اِسلا میات

قائد انقلاب اور تاثیر قرآن

محمد مظفر خان
اللہ سبحان و تعالیٰ اور اُس کی صفات لامحدود ہیں۔ اُس کی ربونیت کی نئی شان ہے اور ہر شان حیرت انگیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنا تعارف جس صفت کے ذریعے کرایا وہ سورہ فاتحہ کا پہلا جملہ ہے یعنی الحمد اللہ رب العالمین یعنی ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو پوری کائنات کا پالنے والا ہے۔ رب کا لفظ اس کے معنی ہیں پالنا۔ پرورش کرنے والا۔ فرمانروا۔ حاکم ۔ پالنہار۔ دُنیا کی ہر چیز اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ سب کا رزاق ہے وہ اپنی مخلوق کی ربوبیت پرورش اور کفالت بھی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پیغمبر مختلف قوموں کے لئے بھیجے کہ وہ رب العالمین کا پیغام حق اس کے بندوں تک پہنچایں۔ پیغمبروں کا یہ سلسلہ ہر دور اور ہر قوم میں مسلسل جاری رہا۔ سرورکائنات حضورﷺ نبوت کی آخری اینٹ اور رسالت کے آخری پھول تھے اور قیامت تک نبوت کا سلسلہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو پسند کیا اور فرمایا’’ آج کے دن ہم نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی۔ اور تمہارے لئے دین کو پسند کر لیا، قائد انقلاب جناب محمد رسول اللہؐ قیادت تک انسانیت کے قائد اور ہادی قرار دئیے گئے۔
رب کائنات کا انسانیت پر بڑا احسان ہے کہ اُس نے سرورکائنات حضور ﷺ کو عام دُنیا کے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجا۔ جبکہ پوری دُنیا توحید کے تصور سے خالی تھی۔ حضورﷺ رحمت بنا کر بھیجے گئے وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ جنہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی اور رہبری فرمائی۔
چند ر بھان خیال ( دہلی) نے حضورﷺ کی سیرت پاک کا عنوان’’ لولاک‘‘ ہے۔ پروفیسر خلیل احمد بشیر صدیقی رقمطراز ہیں۔ لفظ’’ لولاک‘‘ حدیث قدسی کا معروف لفظ ہے۔ جس کا ذکر مختلف حدیثوں کے حوالے سے آیا ہے۔ حدیث قدسی اس طرح ہے، لولاک لما خلقت الافلاک حدیث کا ابتدائی لفظ’’ لولاک‘‘ تین عربی الفاظ کا مرکب ہے۔ لو+لا+ک لو بمعنی اگر لا بمعنی نہیں اور ’’ک‘‘ بمعنی تو یعنی اگر تو نہیں ہوتا ( یاتم کو ( رسول کریمؐ) پیدا کرنا نہ ہوتا تو میں (اللہ تعالیٰ) افلاک کی تخلیق نہ کرتا۔
غار حرا میں جب حضرت جبرائیل ؑ رسالت لے کر آئے تو حضور ؐ گھرا گئے۔ جبرائیل سے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم بندے کو علم کا سرچشمہ بنا کر کھڑا کیا۔ اس وقت سرزمین عرب جہالت کے اندھیروں میں اسیر تھی۔ یونیورسٹیاں آپؐ کے علوم کا احاطہ کرنے سے قاصر رہ گئیں۔ ہزاروں اور لاکھوں کتابوں پر مشتمل لائبریریاں آپؐ کے علوم کی فصاحت و تشریح کیلئے وجود میں آئیں اور لوگ آپؐ کی باتوں کو جمع کر کے علامہ دہر بن گئے۔
سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے۔ترجمہ: اے پیغمبر یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ گرتم تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد سے چھٹ جاتے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مزید تعلیم وفود درگذر دیتے ہوئے فرمایا’’ پس ان کے قصور معاف کردو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور سورہ الانبیاء میں ارشاد فرمایا’’ اور ہم نے تمہیں سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے( سورہ انبیائ) حضورؐ رحمت بن کر آئے تھے۔ جب آ پؐ نے دعوت دین شروع کی مکہ کے لوگوں نے آپؐ کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ نماز پڑھنے آپؐ کے جسم ناز پر نجاست لا کر انڈیل دیتے۔ آپ ؐ کے خاندان کو بستی سے باہر ایک پہاڑی درہ میں بے یارو مدد گار تین سال تک حقار میں رکھا۔ جب آپؐ چلنے لگے تو آپ ؐ پر پتھر برساتے۔ گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے۔ جب مکہ فتح ہوا تو آپؐ نے کوئی انتقام نہیں لیا۔ آپؐ نے اُن لوگوں سے پوچھا قریش کے لوگو! بتائو اب میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرونگا۔ انہوں نے کہا آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کی اولاد ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ادھبوافانتم الطلقاء ’’ جائو تم سب آزاد ہو‘‘ آج تک دُنیا میں کسی نے اتنا بڑا دعویٰ نہیں کیا کہ جتنا بڑا دعویٰ حضور اکرم ؐ نے کیا۔ آپؐ رحمت العالمین اور خاتم النبین ہیں۔ آپؐ ساری دنیا کے طرف ہادی بنا کر بھیجے گئے۔ اپنے اس عظیم دعوے کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو قرآن حکیم عطا فرمایا اور اس کتاب نے ساری دنیا کو چیلنج کیا اور آج تک کسی کو بولنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ قرآن حکیم عربی زبان میں نازل ہوا۔ آج تک بلا کسی تحریف کے محفوظ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت اور ضمانت کا ذمہ لیا ہے۔ سورہ حجر میں ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ: ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
رسول کریم ؐ کی ایک حدیث ہے ’’پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزات دیئے جن کو دیکھ کر لوگ ایمان لائے اور مجھ کو جو معجزہ عطا ہوا وہ قرآن ہے۔
ایک حیرت انگیز دعویٰ جو انسانی تاریخ میں کسی بھی مصنف نے نہیں کیا( سورہ بقرہ ۲۳) میں ارشاد ہے ’’ اگر اس کلام کے بارے میں تمہیں شبہ ہے تو اس کے جیسی ایک سورہ لکھ کر لے آئو اور خدا کے سوا اپنے تمام شہداء کو بھی بلالو۔ اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو منکرین مذہب کی ایک جماعت نے دیکھا کہ قرآن لوگوں کو بڑی شدت سے متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے ابن المقفع جو ایک زبردست عالم تھا قرآن کے جواب میں ایک کتاب تیار کرنے کو کہا۔ ابن مقفع کو اپنے اوپر اعتماد تھا وہ راضی ہوگیا۔ نصف مدت گذر گئی یعنی چھ ماہ ساتھیوں نے چاہا کہ اب تک کیا کام ہوا ہے جب وہ اس کے پاس گئے تو دیکھا قلم اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس ایرانی ادیب کے پاس پھاڑے ہوئے کاغذات کا انبار ہے۔ چنانچہ نا امید اور شرمندہ ہو کر وہ اس خدمت سے دست بردار ہو گیا۔
حضور ؐ کے اخلاق سے بڑے بڑے زبان اور خطیبوں، شاعروں، شعلہ باز مقرروں کی زبانیں کنگ ہو گئیں۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپؐ نے پہلی بار کوہ صفا میں لوگوں کو جمع کر کے اپنی دعوت پیش کی اور حاضرین سے سوال کیا’’ تمہارا میرے متعلق کیا خیال ہے۔ اتفاق سے آواز آئی۔ ’’ تمہارے اندر ہم نے سچائی کے سوا کوئی اور بات نہیں دیکھی ہے۔
آپؐ کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہو کر بہت سی شخصیت نے اسلام قبول کیا ابوجہل جو آپؐ کا چچا تھا۔ وہ کہتا تھا’’ محمدؐ! میں یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹے ہو۔ مگر جس چیز کی تم تبلیغ کر رہے ہو وہ صحیح نہیں ہے اس کو میں غلط سمجھتا ہوں‘‘
حبش کے بادشاہ نجاشی نے جب کلام پاک سنا وہ روتا رہا۔ اس کی آنسوئوں تر ہو گئی۔ تو وہ کہنے لگا یقینا یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰ ؑ لائے تھے دونوں ایک ہی سر چشمے سے نکلے ہیں۔
یمن کے حماد ازوی جو مکہ آیا جو مشہور جادو گر تھا کہ ریش سے کہا’’ اگر تم کہو تو میں محمدؐ کا علاج کر سکتا ہوں‘‘
وہ حضورؐ کے پاس آیا اور کہا محمد ؐ آئو میں تمہیں اپنا منتر سنائو‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ پہلے مجھ سے سُن لو‘‘
بالآخر وہ بول پڑا۔ میں نے ساحر، شاعر، کاہن دیکھے ہیں۔ یہ کلمات اتھاہ سمندرہیں۔ اے محمدؐ ہاتھ بڑھائے میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ طفیل بن عمرو دوسی مشہور شاعر تھا۔ لوگوں نے مکہ میں اس کے خوب کان بھرے اور کہا محمدؐ سے بچ کر رہنا۔ جب حضور ؐ نے قرآن کا کچھ حصہ سنایا۔ تو وہ بہت متاثر ہوا۔ اور اسی وقت ایمان لایا اور اپنے باپ اور بیوی کو مسلمان کہا۔ مشہور شاعر خالد بن عقبہ قرآن سن کر بے ہوش ہو گئے۔ حالت سنبھلی تو وہ پکار اُٹھا’’بخدا اس کلام میں عجیب شیرینی ہے۔
مدینہ کے مشہور سرداراسعدب بم زرارہ حضورؐ کے مبلغ حضرت مصعب ؓ بن عمیر کی تبلیغی سرگرمیوں سے تنگ آکر ان کا قصہ ختم کرنے کے لئے گھر سے مسلح ہو کر نکلے۔ انہوں نے حضرت مصعب ؓ سے چند قرآنی آیات سنیں۔ ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔
قیدیوں میں حضرت عثمان بن مفعون ؓ نے حضورؐ سے قرآنی آیات سنی تو فوراً حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔
حضرت اُم طلحہ انصاری ؓ نے جب آل عمران ۹۲ کی آیت سُنی ان پر اتنا اثر ہوا۔ ان کے پاس ایک عمدہ باغ تھا۔ جو انہیں بہت پسند تھا۔ اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔
عبداللہ بن سلام یہود مدینہ کے دینی پیشوا اور بڑے عالم فاضل بزرگ تھے۔ ایک دن انہوں نے حضورؐ کو وصیت فرماتے سُنا’’ اے لوگو! سب کو سلام کیا کرو اور سب کو کھانا کھلائو۔ قرابت داروں سے اچھا برتائو کیا کرو اوررات کو جب لوگ سوجایا کریں تو تم نماز پڑھا کرو۔ حضورؐ کو قدیم صحایف کی پیشنگویوں کا مصدق قرار دیا اور ایمان لائے ۔ حضورؐ نہایت نرم دل اور سر چشمہ رحمت تھے۔ ایک صحابی عبداللہ بن حمسا ؓ کہتے ہیں۔ میں نے حضورؐ سے ایک سودا کیا اور کچھ دیر بعد میں ملنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔ پھر بھول گیا۔ تیسرے دن میرا گذار اُدھر سے ہوا۔ تو دیکھا آپؐ اسی جگہ میرے انتظار میں تشریف فرما تھے۔ مجھے دیکھ کر اتنا ہی فرمایا’’ تم نے مجھے تکلیف دی میں تین دن سے اسی جگہ تمہارے انتظارمیں ہوں‘‘ ہندہ زوجہ ابو سفیان نے میدان جنگ میں حضورؐ کے پیارے چچا۔ حضرت امیر حمزہ ؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا اور ان کے جسم کے اعضاء کاٹ کاٹ کر اپنے گلے کا ہار بنایا تھا۔ اسکو بھی معاف کر دیا۔
وحشی جس نے حضرت امیر حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا اُسے بھی معاف کر دیا۔
ابو سفیان نے اسلام کے دور میں مسلمانوں پر بدترین ظالم ڈھائے لڑائیوں میں کفار کا سردار اور سرغنہ رہا اُسے بھی معافی دی۔
قرآن حکیم نے حضور ؐ کا اسوہ حسنہ قرار دیا: تم لوگوں کے لئے اللہ کا رسول بہترین نمونہ ہے۔ پہلا منافق عبداللہ بن ابی بن سلول جنگ بدر میں مسلمان بنتا تھا اور ادھر یہودیوں سے سازباز کرتا تھا۔ مسلمانوں کو نقصان اور ضرر پہنچانے کی فکر میں مشغول رہتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو سرورکائنات ؐ نے اپنے کرتے کا کفن کر کے دفانایا۔
حضرت عمر ؓ خیال میں ڈوبے چلے جارہے تھے۔ راستے میں نعیم ؓ مل گئے۔ پوچھا شمیشر عریاں کیوں ہے۔ْ کڑک کر بولے سر لینے چلا ہوں محمدؐ کا نعیم ؓ بولے تمہارے بین اور بہنوئی ایمان لا چکے ہیں۔ حضرت عمر ؓ بہن کے گھر داخل ہوئے اور کہا تم دونوں ایمان لاچکے ہو۔ یہ کہہ کر بہن اور بہنوئی کو خوب مارا۔میں نے کہا ہماری تکہ یوٹی کر دئے۔ ہمیں ایمان کی دولت ملی ہے۔ اس کو کھونہیں سکتے۔ عمر بولے ہمیں وہ قرآنی آیات دکھا دو۔ بہن نے کہا۔ قرآں پاک کو تم ہاتھ نہیں لگا سکتے ہو۔ حضرت عمر ؓ نے غسل فرمایا۔ آیت سبح اللہ زیر تلاوت تھی تلاوت کرتے جب امنو باللہ پر پہنچے پکار اُٹھے نبی بر حق ہیں۔ حضورؐ اسدن ارقم ؓ کے یہاں تشریف فرماتے تھے۔ آپؐ داخل ہوئے حضورؐ نے فرمایا’’ کس ارادے سے آئے ہو۔ عمر ؓ نے فرمایا’’ زیارت کرنے آیا ہوں۔ ادب سے سردار توحید پر اب دھرنے آیا ہو) کلیجہ شہادت پڑھا زبان سے لا الہ اللہ ہوا جاری۔ لبوں کو کلمہ توحید کے الفاظ نے چومے جب حضرت عمر ؓ ایمان لائے تو یہ آیت نازل ہوئی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین۔ حضرت عمر ؓ کا ایمان لانابی تاثیر قرآن کا ہی معجزہ ہے۔
سرورکائنات کا زبردست ہتھیار اللہ کا کلام مجید تھا۔ جس نے تمام انسانی مسائل کو حل کر دیا اور پوری انسانیت کو ۲۳ سال کے عرصہ میں اعتدال کے مقام پر لا کر کھڑا کیا۔ آپ ؐ کی تعلیم سارے انسانوں کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ قائد انقلاب جناب محمد رسول اللہؐ قیامت تک کے لئے ہادی اور رہنما ہیں ۔ قرآن حکیم نے خود اس کی گواہی دی ہے ۔ اے محمدؐ یقینا آپ ؐ اخلاق کے بڑے درجے پر فائز ہیں۔