اداریہ

قبل از وقت کی پیش گوئی کرنا مشکل

پاکستان میں عام چنائو میں برتری حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ اور شہرت یا فتہ کرکٹ کھلاڑی عمران خان نے کشمیر سے متعلق ایک خاص بیان دے کر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کور ایشو ہے۔ مسئلے کے حل کے تئیں انہوں نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ بھارت اگر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو پاکستان دو قدم بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ ان باتوں کا اظہار اگرچہ عمران خان نے چنائو نتائج آنے کے فوراً بعد کیا تاہم بیان کے ردعمل میں بھارتی میڈیا نے عمران خان پر سخت تنقید کیا۔ آپ کو یاد دلائیں کہ عمران خان کو عالمی سطح پر اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ورلڈ کرکٹ میں پاکستان کی قیادت کی اور پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہا ۔ اس دوران ان کی شہرت میں مزید اضافہ پاکستان میں تعمیر کردہ کینسر مریضوں کے علاج معالجے کے لئے وہ ہسپتال بناجو برصغیر میں اپنی نوعیت کا منفرد ہسپتال مانا جاتا ہے۔ آج ایک بار پھرعمران کی شہرت میں اضافہ ہوا جب ان کی پارٹی نے پاکستان کے عام انتخابات میں واضح برتری حاصل کر کے 116 نشستوں پر جیت درج کی ہے ۔ خان نے انتخابات میں برتری حاصل کرنے کے پہلے ہی تقریر میں ووٹروں کا شکریہ ادا کر کے حکومت کی پالیسی پر روشنی واضع کی ہے۔ اس دوران بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ویسے بھی عمران خان بھارت میں پرو کشمیری مانے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُن کے بیان کہ’ ہندوپاک کے درمیان کشمیر کور ایشو ہے ‘کے بعد بھارتی میڈیا نے اُن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان کا بھی ماننا ہے کہ کشمیر مسئلے کو حل کئے بغیر امن قائم کرنا مشکل ہے، ادھر ریاست میں کئی مذہبی جماعتوں کے علاوہ حریت چیرمینوںسید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے عمران خان کے کشمیر کے تئیں بیان پر شکریہ کیا ہے ، کئی حلقوں میں اس بات کا زبردست چرچا ہے کہ عمران خان کی الیکشن میں جیت بڑی اہم مانی جاتی ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جیت وہاں کے فوج کی جیت ہے ۔ اور اس طرح سے کئی حلقے عمران خان کی کامیابی کو فوج کی کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں۔ بہر حال جو بھی ہو عمران خان کی کامیابی کے بعد اُن کے وزیر اعظم بننے پر نظریں ٹکی ہوئی ہیں اور وزیراعظم بننے کے بعد سب کی نظریں زیادہ تر ان کی خارجہ پالیسی پر ہی مرکوز ہوں گی۔ بہر حال عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد کیا ہوگا؟ اس کا اندیشہ پہلے سے ہی کرنا مشکل ہے کیونکہ وقت کروٹ بدل سکتا ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے قبل از وقت پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔