خبریں

فوجی تسلط کے بل پر کشمیر مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا

فوجی تسلط کے بل پر کشمیر مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا

حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے سرینگرکی تاریخی جامع مسجدواقع شہرخاص میں جمعہ نماز کی ادائیگی کیلئے جمع ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا۔انہوں نے اعلان کیاکہ بھارت کشمیرسے متعلق فوجی پالیسی ترک کردے تومزاحمتی لیڈرشپ کشمیرمسئلے کے حل سے متعلق مذاکراتی عمل کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسکاحصہ بھی بننے کوتیارہے۔حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ نے کہا کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حوالے سے جو واضح موقف اختیار کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی حوصلہ افزا ء ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمیشہ اس بات کے متمنی رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے تعلقات بہتر بنانے چاہیں اور مسئلہ کشمیر سمیت جملہ حل طلب مسائل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ طاقت، قوت، اور فوجی تسلط کے بل پر اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور ہندوستان کی سیاسی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ جوہری مملکتوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اپنے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل کے بارے میں مسئلہ کشمیر سمیت جملہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہئے ۔
میرواعظ نے پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی بھر پور حمایت اور جموں وکشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں پر تشویش کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل تلاش کرنے کے بجائے اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے مسئلہ سے جڑے سبھی فریقین کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ میرواعظ نے کہا کہ او آئی سی کے حالیہ وزرائے خارجہ اجلاس جو اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر منعقد ہوا میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو قراردادیں پاس کی ہیں اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اگر چہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کیلئے مجھے باضابطہ دعوت نامہ ملا تھا مگر حکومت ہند کی جانب سے سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کی وجہ سے مذکورہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔
میرواعظ محمدعمرفاروق نے کشمیری سماج میں پھیل رہی برائیوں ، بدعات، رسومات بد اور اسراف و فضول وخرچی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو پوری کشمیری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عنقریب دینی ،سماجی اور اصلاحی تنظیموں کا ایک اجلاس بلایا جائیگا جس میں سماجی انحطاط کے سدباب کیلئے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائیگا۔میرواعظ نے کہا کہ ان مذکورہ سماجی برائیوں کیخلاف ’سماجی اصلاحاتی مہم‘ چلائی جائیگی جس میں تمام علاقوں کی مساجد اور اصلاحی کمیٹیوں کا تعاون طلب کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اعلانات اور اقدامات کے منتظر رہنے کے بجائے سماجی بدعات کے خاتمے کے حوالے سے ہم پر جو اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
میرواعظ محمد عمر فاروق نے میانمار کے روہنگیائی مسلمانوں کی حالت زار کو پوری ملت اور انسانی قدروں پر یقین رکھنے والے لوگوں کیلئے ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو زبردستی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اگرچہ عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے روہنگیائی مسلمانوں کیخلاف ہو رہے مظالم پر شدید احتجاج کیا مگر اس مسئلہ کے حوالے سے حکومت ہندوستان کا رویہ دہرے معیار کا عکاس ہے ۔ میرواعظ نے روہنگیائی مسلمانوں کے حوالے سے حکومت ہندوستان کی پالیسی کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وہ روہنگیائی رفیوجیوں کو غیر قانونی تارکین وطن کہہ رہے ہیں اور ان کو اپنے ملک کے مفاد کیخلاف خطرہ سمجھ رہے ہیں مگر دوسری طرف چکما اور تبت سے آئے تارکین وطن کو پناہ گزین کے نام سے پکارتے ہیں اور انہیں سرکاری سطح پر امداد بھی فراہم کی جاتی ہے جبکہ دونوں طرح کے لوگ مصیبت زدہ ہے تو پھر ان دونوں کے حوالے سے امتیازی پالیسی کیوں؟۔انہوں نے روہنگیائی مسلمانوں کے تئیں حکومت ہندوستان کے دوہرے معیار کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مصیبت زدہ لوگوں کو دہشت گردی سے جوڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور محض مذہب کو بنیاد بنا کر ان لوگوں کے ساتھ نا روا سلوک انسانیت اور انسانی قدروں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے حکومت ہندوستان کو ان رفیوجیوں کے تئیں انسانی ہمدردیوں سے عبارت رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ وہ بحفاظت اپنے وطن واپس جاسکیں۔