کو آگ لگ سکتی ہے، جسے بچانا نہ صرف مشکل ہو گا بلکہ نہ جانے یہ کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، کٹھوعہ کیس بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے جس پر سب خاص طور سے مسلمان طبقہ نظریں جمائے ہوئے ہیں، بی جے پی اپنے منشور سے ایک ہند نواز پارٹی ہے، ہر پارٹی اپنی آئیڈیالوجی سے جانی جاتی ہے جس کی بنا پر اس کا قیام وجود میں لایا جاتا ہے، مگر اس طرح کے عصمت دری معاملات پر کوئی سیاست نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ اس سے منافرت کو ہوا لگتی ہے اور پہلے ہی مشکل ترین دور سے گزر رہی ریاست جموں وکشمیر میں مذہب کی بنیاد پر منافرت کو ہوا دینے سے حالات مزید پیچیدہ ہونگے۔ موجودہ گورنر این این ووہرا ایک اچھے منتظم کی شناخت رکھتے ہیں،مگر ایسے متنازعہ اور غیر حساس فیصلے سے ان کی شناخت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کیا ریاست میں کوئی دوسرا ایسا وکیل نہیں تھا جسے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے اس عہدے پر تعینات کیا جاسکتا تھا۔ عوام میں کئی طرح کے خدشات ابھر رہے ہیں جن کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسے نازک موڑ پر ایسے غیر سنجیدہ فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔